Abdul Malik Hashmi in Hotel Mashhad, Tehran

خاکِ فارس کا مسافر (34)

·

بذریعہ ٹیکسی ہوٹل مشہد پہنچا۔

جب میں اس ایرانی ریل کے افسر سے رخصت ہوکر باہر نکل رہا تھا تو اس نے ہدایت کرتے ہوئے کہا: تہران بڑا شہر ہے… مگر مسافر اگر راستہ بھول جائے تو شہر اور بھی بڑا ہوجاتا ہے۔”

اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی یہ بات چند ہی لمحوں بعد کس قدر سچ ثابت ہونے والی ہے۔ میں نے اپنا سوٹ کیس سنبھالا، اسٹیشن کی سیڑھیاں اترا اور تہران کی شام میں داخل ہوگیا۔ باہر نکلا تو شام شہر کے چہرے پر دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔ ہَوا میں پیٹرول، کباب اور کسی اَنجانی خوشبو کا ایسا آمیزہ تھا جو صرف مشرقِ وسطیٰ کے شہروں کا نصیب ہے۔ میں نے اپنا سوٹ کیس ہاتھ میں تھاما باہر آتے ہی میں نے ایک سفید رنگ کی ٹیکسی کو ہاتھ دیا۔

ڈرائیور نے شیشہ نیچے کیا۔ سر پر بال نہ ہونے کے باوجود اس کے چہرے میں ایک عجیب وقار تھا۔ تہران کی شام کی روشنی اس کے صاف ماتھے پر اس طرح ٹھہر رہی تھی جیسے پرانی عمارتوں کی دیواروں پر ڈھلتا سورج ٹھہر جاتا ہے۔ مگر اصل شان تو اس کی مونچھیں تھیں۔ گھنی، سلیقے سے تراشی ہوئی اور ایسی باوقار کہ پہلی نظر میں آدمی بےاختیار سیدھا ہو کر بیٹھ جائے۔

مجھے فوراً پرانی ایرانی فلموں کے وہ کردار یاد آگئے جن کے چہروں پر خاموشی بھی ایک باقاعدہ مکالمہ معلوم ہوتی تھی۔ وہ مونچھیں محض مونچھیں نہیں لگتی تھیں، بلکہ برسوں کے تجربے، تہران کی سڑکوں کی گَرد، اور ہزاروں مسافروں کی کہانیوں کا خلاصہ محسوس ہوتی تھیں۔ جب اس نے ہلکا سا تاؤ دیا تو یوں لگا جیسے گفتگو شروع ہونے سے پہلے کسی نے جملے پر نقطۂ آغاز رکھ دیا ہو۔ اس نے نہایت سنجیدگی سے میری طرف دیکھا۔ آنکھوں میں وہی مانوس سی تھکن تھی جو بڑے شہروں کے ڈرائیوروں کے حصے میں آتی ہے۔ ایسی تھکن جس میں بےزاری کم اور دنیا دیکھ لینے کا سکون زیادہ ہوتا ہے۔

“کجا می‌روی؟” یعنی کہاں جائیں گے؟

میں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی فارسی میں عرض کیا:
“آغا… متوسط ہوٹل… ارزان… خیلی ارزان!”یعنی کوئی ایسا ہوٹل جہاں آدمی عزت سے رات گزار سکے اور صبح بِل دیکھ کرمسافر اپنے آباؤ اجداد کو یاد نہ کرے۔ وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر مونچھوں پر انگلی پھیری۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے تہران میں کرایہ طے کرنے کا بھی ایک غیر اعلانیہ آداب نامہ ہو، اور اس رسم کا پہلا مرحلہ یہی سنجیدہ سا تاؤ ہو۔ پھر اس نے مجھے ایک ایسی نگاہ سے دیکھا جس میں ہلکی سی شفقت بھی تھی اور تجربہ کار آدمی کا اعتماد بھی۔ بالکل ویسے جیسے کوئی پرانا طبیب مریض کی نبض پکڑتے ہی مرض کا اندازہ لگا لے۔
“باشہ… خوب ھتل !” یعنی ایسا ہی ہوگا ، میں آپ کو ایک خوب ہوٹل میں لے جاؤں گا۔اس نے فارسی میں کہا

اب ایران میں “خوب ہُتل” کا مطلب کیا ہوتا ہے، یہ مجھے اگلے بیس منٹ بعد معلوم ہوا۔ ٹیکسی تہران کی کشادہ شاہراہوں پر تیرتی رہی۔ کہیں بلند عمارتیں، کہیں دیواروں پر شہداء کے دیوقامت پورٹریٹ، کہیں سیاہ چادروں میں لپٹی عورتیں اور کہیں نوجوان لڑکے جو امریکی جینز پہنے انقلاب کے بعد پیدا ہونے والی نسل کی نمائندگی کر رہے تھے۔

