سشی تھرور
ستر سالہ سشی تھرور ادیب اور ناول نگار ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت میں انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر مملکت رہے ہیں۔ قبل ازیں وہ اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ پھر انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بننے کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن جنوبی کوریا کے بانی کی مون کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔
آئیے! ذیل میں ان کا تازہ ترین مضمون پڑھتے ہیں جو اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات سے قبل بروز جمعرات روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا۔
مغربی ایشیا کی غیر مستحکم جغرافیائی سیاست کے اسٹیج پر کہانی نے ایک غیر متوقع موڑ لیا ہے۔ دہائیوں تک واشنگٹن اور تہران کے اقتدار کے ایوان باہمی بدگمانی سے بھرے رہے، ایک ایسی خلیج سے جدا جو روایتی سفارت کاری کبھی پاٹ نہ سکی۔ مگر اب، جب 2026 کا ایران امریکہ تنازع اپنے عروج کو پہنچ رہا ہے، سب سے اہم سفارتی پل جنیوا یا دوحہ میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں تعمیر ہو رہا ہے، جہاں جمعہ کے روز مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔
ایک ’تہذیب کے خاتمے‘ جیسے ممکنہ سانحے کا خطرہ اور اس کے خطے پر مہلک اثرات ایک زیادہ مدبرانہ طرزِ عمل کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کی سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ جو بظاہر واشنگٹن میں تیار کی گئی تھی، یہ تاثر دیتی ہے کہ امریکہ شاید پاکستان کو محض ایک غیر جانبدار ثالث کا چہرہ دے کر جنگ بندی ممکن بنانا چاہتا ہے، تاکہ امریکہ اور ایران براہ راست پسپائی اختیار کرتے ہوئے نظر نہ آئیں۔ لیکن اگر پاکستان صرف ایک سفارتی پردہ بھی ہو، تب بھی بھارت کو اس پیش رفت کو حکمت، علاقائی ذمہ داری اور عالمی جنوب کی آواز کے طور پر اپنے کردار کے نئے عزم کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ پاکستان اچانک ٹرمپ انتظامیہ اور ایرانی قیادت کے لیے مرکزی حیثیت کیوں اختیار کر گیا ہے، اس کے منفرد ’رابطہ جاتی ڈھانچے‘ کو دیکھنا ہوگا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلق اب محض پسِ پردہ افواہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ ٹرمپ کا ذاتی نوعیت کی سفارت کاری کی طرف رجحان خصوصاً طاقتور شخصیات کو ترجیح دینا، منیر میں ایک ہم آہنگی پاتا ہے، جنہیں وہ اپنا ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کہتے ہیں۔ یہ ذاتی قربت، جو 2025 کے آپریشن سندور کے دوران بھارت پاکستان کشیدگی کے بیچ پروان چڑھی، امریکی محکمہ خارجہ کی روایتی بیوروکریسی کو بائی پاس کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس تک ایک تیز رفتار براہ راست راستہ فراہم کرتی ہے۔
اسی دوران، تقریباً چار کروڑ شیعہ آبادی (ایران کے بعد سب سے بڑی) کے باعث اسلام آباد کے پاس ایک ثقافتی اور مسلکی سرمایہ بھی موجود ہے جو تہران میں اثر رکھتا ہے۔ سنی خلیجی ریاستوں کے برعکس جنہیں ایران ایک وجودی حریف کے طور پر دیکھتا ہے یا ترکیہ کے برعکس، جس کی نیٹو رکنیت بداعتمادی کی ایک مستقل دیوار کھڑی کرتی ہے، پاکستان کو ایک ایسے ہمسائے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ہمیشہ دوستانہ نہیں سہی مگر اس تنازع میں حقیقی مفاد رکھتا ہے۔ نو سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے لیے علاقائی جنگ محض جغرافیائی سیاست نہیں بلکہ داخلی بحران بن سکتی ہے، جس میں مہاجرین کا دباؤ اور فرقہ وارانہ کشیدگی شامل ہو سکتی ہے۔
یہی ’اسلام آباد چینل‘ ہے، ایک ایسا راستہ جس نے مبینہ طور پر اسرائیلی اہداف کی فہرستوں پر اثر ڈالا اور پندرہ نکاتی امریکی جنگ بندی تجویز کی ترسیل میں کردار ادا کیا۔ اس کی اہمیت پاکستان کے چین کے ساتھ ’ہر موسم کے‘ اتحاد، سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے، اور عالمِ اسلام کی دوسری بڑی آبادی ہونے کی حیثیت سے مزید بڑھ جاتی ہے جس کا اظہار مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے حالیہ دورۂ اسلام آباد سے بھی ہوتا ہے۔
جیسے جیسے یہ سفارتی کوشش آگے بڑھ رہی ہے، بھارت ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کامیابی کو رد کرنے کی جبلت اب ایک پرانے صفر جمع صفر کے دور کی باقیات ہے، جسے اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کی جغرافیائی سیاست نے بدل دیا ہے۔ اس کے بجائے نئی دہلی کو تین سطحی حکمت عملی اپنانی چاہیے، جس میں علاقائی استحکام کو محدود رقابت پر ترجیح دی جائے۔
اول، بھارت کو عالمی جنوب کی نمائندگی کرتے ہوئے امن کی ایک مضبوط آواز اٹھانی چاہیے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین کی رکاوٹیں پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہیں۔ ان ممالک کی ایک اہم آواز کے طور پر بھارت کو جنگ بندی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کسی فریق کی مذمت کیے بغیر امن کی وکالت کرتے ہوئے بھارت خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
دوم، بھارت کو پاکستانی کوشش کو امن میں دلچسپی رکھنے والے ایک ہمسائے کی نظر سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ ایک ناراض ناقد کی طرح۔ امن عمل کی ناکامی کی خواہش میں کوئی حکمت نہیں۔ اگر ’اسلام آباد چینل‘ واشنگٹن اور تہران کو قریب لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ علاقائی سلامتی کی بڑی کامیابی ہوگی۔ ایران جنگ میں کمی توانائی کی منڈی کو مستحکم کرے گی اور بھارتی مفادات کا تحفظ ہوگا تو پھر اس کی تحقیر کیوں؟
اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو بھارت کو امن کی واپسی کا جشن منانے والوں میں شامل ہونا چاہیے۔ ایک ہمسائے کی کامیاب ثالثی کا اعتراف ہمارے وقار کو کم نہیں کرتا بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایٹمی خطے میں استحکام سب کے مفاد میں ہے۔ اس کا مذاق اڑانا دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی حسد پر مبنی ہے، نہ کہ حقیقت پسندی پر۔
تاہم امن کا راستہ آسان نہیں۔ اگر پاکستانی کوشش ناکام ہو جاتی ہے، چاہے ایرانی ہٹ دھرمی، امریکی داخلی سیاست، اسرائیلی ردعمل یا منصوبے کی کمزوری کی وجہ سے، تو بھارت کو خوشی منانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ناکام ثالثی خطے کے لیے سانحہ ہوگی۔ ایسے میں جشن نہیں بلکہ تجزیہ ہونا چاہیے۔ کیا بھارت کے لیے کوئی متبادل راستہ موجود ہے؟ کیا امریکہ کے ساتھ تعلقات اور ایران کے ساتھ تاریخی روابط ایک نیا سفارتی راستہ کھول سکتے ہیں؟ اگر اسلام آباد عمل رک جاتا ہے تو پیدا ہونے والا خلا خطرناک ہوگا، اور بھارت کو اس خلا کو پر کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے‘ہم نے پہلے ہی کہا تھا‘ کے بجائے ’آئیں کوئی نیا راستہ آزمائیں‘ کے جذبے کے ساتھ۔
2026 کی دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ چین کی حمایت اور اسلامی دنیا کی پشت پناہی کے ساتھ عالمی طاقتوں کا توازن بدل رہا ہے۔ ایسے میں بھارت کو اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے ایک پل بنانے والے کردار کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
اس نازک لمحے میں ’اسلام آباد چینل‘ کو آزمایا جانا چاہیے۔ ہمیں اسے ایک بالغ قوم کی طرح دیکھنا ہوگا، جو جانتی ہے کہ امن کوئی ٹرافی نہیں بلکہ ایک بنیاد ہے جس پر مستقبل تعمیر ہوتا ہے۔ بھارت کی آواز واضح ہونی چاہیے:
ہم امن کے حامی ہیں، چاہے اس کا سہرا کسی کے سر ہو۔










