پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ اور انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے چیئرمین خورشید محمود قصوری نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے پچھتر برس مکمل ہونے اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے قیام کی ایک سو پانچویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کیا۔
یہ تقریب انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم اور بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں سفارت کاروں، دانش وروں، ماہرینِ پالیسی اور علمی شخصیات نے شرکت کی۔ نمایاں شرکا میں چین کے قونصل جنرل سن یان، انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے بانی صدر ظفرالدین محمود اور بی این یو کے پالیسی ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر سفیر منصور احمد خان بھی شامل تھے۔
اپنے کلیدی خطاب میں خورشید محمود قصوری نے دنیا کے بڑے انقلابات کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہوئے 1949ء کے چینی انقلاب کا موازنہ یورپ، امریکا اور سوویت یونین کے انقلابی تجربات سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین ماؤ زے تنگ نے مارکسزم کو محض شہری مزدور طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے چین کے مخصوص معاشرتی حالات سے ہم آہنگ کیا۔ چین چونکہ بنیادی طور پر ایک زرعی معاشرہ تھا، اس لیے ماؤ نے کسانوں، دیہی آبادی اور دیہات میں جاری جدوجہد کو انقلاب کی اصل قوت بنایا۔ تاریخی لانگ مارچ اسی عزم، استقامت اور طویل انقلابی جدوجہد کی علامت تھا۔ ماؤ کے بعد چین کی معاشی تعمیر و ترقی میں ڈینگ ژیاؤ پنگ کا کردار فیصلہ کن ثابت ہوا۔ انہوں نے چین کی داخلی پالیسی اور وسیع تر قومی حکمتِ عملی کو ایک نئی سمت دی، جسے بعد میں چینی خصوصیات کا حامل سوشلزم کہا گیا۔
ڈینگ ژیاؤ پنگ سے منسوب مشہور مقولہ ہے:
’بلی کالی ہو یا سفید، اس سے فرق نہیں پڑتا، بشرطیکہ وہ چوہے پکڑتی ہو۔‘
خورشید محمود قصوری نے وضاحت کی کہ اس قول میں ڈینگ کی عملی اور نتیجہ خیز سوچ پوشیدہ تھی۔ ان کے نزدیک اصل اہمیت اس بات کی نہیں تھی کہ کوئی معاشی طریقہ خالصتاً اشتراکی ہے یا سرمایہ دارانہ، بلکہ یہ تھی کہ آیا وہ پیداوار میں اضافہ کرتا ہے، غربت کم کرتا ہے، عوام کا معیارِ زندگی بہتر بناتا ہے اور ریاست کو مضبوط بناتا ہے یا نہیں۔ اسی عملی سوچ کے تحت چین نے اجتماعی زرعی نظام میں اصلاحات کیں، بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اپنے دروازے کھولے اور منڈی کے بعض اصولوں کو ریاستی منصوبہ بندی کے ساتھ ملا کر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس نے حیرت انگیز نتائج پیدا کیے۔ خورشید محمود قصوری نے چین کی قیادت کو اس امر پر خراجِ تحسین پیش کیا کہ اس نے تقریباً اسّی کروڑ افراد کو غربت سے نکالا۔ ان کے مطابق انسانی تاریخ میں غربت کے خاتمے کی اتنی وسیع اور منظم کوشش کسی جدید معجزے سے کم نہیں۔ چین کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے قصوری صاحب نے ڈینگ ژیاؤ پنگ کی معروف حکمتِ عملی تاؤ گوانگ یانگ ہوئی کا حوالہ دیا، جس کا مفہوم یہ تھا:
اپنی قوت کو نمایاں نہ کرو، مناسب وقت کا انتظار کرو اور عالمی قیادت سنبھالنے میں جلد بازی سے کام نہ لو۔
اس حکمتِ عملی کے تحت چین نے ایک طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر نسبتاً کم نمایاں کردار اختیار کیا، نظریاتی محاذ آرائی سے گریز کیا اور اپنی توجہ داخلی معاشی ترقی، صنعتی تعمیر اور قومی صلاحیت میں اضافے پر مرکوز رکھی۔ اس محتاط پالیسی نے چین کو بڑی طاقتوں کی براہِ راست کشمکش سے دور رہتے ہوئے اپنی اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور دفاعی قوت کو بتدریج مستحکم کرنے کا موقع فراہم کیا۔
صدر شی جن پنگ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے کہا کہ آج کا چین ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور پُراعتماد ہے۔ اب اسے اپنی صلاحیتیں پوشیدہ رکھنے کی وہ ضرورت نہیں رہی جو ابتدائی معاشی تعمیر کے دور میں موجود تھی۔ چین اب عالمی معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی، جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری کا تصور اسی نئی اور متحرک چینی پالیسی کا اظہار ہیں۔
دنیا کے اہم انقلابات کا جائزہ لیتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے 1979ء کے ایرانی انقلاب کو ایک منفرد تاریخی واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی انقلاب نہ تو روایتی مارکسی انقلاب تھا اور نہ ہی مغربی طرز کی جمہوری تحریک۔ اس انقلاب نے شاہ محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کا خاتمہ کرکے ولایتِ فقیہ کے اصول پر قائم ایک نیا مذہبی اور سیاسی نظام تشکیل دیا۔ اسی وجہ سے ایرانی انقلاب کو دنیا کے دیگر انقلابات سے مختلف اور ایک جداگانہ تاریخی زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاریخی واقعات کے نتائج پر حتمی رائے قائم کرنے میں احتیاط کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے چین کے سابق وزیرِاعظم چو این لائی سے منسوب ایک مشہور واقعہ بیان کیا۔ جب ان سے 1789ء کے انقلابِ فرانس کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا تھا:
’ ابھی اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ‘
خورشید محمود قصوری نے کہا کہ اگر انقلابِ فرانس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بھی تقریباً دو صدیوں کا عرصہ ناکافی سمجھا جا سکتا ہے تو ایرانی انقلاب کے حتمی نتائج اور تاریخی ورثے کے بارے میں ابھی فیصلہ صادر کرنا بھی قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا مستقبل، اس کے سیاسی نظام کی سمت اور اس کی قومی تقدیر کا حتمی فیصلہ کسی بیرونی طاقت کو نہیں بلکہ خود ایرانی عوام کو کرنا ہے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران عالمی اتحاد بدلتے رہے، سرد جنگ کے حالات تبدیل ہوئے اور علاقائی سیاست نے مختلف کروٹیں لیں، لیکن پاکستان اور چین کے درمیان باہمی اعتماد اپنی جگہ قائم رہا۔
انہوں نے 1955ء کی بانڈونگ کانفرنس اور 1963ء کے پاک چین سرحدی معاہدے کو دوطرفہ تعلقات کی ابتدائی اور اہم بنیادوں میں شمار کیا۔ 1963ء کا سرحدی معاہدہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں طے پایا، جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے اہم کردار ادا کیا۔ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا اور آئندہ تزویراتی تعاون کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے ابتدائی برسوں میں پاکستان مختلف مغربی اتحادوں کا حصہ تھا، لیکن چین نے پاکستان کی مخصوص سلامتی کی ضروریات اور تزویراتی مجبوریوں کو سمجھا۔ بیجنگ نے اس امر کو تسلیم کیا کہ مغربی اتحادوں میں پاکستان کی شمولیت کا مقصد چین کے خلاف دشمنانہ پالیسی اختیار کرنا نہیں تھا۔
1964ء میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی چین کے لیے پرواز نے چین کو مغربی دنیا سے فضائی طور پر جوڑنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ اس دور میں پی آئی اے چین اور مغربی ممالک کے درمیان ایک اہم تجارتی فضائی پل کی حیثیت رکھتی تھی۔ خورشید محمود قصوری نے شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کے دوران جان قربان کرنے والے پاکستانی اور چینی کارکنوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم منصوبے کی تعمیر کے دوران تقریباً ایک ہزار افراد نے اپنی جانیں قربان کیں، جن میں دو سو کے قریب چینی کارکن بھی شامل تھے۔ گلگت کے قریب قائم چینی یادگاری قبرستان آج بھی پاکستان اور چین کی مشترکہ قربانی اور دیرپا دوستی کی علامت ہے۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ چین کے تعاون کی نمایاں خصوصیت محض تیار شدہ سامان کی فراہمی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صلاحیت پیدا کرنا رہی ہے۔ اس پالیسی کو اس مشہور کہاوت سے سمجھا جا سکتا ہے:
’کسی شخص کو ایک مچھلی دے دی جائے تو اس کا ایک وقت کا کھانا پورا ہوتا ہے، لیکن اسے مچھلی پکڑنا سکھا دیا جائے تو وہ اپنی ضروریات مستقل طور پر پوری کر سکتا ہے۔‘
انہوں نے ہیوی مکینیکل کمپلیکس جیسے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اداروں کا مقصد پاکستان میں انجینئرنگ اور بھاری صنعت کی بنیادی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔
اپنے دورِ وزارتِ خارجہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے متعدد منصوبوں کو نمایاں کیا، جن میں جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور ایف-22 پی فریگیٹس شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو پُرامن سول جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی میں وزارتِ خارجہ اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر ریاض محمد خان کے کردار کو بھی سراہا۔
خورشید محمود قصوری نے ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت بہت متاثر ہوئے جب چین کے وزیرِاعظم وین جیا باؤ نے انہیں بتایا کہ وہ پہلے غیر ملکی رہنما ہوں گے جنہیں چین کی ایک خفیہ خلائی تحقیق اور خلائی سیارے تیارکرنے والے ادارے کے دورے پر لے جایا جائے گا، جہاں پاکستان کا مواصلاتی سیٹلائٹ تیار کیا جا رہا تھا۔ اگلے ہی روز انہیں وہاں کا دورہ کرایا گیا۔یہ واقعہ اس اعتماد کی ایک غیر معمولی مثال تھا جو چین کی قیادت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں رکھتی تھی۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تزویراتی کشیدگی کا جائزہ لیتے ہوئے خورشید محمود قصوری نے اس تصور کو مسترد کیا کہ امریکا اور چین کے درمیان جنگ لازماً ہو کر رہے گی۔انہوں نے کہا کہ چین کی پانچ ہزار سالہ تاریخ، تہذیبی روایت اور سیاسی فکر یہ ظاہر کرتی ہے کہ چین کی بنیادی ترجیح اپنے داخلی نظام، قومی وحدت اور معاشی ترقی کا تحفظ رہی ہے۔ تاریخی طور پر چین نے ایسی مسلسل توسیع پسندانہ پالیسی اختیار نہیں کی جس کا مقصد پوری دنیا پر غلبہ قائم کرنا ہو۔ان کے نزدیک موجودہ عالمی کشیدگی کی ایک اہم وجہ مغربی دنیا کا دفاعی اور تزویراتی ڈھانچہ بھی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے امریکی صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور کی 1961ء کی اس تنبیہ کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے فوجی صنعتی اتحاد (Military- industry complex)کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خبردار کیا تھا۔
انہوں نے جان میئرشائمر، اسٹیفن والٹ اور گراہم ایلیسن جیسے ممتاز ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دانش مندانہ اور حقیقت پسندانہ آوازیں امریکا اور چین کو ایسی تباہ کن جنگ سے بچانے میں کامیاب ہوں گی، جس کے نتائج صرف دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔
اپنے خطاب کے اختتامی حصے میں خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی اور دفاعی کامیابیوں نے اسے ایک ایسی پُراعتماد حیثیت فراہم کی ہے جہاں سے وہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ مثبت اور تعمیری روابط کو فروغ دے سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان پُرامن بقائے باہمی محض ایک اخلاقی خواہش نہیں بلکہ پورے ایشیا کی معاشی ترقی اور علاقائی استحکام کی بنیادی ضرورت ہے۔
ان تینوں ممالک کے درمیان امن سے علاقائی رابطوں کو فروغ مل سکتا ہے، تجارتی راستے محفوظ بن سکتے ہیں، وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور خطے میں طویل المدت خوش حالی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی ایک بڑی غریب آبادی اسی خطے میں آباد ہے۔ چنانچہ پاکستان، بھارت اور چین کی قیادتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باہمی کشیدگی کو کم کریں اور غربت، بے روزگاری اور پسماندگی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو ترجیح دیں۔
انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے بانی صدر ظفرالدین محمود نے چین کے ساتھ اپنی پچاس سالہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1976ء سے چین کا قریب سے مشاہدہ کرتے آ رہے ہیں۔ان کے مطابق انہوں نے اپنی آنکھوں سے چین کو ایک غریب اور زرعی معاشرے سے ایک عالمی اقتصادی طاقت میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک پالیسی یا کسی مختصر المدت منصوبے کا نتیجہ نہیں، بلکہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بصیرت افروز قیادت، منظم منصوبہ بندی اور عوام کی زندگی بہتر بنانے کے مستقل عزم کا ثمر ہے۔
انہوں نے چین کی کامیابی کے چار بنیادی ستون بیان کیے۔
چین کی ترقی کا پہلا ستون ایسی حکمرانی ہے جس میں پالیسیوں کا بنیادی مقصد عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانا ہے۔ غربت کا خاتمہ، صحت، تعلیم، رہائش اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو ریاستی ترجیحات میں مرکزی مقام دیا گیا۔
دوسرا ستون بدلتے ہوئے قومی اور عالمی حالات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے۔ چین نے اپنے بنیادی اور طویل المدت اہداف کو برقرار رکھتے ہوئے پالیسیوں اور طریقۂ کار میں ضروری تبدیلیاں کیں۔
تیسرا ستون باصلاحیت قیادت اور منظم کارکنوں کی تیاری ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے قابل افراد کی شناخت، تربیت اور بتدریج ترقی کے لیے ایک منظم نظام قائم کیا، جس سے نظم و ضبط، مؤثر حکمرانی اور مستقبل بین قیادت کو فروغ ملا۔
چوتھا ستون پُرامن ترقی کے اصول سے وابستگی ہے۔ چین نے اپنی معاشی ترقی کو عالمی استحکام، تعاون اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر ظفرالدین محمود نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کو مبارک باد پیش کی اور پیپلز لبریشن آرمی کی ننانوے ویں سالگرہ پر نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان اور چین کی دیرپا دوستی اور تزویراتی شراکت داری پر بھی اپنے اعتماد کا اعادہ کیا۔
ڈی ڈبلیو پی گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے ڈائریکٹر فاروق نسیم نے کہا کہ زبان اور ثقافت عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، اور یہی عوامی روابط آگے چل کر ریاستی تعلقات کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان حکومتی اور تزویراتی تعلقات تو بہت مضبوط ہیں، لیکن عوامی اور کاروباری سطح پر روابط ابھی اپنی پوری صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکے۔
اپنے چین کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین میں انہیں بہت سے ایسے افراد ملے جو اردو زبان میں گفتگو کر سکتے تھے، لیکن پاکستان میں چینی زبان جاننے والوں کی تعداد نہایت محدود ہے۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان حقیقی قربت پیدا کرنے کے لیے زبان سیکھنے، ثقافتی تبادلوں، طلبہ کے روابط اور براہِ راست کاروباری شراکت داری کو فروغ دینا ضروری ہے۔
سابق پرنسپل سیکرٹری برائے وزیرِاعظم فواد حسن فواد نے کہا کہ جب چین پاکستان اقتصادی راہداری کو عملی شکل دی گئی تو حکومت، بیوروکریسی، ذرائع ابلاغ اور پالیسی سازی سے وابستہ تقریباً تمام اہم حلقوں نے اسے ایک مثالی اور قائدانہ منصوبہ قرار دیا تھا۔تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب تک سی پیک کی حقیقی صلاحیت کے ایک چوتھائی حصے سے بھی پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ان کے مطابق سی پیک سے وابستہ معاشی، صنعتی، تجارتی اور علاقائی فوائد حاصل کرنے کی رفتار توقعات سے بہت کم رہی، جس کے باعث پاکستان اس منصوبے کے بہت سے ممکنہ ثمرات حاصل کرنے میں پیچھے رہ گیا۔
بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے ڈائریکٹر، سفیر منصور احمد خان نے بتایا کہ بی این یو میں چین سے متعلق علمی تحقیق اور دوطرفہ تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی چیئر قائم کی گئی ہے۔اس چیئر کا مقصد طلبہ، اساتذہ، محققین اور پالیسی دانشوروں کے درمیان روابط پیدا کرنا اور پاکستان چین تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ علمی کام کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرکز کے تحت پاکستان اور چین کے تزویراتی تعاون پر اعلیٰ سطحی مکالموں اور علمی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ مرکز میں چینی زبان کی تدریس کا انتظام بھی موجود ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان زبان اور ثقافت کی سطح پر فاصلے کم کیے جا سکیں۔
تقریب کے اختتام پر انہوں نے چیئر کی جانب سے شائع کیے گئے علمی کام کی نقول سابق وزیرِخارجہ خورشید محمود قصوری اور چین کے قونصل جنرل کو پیش کیں۔
اس موقع پر سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم کے ڈائریکٹر سید یاور علی، سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان، سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈشفقت اللہ شاہ نے بھی خطاب کیا اور پاک چین تعلقات، چین کی ترقی، علاقائی تعاون اور مستقبل کے امکانات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔









