علی الصبح کی وہ ساعت، جب ہوا میں رات کی ٹھنڈک ابھی باقی ہوتی ہے اور انسان اپنے آپ کو خاصا فلسفی محسوس کرنے لگتا ہے، میں بھی اسی کیفیت میں واک مکمل کر کے گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔ دل میں ایک مختصر سا مگر “دانشورانہ” خیال آیا کہ کیوں نہ ڈونگی پارک کے اندر سے شارٹ کٹ لے لیا جائے۔ آخر زندگی میں کبھی تو انسان کو بہادری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پارک ویسے بھی اپنی ساخت میں کچھ ایسا ہے جیسے زمین نے اچانک سوچ لیا ہو کہ ذرا نیچے کو بیٹھ جائیں۔ یعنی ایک گہرا سا گڑھا، جس میں اترنے کے لیے سیڑھیاں اور نکلنے کے لیے بھی سیڑھیاں، گویا داخلہ بھی آزمائش اور اخراج بھی۔
میں ایک طرف سے سیڑھیاں اتر کر فاتحانہ انداز میں دوسری طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک چھوٹے قد کا کتا، جس کے گلے میں پٹا بھی تھا (یعنی بظاہر مہذب خاندان سے تعلق رکھتا تھا)، مجھ پر یلغار کر بیٹھا۔ میں نے فوراً اپنی “انسانی ذہانت” کا مظاہرہ کیا اور زمین کی طرف جھک کر پتھر اٹھانے کی اداکاری کی، وہی کلاسک ڈرامہ جو ہم بچپن سے کھیلتے آئے ہیں۔
لیکن یہ شاید کسی مقامی تھیٹر کے تربیت یافتہ کتے تھے۔ ایک بھورے رنگ کا کتا بھی اسٹیج پر داخل ہوگیا۔ اب منظر کچھ یوں تھا کہ میں واحد انسان تھا اور وہ مکمل کاسٹ کے ساتھ موجود تھے۔
سوچا، بھاگ کر اپنی عزت بچائی جائے۔ مگر قسمت کو شاید مزاح پسند تھا۔ دو قدم دوڑا اور اگلے ہی لمحے زمین سے بغل گیر ہوگیا۔ اس لمحے مجھے یقین ہو گیا کہ اب تاریخ میں میرا ذکر ایک مظلوم راہگیر کے طور پر ہوگا جسے “پارک کے مکینوں” نے شہید کر دیا۔
مگر حیرت! وہ کاٹنے کے بجائے صرف بھونک رہے تھے یعنی وہ نفسیاتی جنگ لڑ رہے تھے اور میں پوری ایمانداری سے ہار رہا تھا۔
میں نے اٹھ کر سامنے کی سیڑھیوں کو نظر انداز کیا کیونکہ عقل اس وقت رخصت ہو چکی تھی، اور دائیں طرف دوڑ لگا دی۔ پیچھے سے ایک ننھا سا کتا بھی شامل ہوگیا، گویا نئی نسل بھی اس روایت کو آگے بڑھانے کے لیے تیار تھی۔
اسی بھاگ دوڑ اور ذہنی شکست و ریخت کے عالم میں، نہ جانے کہاں سے میرے اندر ایک عجیب سی جرات پیدا ہوئی۔ میں نے بھی کتے کی طرح غرّا کر جواب دیا۔ یہ شاید وہ لمحہ تھا جب ہم سب ایک مشترکہ زبان میں آ گئے تھے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سب رک گئے، پیچھے ہٹ گئے، اور ایسے بیٹھ گئے جیسے ابھی ابھی کوئی ریہرسل ختم ہوئی ہو۔
ادھر میری حالت یہ تھی کہ ہاتھ پاؤں جیسے مستعار لیے ہوئے ہوں۔ میں سیڑھیوں پر بیٹھ گیا، سانس بحال کی، اور اپنے اعصاب کو سمجھایا کہ “جناب، ابھی زندگی باقی ہے”۔
جب دوبارہ اٹھا تو ٹانگیں ساتھ دینے کو تیار نہ تھیں، جیسے انہوں نے احتجاجاً کام بند کر دیا ہو۔ دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، اور خود اعتمادی—تینوں اپنی اپنی انتہا پر پہنچ چکے تھے۔
واپسی کے سفر میں ایک گہرا فلسفہ میرے ساتھ چل رہا تھا:
غلطی یہ نہیں تھی کہ میں پارک میں گیا…
غلطی یہ تھی کہ میں یہ بھول گیا کہ وہ پارک میرا نہیں تھا۔
اور زندگی کا یہی اصول ہے،کبھی کبھی ہم شارٹ کٹ لینے کے چکر میں کسی اور کے “علاقۂ اقتدار” میں داخل ہو جاتے ہیں… پھر ہمیں یاد دلایا جاتا ہے، وہ بھی پوری آواز کے ساتھ، کہ
“جناب، حدود کا احترام کریں!”
اور یوں ایک معمولی سی واک، ایک مکمل تربیتی ورکشاپ میں بدل گئی۔










