تحریر: ظفر عالم چیمہ
ہم ایسے عہد کے مسافر ہیں جہاں عزت و وقار کا ترازو ڈگری، کردار یا محنت سے نہیں بلکہ فالوورز کی گنتی اور لائکس کی تعداد سے تولا جاتا ہے۔
ہمارے قومی ہیرو اب وہ نہیں جو کتاب لکھیں، علم تخلیق کریں یا محنت سے نئی راہیں کھولیں، بلکہ وہ ہیں جن کی پوسٹ پر سب سے زیادہ دل کے نشان ابھرتے ہیں۔ یوں لائکس ہماری نئی کرنسی بن چکے ہیں اور تصویریں ہمارے نئے نوٹ۔
آج وقار کی کسوٹی یہ نہیں کہ آپ نے کتنی زندگیاں سنواری ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے کس مشہور شخصیت کے ساتھ سیلفی بنائی ہے۔
یہ تصویریں محض تصویریں نہیں، یہ ہمارے زمانے کے ’نئے بت‘ ہیں جنہیں ہم ہر اسکرین کے طواف کرواتے ہیں۔ اور ہم وہ معصوم پجاری ہیں جو ہر لائک کو نذرانہ سمجھ کر سرشار ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے: کیا یہ سیلفی نما کامیابیاں حقیقت میں انسان کو بڑا بنا دیتی ہیں؟ یا یہ محض اسکرین کی چمک ہے جو بجھتے ہی اندھیروں کی چادر تان دیتی ہے؟
قرآن مجید تو ہمیں کچھ اور ہی بتاتا ہے: "إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” (الحجرات: 13)۔
مگر ہم نے تقویٰ کو پرانی کہانی سمجھ کر ری ایکشنز اور شیئرز کو عزت کا اصل ترازو بنا لیا۔ جس کی پوسٹ پر سب سے زیادہ تبصرے ہوں وہی ’معزز‘ ٹھہرتا ہے، چاہے اس کی زندگی اندر سے کھوکھلی کیوں نہ ہو۔
یہ رویہ غلامی کی نئی قبا ہے؛ کبھی انگریز کے ساتھ تصویر کھنچوانا وقار تھا، آج کسی سیاست دان یا اداکار کے ساتھ سیلفی وہی منصب رکھتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے تصویریں البموں کی گرد میں چھپ جاتی تھیں، اب ہر اسکرین پر بتوں کی طرح آویزاں ہیں۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: ’جس کا کوئی عمل نہیں، اس کی کوئی اصل نہیں۔‘ مگر ہم نے عمل کو دفنا دیا اور تصویر کو اصل بنا لیا۔ یوں تحقیق یتیم، محنت بے مول اور عزت محض ری ایکشنز کی محتاج رہ گئی۔ یہ سب کچھ بالکل ایسا ہے جیسے خالی برتن پر سونے کی ملمع کاری—اوپر سے جگمگاہٹ، اندر سے ویرانی۔
اصل کامیابی تو کردار اور محنت میں ہے۔ ایک استاد کی کامیابی اس کے شاگردوں کے کردار میں جھلکتی ہے۔ ایک مزدور کی عزت اس کے پسینے کی خوشبو میں سانس لیتی ہے۔ ایک ڈاکٹر کا وقار اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ اپنی مہارت سے مریض کو نئی زندگی بخشتا ہے۔
یہ کامیابیاں تصویری فریم کی محتاج نہیں ہوتیں، یہ روشنی ہیں اور روشنی کو چراغ کی قید کی ضرورت نہیں۔
نوجوانوں کے لیے درد مندانہ پیغام
سب سے زیادہ اس فریب کی گرفت میں ہمارے نوجوان ہیں، جو اپنی اصل پہچان تصویروں اور تعلقات کی جھوٹی چمک میں تلاش کرنے لگے ہیں۔
اے نوجوانو! یاد رکھو، دنیا ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو اپنے ہنر، علم اور کردار سے مقام پاتے ہیں، نہ کہ ان کو جو دوسروں کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں۔ تمہارا وقار تمہارے کردار میں ہے، تمہاری پہچان تمہارے عمل میں ہے، اور تمہاری کامیابی تمہاری محنت میں ہے۔
حل اور تجاویز
اس سوچ کو بدلنے کے لیے چند عملی اقدامات ناگزیر ہیں:
تعلیمی اداروں میں تربیت: نصاب اور دروس میں کردار سازی کو وہی اہمیت دی جائے جو علم کو دی جاتی ہے، تاکہ نئی نسل جان لے کہ عزت محنت میں ہے، تعلقات میں نہیں۔
میڈیا کا مثبت کردار: ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ اصل ہیروز—اساتذہ، سائنس دان، مزدور اور دیانت دار لوگوں—کو نمایاں کریں، نہ کہ صرف مشہور چہروں کو۔
والدین کی ذمہ داری: گھروں سے ہی یہ تربیت شروع ہو کہ کامیابی اپنی جدوجہد میں ہے، تصویروں کی نمائش میں نہیں۔
سوشل میڈیا کا درست استعمال: محض چہروں کی تصاویر کے بجائے اصل کارنامے، تحقیقات، سماجی خدمت اور مثبت افکار شیئر کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کے سامنے حقیقی مثالیں آئیں۔
قومی بیانیہ کی تبدیلی: ریاست اور رہنماؤں کو بھی یہ پیغام دینا ہوگا کہ عزت اور کامیابی صرف دیانت، علم اور خدمت سے ہے۔
اگر ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی تو آنے والی نسلیں بھی تصویروں کے سائے میں جی کر ذہنی غلامی کا شکار رہیں گی۔ مگر اگر ہم نے کردار، محنت اور عمل کو اپنی اصل پہچان بنا لیا تو یہی قوم پھر سے خوددار، باوقار اور عظمت کی علمبردار بن کر ابھرے گی۔











One response to “سوشل میڈیا کا فریب اور ہماری حقیقت”
عمدہ تحریر جو تلخ حقائق لیے ہوے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اور ہماری موجودہ نسل وہی معیار اپنا سکتی ہے۔۔ ؟ اگرگردش ایام ماضی کی طرف بھی پلٹے تو بہتری کا کتنے فیصد امکان ہے۔۔ اور یہ قوت نافذہ کون ہوگی۔۔ حکومت تو ہو نہیں سکتی اس کی تو اپنی "کارکردگی”یہی لائیکس ہیں