میربابر مشتاق
امریکی سیاست میں فلسطینی نژاد مسلمان خاتون عبیر قواس کی کامیابی نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ نیویارک کی ریاستی سینیٹ کے انتخاب میں انہوں نے حلقہ نمبر 12 سے ری پبلکن امیدوار ہان خون تو کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ تقریباً 91 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک عبیر قواس 74.5 فیصد ووٹ حاصل کرچکی تھیں، جب کہ ان کے حریف کے حصے میں صرف 25.3 فیصد ووٹ آئے۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ نیویارک کی ریاستی سینیٹ میں منتخب ہونے والی پہلی فلسطینی نژاد امریکی خاتون اور حجاب پہننے والی پہلی خاتون بن گئیں۔
عبیر قواس کی یہ کامیابی محض ایک انتخابی نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک طویل خاندانی تاریخ، شناخت کی جدوجہد اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا سفر موجود ہے۔
عبیر نیویارک میں ایک فلسطینی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے خاندان نے 1948ء میں فلسطین سے ہجرت کی تھی۔ پہلے اردن میں سکونت اختیار کی اور پھر امریکا منتقل ہوگیا۔ تاہم ان کے خاندان کے لیے امریکا میں قیام بھی آسان نہیں رہا۔ ان کے والد کو امریکی امیگریشن حکام نے حراست میں لینے کے بعد ملک بدر کردیا اور دوبارہ اردن بھیج دیا۔ عبیر کے مطابق والد کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے نے ان کی سیاسی سوچ، سماجی شعور اور جدوجہد پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فلسطینی شناخت اور اپنے خاندان کی ہجرت کی تاریخ نے بھی انہیں سیاسی میدان میں سرگرم ہونے کی تحریک دی۔
عبیر قواس فلسطینی حقوق کی توانا حامی رہی ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکی عوام کا ٹیکسوں سے جمع ہونے والا پیسہ جنگوں اور فلسطینیوں کی تباہی پر خرچ کرنے کے بجائے تعلیم، صحت، روزگار اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر صرف ہونا چاہیے۔
وہ نیویارک میں شروع کی گئی ’ناٹ آن آور ڈائم‘ (Not On Our Dime) مہم کی بانی کارکنوں میں شامل رہی ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد نیویارک میں رجسٹرڈ غیر منافع بخش اداروں کے ذریعے اسرائیلی آبادکاری اور فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مالی معاونت روکنا ہے۔ اس مہم میں نیویارک کے موجودہ میئر زہران ممدانی کے ساتھ بھی ان کا کردار رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کون ہیں؟
اسرائیل کی امداد میں چار ارب ڈالر کی کمی، امریکی سیاست میں تاریخی تبدیلی کا اشارہ ہے؟
عبیر قواس کی سرگرمیاں صرف فلسطین کے مسئلے تک محدود نہیں رہیں۔ وہ گزشتہ پندرہ برس سے زیادہ عرصے سے سماجی اور عوامی مسائل پر کام کررہی ہیں۔ تارکین وطن کے حقوق کا تحفظ، کم آمدنی والے طبقات کی مشکلات، معاشی ناہمواری کا خاتمہ، پولیس کی نگرانی اور مبینہ ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانا اور کم از کم اجرت میں اضافے کی جدوجہد ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا اہم حصہ رہی ہیں۔
ان کی انتخابی مہم کو بھی مختلف اہم سیاسی شخصیات کی حمایت حاصل رہی۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز اور فلسطینی نژاد کانگریس رکن راشدہ طلیب نے ان کی حمایت کی۔ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا نے بھی ان کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ جون 2026ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے داخلی انتخاب میں انہوں نے 60.3 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد 3 نومبر کے عام انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئیں۔
عبیر قواس کی کامیابی امریکی معاشرے میں فلسطینی نژاد شہریوں اور مسلمان خواتین کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ایک ایسی خاتون کا ریاستی قانون ساز ادارے تک پہنچنا جو اپنی فلسطینی شناخت برقرار رکھتی ہے، حجاب پہنتی ہے اور غزہ سمیت فلسطینی حقوق کے معاملات پر کھل کر بات کرتی ہے، یقیناً امریکی سیاست میں ایک قابلِ توجہ واقعہ ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی سینیٹ میں پہنچنے کے بعد عبیر قواس اپنے انتخابی وعدوں، فلسطینی حقوق، تارکین وطن کے مسائل اور معاشی ناہمواری کے حوالے سے کس حد تک عملی کردار ادا کرتی ہیں۔ انتخابی کامیابی ایک مرحلہ ہے، اصل امتحان ایوان کے اندر عوامی مسائل کی ترجمانی اور انہیں عملی پالیسی میں تبدیل کرنے کا ہوتا ہے۔
یہاں ایک اہم وضاحت بھی ضروری ہے کہ عبیر قواس نیویارک کی ریاستی سینیٹ کی رکن منتخب ہوئی ہیں، امریکا کی وفاقی سینیٹ کی نہیں۔ دونوں ادارے الگ الگ ہیں۔
بہرحال، ان کی کامیابی یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی جدوجہد، عوامی رابطہ اور سماجی مسائل پر مسلسل آواز اٹھانے کے ذریعے نئی نمائندگی کے امکانات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ فلسطینی خاندان کی ایک بیٹی کا امریکی ریاستی سینیٹ تک پہنچنا ان خاندانوں کے لیے بھی ایک علامتی لمحہ ہے جن کی تاریخ ہجرت، شناخت اور اپنے حقوق کی جدوجہد سے عبارت ہے۔