میں دل ہی دل میں اپنی “ارزان” کی کامیابی پر خوش تھا، تب مجھے پہلی مرتبہ اندازہ ہوا کہ ایران میں “خوب ہوٹل” اور “ارزان ہوٹل” دو الگ الگ فلسفے ہیں، اور میرا ڈرائیور غالباً پہلے فلسفے کا پُرجوش حامی تھا۔ یہاں تک کہ وہ ایک عظیم الشان دس منزلہ عمارت کے سامنے رکا؛ ایسی عمارت جس کے دروازے دیکھ کر ہی آدمی کو اپنے بٹوے کی خیریت پوچھنے کا خیال آئے۔ دربان نے ایسی مستعدی سے دروازہ کھولا جیسے میں کم از کم پاکستان کا سفیر ہوں۔

میں نے گردن اٹھا کر عمارت کو دیکھا اور دل ہی دل میں کہا:
“یا اللہ… یہ تو ہوٹل کم اور شاہِ ایران کا محل زیادہ لگتا ہے!”
ڈرائیور نے مسکرا کر میرا بیگ اتارا، کرایہ لیا اور اس رفتار سے غائب ہوا جیسے کسی کامیاب واردات کے بعد جیب کترا ہجوم میں تحلیل ہوجاتا ہے۔

لابی میں داخل ہوا تو فرش ایسا چمک رہا تھا کہ آدمی اپنا مستقبل اس میں دیکھ لے۔ چھت سے لٹکتے فانوس، نرم قالین، خاموش لفٹیں اور استقبالیہ پر کھڑا ایک نہایت سنجیدہ مرد… مجھے فوراً احساس ہوگیا کہ میں غلط جگہ آگیا ہوں۔
میں نے دھیرے سے پوچھا:
“سینگل روم… چقدر؟” یعنی سنگل روم کا کرایہ کتنا ہے؟
استقبالیہ پر موجود نوجوان نے رجسٹر کھولا، ایک نظر مجھ پر ڈالی، دوسری میرےsamsung کے سوٹ کیس پر، پھر نہایت پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
شبی بیست و چھار هزار تومان.یعنی ایک رات کا کرایہ چوبیس ہزار تومان۔”میں نے سمجھا شاید میں نے غلط سنا ہے۔ میں نے دوبارہ پوچھا
“چقدر؟”
اس نے اس مرتبہ پوری شفقت سے دہرایا:
“شبی بیست و چھار ھزار تومان آغا یعنی جناب والا، چوبیس ہزار تومن
میرے ذہن میں فوراً زاہدان اور اصفہان کے وہ ہوسٹل گھوم گئے جہاں چالیس پچاس تومن میں رات گزر جاتی تھی اور یہاں ایک رات کا کرایہ چوبیس ہزار تومن! یعنی جولائی 2001 کے حساب سے تقریباً ڈھائی ہزار پاکستانی روپے۔ اُس دور میں تو کوئٹہ کے سیرینا ہوٹل والے بھی شاید اتنی رقم لیتے ہوئے شرما جاتے۔ میرا دل چاہا فوراً بیگ اٹھاؤں اور باہر نکل جاؤں، مگر مسئلہ یہ تھا کہ باہر تہران تھا… اور اندر ائیرکنڈیشنڈ تہران۔
میں نے احتیاط سے پوچھا:
“کچھ سستا کمرہ نہیں ہے؟”
وہ بولا:
“یہی سب سے مناسب ہے۔”

یہ وہ جملہ تھا جو دنیا بھر کے مہنگے ہوٹلوں کا مشترکہ فلسفہ ہے۔ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا، ریال گنِے، پھر ذہن میں اپنے باقی ماندہ پچاس ڈالر کا حساب لگایا۔ دل نے فوراً ایک معاشی تجزیہ پیش کیا:”عبدالمالک! تم غریب نہیں ہو۔ تمہارے پاس ابھی پچاس ڈالر باقی ہیں۔ کل انہیں تبدیل کرا لینا۔ پھر دوبارہ امیر ہوجاؤ گے۔”یہ وہ خوش فہمی تھی جو صرف مسافر پال سکتے ہیں۔میں نے رجسٹر پر دستخط کیے تو استقبالیہ والا بولا:
“پاکستانی ھستید؟” اس نےپوچھا: میں نے اثبات میں جواب دیا: "بلہ.”
اس کے چہرے پر فوراً ایک گرمجوشی آگئی۔
“لاہور؟ کراچی؟”
میں نے کہا:”کوئٹہ سے ہوں۔”
وہ مسکرایا:
“پاکستانی‌ھاا آدم‌ھای مھربان ھستند.”یعنی پاکستانی لوگ بڑے مہربان ہوتے ہیں۔
میں نے دل میں سوچا:”مہربان تو ہیں، مگر اس وقت مہربانی اگر کوئی کرسکتا ہے تو وہ تم ہو… کرایہ آدھا کرکے!”لیکن ایرانی تہذیب میں مسکراہٹ مفت ملتی ہے، کمرہ نہیں۔ یوں میں کمرہ نمبر 347 کی طرف روانہ ہوا… ایک ایسا کمرہ جس میں داخل ہوتے ہوئے میرے قدم امیر آدمیوں جیسے تھے، مگر دل ایک متوسط پاکستانی مسافر کا ہی دھڑک رہا تھا۔

خیر، کوئٹہ سے روانگی کے وقت جو کپڑے بڑے اعتماد سے بیگ میں رکھے گئے تھے، تہران پہنچتے پہنچتے اُن کی آخری صاف قسط بھی 18 جولائی 2001 کو ختم ہوچکی تھی۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ بیگ میں موجود کپڑے مجھے دیکھ کر وہی تاثر دیتے تھے جو لمبے سفر کے بعد مسافر ریلوے پلیٹ فارم کو دیکھ کر دیتا ہے۔ تھکا ہوا، خاموش اور کچھ بےبس سا۔ ہوٹل اگرچہ شاندار تھا، مگر اس کے نرخ ایسے تھے کہ آدمی تولیہ استعمال کرتے ہوئے بھی دل میں حساب لگانے لگے۔ کپڑے دھلوانے کا خرچ سن کر مجھے فوراً اپنی معاشی حیثیت یاد آگئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ تہران میں لانڈری کا بوجھ ایرانی معیشت پر نہیں ڈالوں گا۔ چنانچہ طے پایا کہ قریب کی دکان سے صَرف خریدا جائے اور کپڑے دھونے کا فریضہ ذاتی نگرانی میں انجام دیا جائے۔ ویسے بھی مجھے اپنے اوپر ایک عجیب سا اعتماد تھا۔ آخر میں نے برسوں گھر میں امی جان کو کپڑے دھوتے دیکھا تھا۔

ہمارے ہاں مشاہدہ بھی ایک مستقل ڈگری سمجھا جاتا ہے۔ جو بچہ دوپہر کو چارپائی پر بیٹھ کر امی کو صابن ملَتے دیکھ لے، وہ شام تک خود کو آدھا دھوبی سمجھنے لگتا ہے۔ سو مجھے یقین تھا کہ تہران میں کپڑے دھونا کوئی ایٹمی سائنس نہیں ہوگی۔
البتہ اس مہم سے پہلے ایک اور مرحلہ ضروری تھا: ڈالر تبدیل کرانا۔ کیونکہ جیب میں موجود امریکی نوٹ اس وقت تک صرف نظریاتی سہارا تھے، عملی نہیں۔ اپنا سامان کمرے میں رکھا اور واپس استقبالیے پر آیا اور اپنی محدود فارسی اور رواں انگریزی کی مدد سے قریبی بینک کا پتا پوچھا۔

معلوم ہوا کہ بینک زیادہ دور نہیں، پیدل جایا جاسکتا ہے۔ یہ “بنکِ ملیِ ایران” تھا۔ نام سن کر ایک انجانی سی اپنائیت محسوس ہوئی، کیونکہ اسی بینک کی ایک شاخ کرمان میں بھی دیکھی تھی۔ یوں لگا جیسے پردیس میں اچانک کوئی پرانا جاننے والا مل جائے۔ چنانچہ میں تہران کی سڑک پر نکلا۔ جیب میں ڈالر تھے، ذہن میں بجٹ، اور دل میں یہ عزم کہ آج یا تو کرنسی تبدیل ہوگی یا کپڑے۔ دونوں کام ایک ساتھ ہوتے دکھائی نہیں دیتے تھے۔

ایران کے سفر کے دوران پہلی مرتبہ میں نے کرمان میں اپنے پچاس امریکی ڈالر تبدیل کروائے تھے، اور اب ٹھیک سات دن بعد تہران میں دوبارہ یہی سعادت حاصل ہورہی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ کرمان کا بینک نسبتاً سادہ تھا، جبکہ تہران میں “بنکِ ملیِ ایران” کی یہ شاخ خاصی جدید اور پُروقار معلوم ہوتی تھی۔ اس کا استقبالیہ کسی بینک سے زیادہ ایک مہذب ہوٹل کے کاؤنٹر سے مشابہ تھا، جہاں آدمی کو یوں محسوس ہو کہ شاید رقم کے بجائے کمرہ بُک کروانا ہے۔

کاؤنٹر کے پیچھے ایک سنجیدہ سا ایرانی ادھیڑ عمر شخص کھڑا تھا۔

چہرے پر وہی متوازن بےتاثری جو بینک والوں کو شاید ملازمت کے پہلے دن سکھائی جاتی ہے۔ میں نے نہایت اعتماد سے پچاس ڈالر کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے خاموشی سے نوٹ دیکھا، مشین میں کچھ حساب لگایا، اور پھر ریالوں کی گڈیاں کاؤنٹر پر رکھنا شروع کردیں۔

پہلی گَڈی آئی تو میں مطمئن رہا۔ دوسری پر ہلکی سی خوشی ہوئی۔ تیسری گَڈی رکھی گئی تو میں نے دل میں سوچا کہ شاید ایران کی معیشت مجھ پر غیرمعمولی مہربان ہوگئی ہے۔ میں تقریباً یہ کہنے ہی والا تھا کہ:
“آغا، شاید کچھ زیادہ دے رہے ہیں…”
مگر بینکر پوری سنجیدگی سے مزید گَڈیاں رکھتا جارہا تھا۔ چوتھی… پانچویں… پھر چھٹی گَڈی۔
اب میری حالت ایسی تھی جیسے کسی معمولی تنخواہ دار آدمی کو اچانک قومی خزانے کی چابیاں تھما دی گئی ہوں۔ مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ بعض ملکوں میں آدمی چند ڈالر دے کر دیکھنے میں کروڑ پتی محسوس ہونے لگتا ہے۔

کل رقم تین لاکھ چھیانوے ہزار سات سو ریال بنی۔ اتنی بڑی رقم میں نے زندگی میں، کرمان کے بعد، دوسری مرتبہ ایک ساتھ اپنی ملکیت میں دیکھی تھی، اگرچہ اس کی اصل حیثیت صرف پچاس امریکی ڈالر تھی۔

صورتحال یہ ہوگئی کہ میری جیبیں ریالوں سے اس طرح بھر گئیں جیسے کسی شادی میں بچے جیبوں میں ٹافیاں بھر لیتے ہیں۔ باقی رقم مجبوراً سوٹ کیس میں رکھنی پڑی۔لیکن ریالوں کی اس مختصر دولت کو باقاعدہ میری ملکیت بننے سے پہلے ایک مرحلہ اور باقی تھا: رسید پر دستخط۔
میں نے قلم اٹھایا اور پورے اعتماد سے عربی میں لکھا:
“ابوجندل الھاشمی”۔
یہ دستخط میرے ساتھ ہمیشہ سے نہیں تھے۔ پہلے میں انگریزی اور اردو کے ملے جلے دستخط کیا کرتا تھا، جیسے برصغیر کی بیشتر سرکاری درخواستیں ہوتی ہیں کہ آدھا وجود مشرق میں اور آدھا مغرب میں معلق۔ پھر سعودی عرب میں عربی سیکھنے کے دوران میرے ایک افغانی دوست نے اصرار کیا کہ اگر عربی پڑھتے ہو تو دستخط بھی خالص عربی ہونے چاہییں۔ چنانچہ میں نے اپنے نام کو ایک نئے عربی قالب میں ڈھال لیا۔ اب “عبدالمالک” کہیں غائب ہوچکا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسا نام نمودار ہوتا تھا جس کے پیچھے صلح حدیبیہ کے اُس عظیم صحابی، حضرت ابوجندلؓ، کی نسبت چھپی ہوئی تھی جن کی داستان پڑھ کر دل میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ یوں میرے دستخط بن گئے:
“ابوجندل الھاشمی”۔
رسید پر جھکتے ہوئے ایرانی افسر نے دستخط پڑھے، پھر مجھے دیکھا، پھر دوبارہ دستخطوں کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر تجسس کی ایک ہلکی سی لکیر ابھری۔ لباس میرا خالص پاکستانی تھا۔ ایسی شلوار قمیص کہ اگر میں وہیں سے سیدھا گوجرانوالہ کے کسی اڈے پر جا کھڑا ہوتا تو کوئی شک نہ کرتا۔ مگر دستخط مکمل عربوں والے۔ شاید اسی تضاد نے اس کے ذہن میں کئی سوالات جگا دیے۔

میرے پیچھے اپنی باری کا انتظار کرنے والا ایک نوجوان بھی یہ سب دیکھ رہا تھا۔ جب اُس نے رسید پر عربی میں “ابوجندل الہاشمی” لکھا دیکھا تو اُس کے چہرے پر واضح تجسس ابھرا۔ شاید اُس کے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ پاکستانی لباس پہنے ایک شخص اتنے خالص عربی انداز میں دستخط کر رہا ہے۔ غالباً وہ یہ طے نہیں کر پارہا تھا کہ میں پاکستانی ہوں، یا اُن عمانی بلوچوں میں سے ہوں جو صدیوں سے خلیجی عرب معاشرے میں بستے آئے ہیں اور اب بلوچ کم، عرب زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔
ابھی میں ریالوں کی گَڈیاں سمیٹ ہی رہا تھا کہ اُس نے انگریزی میں پوچھا:
“Where are you from?”
میں نے جواب دیا:

“I am from Pakistan, but I study Arabic in Riyadh, Kingdom of Saudi Arabia.”
یہ سنتے ہی اُس کے چہرے پر ایک ہلکی سی خوشی آئی، جیسے اسے اچانک کوئی مشترک علاقہ مل گیا ہو۔ فوراً انگریزی چھوڑ کر فصیح عربی میں گفتگو شروع کردی۔
“أنا من البحرین” یعنی میں بحرَین سے ہوں۔
پھر اس نے پوچھا:
“کیف وجدتَ ایران؟ ”یعنی ایران آپ کو کیسا لگا؟
سوال سیدھا تھا اور اُن دنوں میں جواب بھی خاصے سیدھے دیا کرتا تھا۔ میں نے کہا:”ایران بہت صاف ستھرا، منظم اور خود انحصاری پر مبنی ملک ہے۔ لیکن یہاں لوگوں کی قبر پرستی اور خرافات مجھے پسند نہیں آئیں۔”میرا خیال تھا کہ بات بس یہیں ختم ہوجائے گی، مگر وہ نوجوان ذرا جذباتی ہوگیا۔ اُس نے کاؤنٹر پر اپنا ہاتھ اس انداز سے پھیرا جیسے کسی مزار کی جالی پر ہاتھ پھیر رہا ہو، اور بولا:
“برکت کے لیے اس طرح ہاتھ پھیرنے میں کیا حرج ہے؟”

یہ جملہ سن کر مجھے ایک لمحے کو واقعی حیرت ہوئی۔ اُس وقت تک میری محدود معلومات یہی تھیں کہ اہلِ تشیع شاید پاکستان، ایران اور عراق تک محدود ہیں۔ بحرین میرے ذہن میں بس ایک چھوٹا سا خلیجی ملک تھا، اس کی مذہبی فضا سے میں تقریباً ناواقف تھا۔ویسے بھی میری طبیعت مناظرے اور بحث مباحثے سے ہمیشہ دور بھاگتی ہے۔ خاص طور پر سفر میں۔ آدمی سیاحت کے لیے نکلے اور اچانک فِقہی مناقشے میں گرفتار ہوجائے تو پھر سفرنامہ کم اور مناظرہ زیادہ بننے لگتا ہے۔ چنانچہ میں نے نہایت شائستگی سے اس سے اجازت چاہی اور قریب کی ایک دکان کی طرف نکل گیا۔ دل میں یہ اطمینان تھا کہ کم از کم اس مختصر فرار نے مجھے ایک طویل مسلکی گفتگو سے بچا لیا ہے۔

مگر واپسی پر وہی بحرینی نوجوان پھر سامنے آگیا۔ اس بار اس نے بڑی اپنائیت سے میرے ہوٹل اور کمرہ نمبر کے بارے میں پوچھا۔میں نے نہایت مہارت سے بات کو یوں ٹالا جیسے تجربہ کار سفارت کار اصل سوال کے جواب میں موسم کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔

آخرکار میں اپنی ریالوں کی گڈی سنبھالے ہوٹل واپس آگیا، جہاں ایرانی ٹی وی چینلز پوری سنجیدگی سے ایسے پروگرام نشر کر رہے تھے جنہیں سمجھنے کے لیے فارسی سے زیادہ صبر درکار تھا۔اور میں سوچ رہا تھا کہ سفر میں بعض اوقات ایک دستخط بھی پورا تعارف بن جاتے ہیں۔ انسان خود کو جتنا سادہ سمجھتا ہے، دنیا اُسے اتنا ہی پراسرار بنا کر پڑھتی ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں