Pakistan China and Taliban

پاک افغان تعلقات: ارمچی مذاکرات طالبان حکومت کے لیے کس قدر اہم ہیں؟

·


رات کابل میں طالبان قیادت کے انتہائی قریبی حلقوں میں شمار ہونے والے ایک افغان صحافی سے ارمچی (چین) میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے تناظر میں سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

مذکورہ صحافی نہ صرف طالبان کی ایک اہم اتحادی جماعت کے مرکزی رہنما کے فرزند ہیں۔ وہ بین الاقوامی اور مقامی میڈیا پر طالبان کی پالیسیوں کا بھرپور دفاع بھی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ میرا تعلق سنہ 2014 سے ہے جب ہم کراچی میں ایک تربیتی ورکشاپ میں شریک ہوئے تھے۔

بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ اسلام آباد میں بھی گزارا، جہاں ان کی فیملی مقیم رہی اور ان کی ہمشیرہ (ڈاکٹر) ایک نجی ہسپتال سے وابستہ رہیں۔ اس طویل رفاقت اور خاندانی مراسم کی بنیاد پر ہماری گفتگو ہمیشہ تکلف سے پاک اور دو ٹوک ہوتی ہے۔

ساری گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ جب سے طالبان نے کابل کا اقتدار سنبھالا ہے، پاکستان کے حوالے سے ان کی داخلی پالیسی میں کبھی یکسوئی نہیں رہی۔ طالبان کے اندر ایک بڑی اکثریت پاکستان کے حوالے سے نہ صرف نرم گوشہ رکھتی ہے بلکہ وہ پاکستان کی کھل کر حمایت بھی کرتی ہے۔ یہ حلقہ افغانستان کی خارجہ پالیسی میں بھارت کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ پر شدید تحفظات رکھتا ہے۔

تاہم، صورتحال کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اور ان کا مخصوص گروپ اس وقت قندھار اور کابل کے اُن بااثر تاجروں اور ٹھیکیداروں کے زیرِ اثر ہے جن کے کاروباری مفادات حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دور سے بھارت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ملا ہیبت اللہ پر یہ تاثر پختہ کر دیا گیا ہے کہ یہی تاجر طبقہ افغانستان کی معیشت کی شہ رگ ہے۔

ابتدائی طور پر اس تاجر طبقے کی پاکستان سے مخالفت کی بنیاد خالصتاً کاروباری مفادات تھے، کیونکہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستانی مصنوعات افغان مارکیٹ پر حاوی ہو جائیں، اور ان کی بھارتی سپلائی لائن متاثر ہو۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے انہی تاجروں کے ذریعے ملا ہیبت اللہ گروپ تک رسائی حاصل کی اور ایک منظم پاکستان مخالف لابی تشکیل دینے میں کامیاب ہو گیا۔

اسی ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی ٹی پی (TTP) اور بی ایل اے (BLA) کے بھارتی حمایت یافتہ سہولت کاروں کو بھی کھل کر کھیلنے کا موقع ملا۔

مذکورہ صحافی کے مطابق، پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات جس تیزی سے تنزلی کا شکار ہوئے، اس کا اندازہ شاید خود ملا ہیبت اللہ گروپ کو بھی نہ تھا۔ یہاں اصل مسئلہ حکمتِ عملی کی غلطی اور نتائج کے غلط ادراک کا ہے، جس کی وجہ سے حالات تیزی سے کنٹرول سے باہر ہوتے چلے گئے۔ دوسری جانب پاکستان نے بھی اس بار ماضی کے برعکس کسی رعایت یا لچک کا مظاہرہ نہیں کیا، جس کی افغان قیادت کو امید نہیں تھی۔

اس وقت افغانستان کے اندرونی حالات انتہائی ابتر ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اسرائیل کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے ادویات سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا کر دی ہے۔ افغانستان کی برآمدات بری طرح متاثر ہیں اور فی الوقت انڈیا کی جانب سے فراہم کردہ فضائی کارگو (Air Cargo) کی سہولت انتہائی محدود اور مہنگی ہے، جبکہ جیٹ فیول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے یہ راستہ برقرار رہنا بھی غیر یقینی ہے۔ وسطی ایشیا کے ذریعے ترکیہ تک کا زمینی راستہ بھی طوالت اور اخراجات کی وجہ سے غیر منافع بخش ہے۔

اس وقت افغانستان کے عام آدمی سے لے کر قیادت تک میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی خواہش بہت شدت سے موجود ہے، اور اس کے لیے عملی کوششیں بھی جاری ہیں۔

تاہم، بھارت نواز گروپ، جسے افغان میڈیا میں بہت نمایاں کوریج ملتی ہے، بدستور رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھارت کے ایک منظم ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی معاونت سے ایسا تاثر قائم کیا جاتا ہے، گویا پورا افغانستان پاکستان دشمنی پر تلا ہوا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

ایک بڑا فیکٹر سابقہ حکومتوں کی باقیات بھی ہیں، وہ اس منفی مہم میں پیش پیش ہیں، اُن کی کوشش ہے کہ افغانستان میں حالات کو اس نہج پر لے جایا جائے جہاں عوام سول نافرمانی پر آمادہ ہو جائیں ، اور یوں طالبان کے اقتدار کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

ان تمام تر چیلنجز کے باوجود، چین کے شہر ارمچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات سے افغانستان میں بھی بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ افغانستان کا عام شہری اس وقت جن معاشی مشکلات کا شکار ہے، ان کا واحد حل پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور سرحدی گزرگاہوں کی ہموار آمد و رفت میں مضمر ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک پائیدار امن اور معاشی استحکام کی طرف قدم بڑھائیں۔

اور آخر میں یہ خبر کہ ارمچی میں جاری پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت کی اطلاع ہے۔

افغان طالبان نے قابل اعتبار اور تحریری یقین دہانیاں فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کی حمایت یا اُنہیں پناہ گاہ فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب پاکستان طالبان کے مطالبے پر یقین دہانی کرانے پر تیار ہوا ہے کہ وہ تجارت اور کاروبار کے سرحدی راستے بند نہیں کرے گا۔ تاہم اس کے لیے طالبان کو سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔

چین معاہدات پر عمل درآمد اور سیکیورٹی خدشات کا جائزہ لینے اور دونوں جوانب کی مدد کے لیے ایک تیسرے غیرجانبدار فریق کے طور پر کام کرے گا۔

افغان طالبان کا پانچ رکنی وفد گزشتہ روز مذاکرات کے لیے ارمچی پہنچا تھا، جہاں پاکستان کی جانب سے وزرت خارجہ کے حکام نے مذاکرات میں شرکت کی ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں