اس سال حسنِ اتفاق سے سعودی عرب اور پاکستان کے مطالع آپس میں اس طرح ہم آہنگ ہو گئے کہ یومِ عرفہ کا روزہ اور عیدالاضحیٰ دونوں ممالک میں ایک ہی دن وقوع پذیر ہو گئے۔ چنانچہ 26مئی 2026بروز منگل واقعی حجاجِ کرام میدانِ عرفات میں موجود تھے اور اسی نسبت سے روزۂ عرفہ رکھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ یہ موافقت میرے لیے خوشی اور قلبی اطمینان کا باعث بنی، کیونکہ طویل عرصے بعد ایسا ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب میں عید ایک ہی دن ہوئی۔
یوں اس سال ’یومِ عرفہ اور نو ذوالحجہ‘ کی بحث ہوتے ہوتے رہ گئی اور میں نے اطمینان کے ساتھ عین اُس دن کا روزہ رکھنے کا ارادہ کیا جب حاجی واقعی میدانِ عرفات میں وقوف کر رہے ہوں گے۔ گویا اس مرتبہ نہ صرف مطالع مشترک ہو گئے بلکہ ایک حد تک وحدتِ امت کا احساس بھی پیدا ہو گیا۔
عام طور پر ہر سال یہ صورت حال پیش آتی ہے کہ جب حاجی یومُ النحر کے اعمال میں مشغول ہوتے ہیں، اُس وقت پاکستان میں ’عرفہ کا روزہ‘ رکھا جا رہا ہوتا ہے۔ یوں روزہ رکھنے والوں اور میدانِ عرفات میں موجود حاجیوں کے درمیان وہ معنوی موافقت اور زمانی ہم آہنگی قائم نہیں رہتی جو اس عبادت کی اصل روح محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ یومِ عرفہ کے روزے کی نسبت بنیادی طور پر اسی عظیم دن سے ہے جب لاکھوں حاجی میدانِ عرفات میں جمع ہو کر دعا، توبہ اور وقوفِ عرفہ کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ تاہم ہمارے ہاں اختلافِ مطالع کی فقہی تعبیر کو اس انداز سے اختیار کیا جاتا ہے کہ بعض اوقات روزہ اُس دن رکھا جاتا ہے جب حاجی عرفات سے واپس منی ٰ جا چکے ہوتے ہیں اور منیٰ میں قربانی اور دیگر مناسک ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو دل میں امت کی اجتماعی وحدت اور مشترکہ دینی شعور کی خواہش کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
دل میں یہ خواہش بھی ابھری کہ کاش مستقبل میں ایک مضبوط اسلامی بلاک وجود میں آئے، جہاں پاکستان، ترکیہ، ایران اور دیگر مسلم ممالک باہمی مشاورت سے یہ طے کریں کہ رمضان، عیدین اور حج کے ایام مکہ مکرمہ کے اعلان کے مطابق ہوں گے۔ اس سے کم از کم وہ مذہبی تقسیم تو ختم ہو جائے گی جو قوم پرستی (Nationalism and Nation States) اور قومی سرحدوں کے باعث مسلمانوں کے درمیان پیدا ہو جاتی ہے یورپی استعماری طاقتوں نے خلافتِ عثمانیہ کی وسیع وحدت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے مسلم دنیا کو چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں اور سرحدوں میں بانٹ دیا۔
اس تقسیم کا اثر صرف سیاسی اور جغرافیائی حد تک محدود نہ رہا بلکہ رفتہ رفتہ مذہبی اور اجتماعی زندگی پر بھی پڑا۔ ہر ریاست نے اپنی الگ تقویمی اور انتظامی شناخت قائم کر لی، یہاں تک کہ رؤیتِ ہلال اور مطالع بھی جدا جدا ہو گئے۔
قومی ریاستوں کی انتظامی اور جغرافیائی سرحدوں نے امتِ مسلمہ کے بہت سے فطری اور تہذیبی روابط کو متاثر کیا ہے۔ انہی اثرات میں ایک اہم مسئلہ مطالعِ ہلال کا اختلاف بھی ہے۔ بسا اوقات دو ایسے علاقے، جو جغرافیائی اعتبار سے ایک ہی خطے کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، سیاسی سرحدوں کی وجہ سے عبادات کے معاملے میں الگ الگ فیصلوں کے پابند ہوجاتے ہیں۔
مثال کے طور پر افغانستان کا شہر قندھار اور پاکستان کا سرحدی شہر چمن جغرافیائی قربت اور مطلع کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں، لیکن سیاسی تقسیم کے باعث دونوں علاقوں میں رمضان، عیدین اور یومِ عرفہ کے فیصلے الگ ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں رویتِ ہلال کمیٹی کا فیصلہ پورے ملک پر نافذ ہوتا ہے، چاہے سرحدی علاقوں کا مطلع ہمسایہ ملک سے زیادہ قریب کیوں نہ ہو۔
اسی طرح پاکستانی بلوچستان کے علاقے پنجگور اور ایرانی بلوچستان و سیتان کے سرحدی قصبے سراوان بھی ایک دوسرے سے قریب ہیں، مگر قومی ریاستوں کی سیاسی حدود انہیں مذہبی اوقات اور عبادات کے معاملات میں جدا کر دیتی ہیں۔ یہ دراصل جدید نیشنلزم اور قومی ریاست کے تصور کا نتیجہ ہے، جس نے امتِ مسلمہ کی وحدت کو مختلف انتظامی دائروں میں تقسیم کردیا۔
ماضی میں خلافتِ عثمانیہ کے دور میں حکومت کی عمل داری وسیع خطوں تک پھیلی ہوئی تھی، اور امت کے مختلف حصے ایک بڑی سیاسی وحدت کے تحت جڑے ہوئے تھے۔ لیکن استعماری طاقتوں نے خلافتِ عثمانیہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے چھوٹی چھوٹی قومی ریاستیں قائم کیں، جس کے نتیجے میں صرف سیاسی وحدت ہی متاثر نہیں ہوئی بلکہ عبادات اور مذہبی شعائر میں بھی افتراق پیدا ہوگیا۔
چنانچہ اب یہ اختلاف سامنے آتا ہے کہ کسی ملک میں نو ذی الحجہ سعودی عرب کے ساتھ ہوگی یا اس کے اگلے دن۔ اس فرق کی وجہ سے یومِ عرفہ کے ساتھ وہ روحانی اور اجتماعی ربط پوری شدت سے محسوس نہیں ہوپاتا جو امت کی وحدت کی علامت ہونا چاہیے۔ البتہ بعض برسوں میں اتفاقِ مطالع کی صورت پیدا ہوجاتی ہے تو پوری امت ایک مشترک روحانی کیفیت کا تجربہ کرتی ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ایک امت، جو کبھی عبادات اور مذہبی شعائر میں بڑی حد تک متحد نظر آتی تھی، اب رمضان، عیدین اور یومِ عرفہ جیسے مواقع پر بھی مختلف اوقات اور الگ الگ اعلانات کے تحت بٹتی چلی گئی۔ یوں قومی سرحدوں نے صرف زمینوں کو نہیں بلکہ اجتماعی مذہبی شعور کو بھی تقسیم کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ رؤیتِ ہلال محض ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ بڑی حد تک ایک انتظامی اور اجتماعی معاملہ بھی ہے۔ آج بھی خلیجی ممالک اور شمالی افریقہ کے کئی ممالک مکہ مکرمہ کے مطلع کے مطابق روزے رکھتے اور عید مناتے ہیں۔ یہ مسلم وحدت کی ایک عملی اور زندہ مثال ہے۔ اگر امتِ مسلمہ عبادات کے کم از کم بڑے شعائر میں ایک مرکز پر جمع ہو جائے تو اس سے صرف تقویمی اختلافات ہی کم نہیں ہوں گے بلکہ مسلمانوں کے درمیان وحدت اور باہمی تعلق کا احساس بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔
قوم پرستی (Nationalism) کے غلبے کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ دینی فکر کی عالمی وسعت رفتہ رفتہ سکڑتی چلی گئی۔ وہ علماء جو کبھی پوری امت کو ایک وحدت کے طور پر دیکھتے تھے، آہستہ آہستہ اپنی اپنی قومی ریاستوں کے دائروں میں محدود ہوتے گئے۔ نتیجتاً امت کے اجتماعی افق پر غور کرنے کے بجائے ہر ملک کے علماء اپنے مقامی مطلع، مقامی اعلان اور قومی انتظامی فیصلوں ہی کو اصل معیار قرار دینے لگے۔
یوں ایک ایسی ذہنی فضا پیدا ہوئی جس میں امت کی وحدتِ شعور کمزور پڑتی گئی اور عبادات کے اجتماعی مظاہر بھی قومی سرحدوں کے تابع ہوتے چلے گئے۔ عالمی اُمت کا تصور پس منظر میں چلا گیا، جبکہ قومی ریاست کا دائرہ فکر غالب آتا گیا۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ امتِ مسلمہ ایک بار پھر اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرے کہ کیا عبادات کے بڑے اجتماعی شعائر میں وحدتِ عمل کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اختلافِ مطالع اپنی جگہ ایک قدیم فقہی بحث ہے، مگر بدلتے ہوئے عالمی حالات میں امت کے اجتماعی شعور، باہمی تعلق اور دینی یگانگت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر مسلمان سیاسی طور پر ایک نہ بھی ہو سکیں، تب بھی کم از کم رمضان، عیدین اور حج جیسے عظیم شعائر میں ایک مرکزیت اور ہم آہنگی پیدا کرنا امت کے دلوں کو قریب لا سکتا ہے۔ کیونکہ عبادات صرف انفرادی تقویٰ کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ وہ امت کی مشترکہ روح، مشترکہ احساس اور مشترکہ شناخت کی علامت بھی ہوتی ہیں۔










