دوحہ سربراہی کانفرنس

خلیجی ممالک کو امریکی اثر و رسوخ سے نکلنےمیں کتنا وقت لگے گا؟

·

خلیجی ممالک میں امریکی دفاعی ضمانتوں پر اندھا دھند انحصار ترک کرنے کی سوچ اس صدی کا ایک اہم واقعہ ہے۔

یہ دراصل اُس جیوپولیٹیکل پوزیشن میں تبدیلی کا اشارہ ہے جو 1970 کی دہائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے امریکا سے منسلک ہونے کی صورت میں شروع ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ خلیجی بادشاہتیں اپنی سلامتی اور معیشت کے لیے واشنگٹن کی کامل محتاج بنتی چلی گئیں۔ امریکی ہتھیار، فوجی اڈے، عسکری تربیت اور بالخصوص ’سکیورٹی چھتری‘ ان کی سلامتی کے بنیادی ستون بن گئے۔

اس جامد صورتحال میں پہلا ارتعاش اُس وقت پیدا ہوا جب افغانستان سے امریکی انخلا ہوا۔ اُس موقع پر خلیجی ممالک نے پہلی بار محسوس کیا کہ واشنگٹن کسی بھی لمحے اپنے مفاد کی بنیاد پر اس خطے کو بھی تنہا چھوڑ سکتا ہے۔ اسی کے بعد ان ریاستوں کی جانب سے چین اور روس کی طرف جھکاؤ دیکھنے میں آیا۔

مثال کے طور پر چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات بحال ہوئے، سعودی عرب اور امارات نے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (SCO) میں شمولیت اختیار کی، اور روس کے ساتھ OPEC+ تعاون بڑھایا گیا۔

اس سوچ کو اصل بنیاد اُس وقت ملی جب قطر پر اسرائیلی حملے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف خلیجی ریاستوں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ تھا بلکہ امریکا کی دفاعی ضمانتوں پر قائم سلامتی پالیسی کی بنیادوں پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان تھا۔ یہاں ایک بنیادی تضاد کھل کر سامنے آیا:

امریکا خلیجی ممالک کو دفاعی چھتری تو فراہم کرتا ہے، لیکن جب اسرائیل حملہ آور ہو تو یہ چھتری عملاً کارآمد نہیں رہتی۔ اس حقیقت نے قطر سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو ازسرِنو ترتیب دیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب خلیجی ممالک کے دانشور اور عسکری منصوبہ ساز کھلے عام ’کریسنٹ سیکیورٹی انیشیٹو‘ کو زیرِ بحث لا رہے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ خلیجی ریاستوں میں آزادیِ اظہارِ رائے کا وہ ماحول موجود نہیں جہاں کوئی فرد یا ادارہ کھلے عام حکومتی پالیسیوں پر تنقید یا متبادل تجاویز دے سکے۔ وہاں جو بھی سوچ یا نظریہ عام سطح پر زیرِ بحث آتا ہے، وہ کسی نہ کسی درجے پر حکمران طبقات کی ترجیحات اور داخلی مباحث کا عکس ہوتا ہے۔

البتہ واضح رہے کہ امریکا دہائیوں سے اپنی فوجی موجودگی، دفاعی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے عرب بادشاہتوں کی سلامتی کا ضامن رہا ہے۔ اس لیے اُس سے کنارہ کشی اختیار کرنا یا کسی متبادل کی طرف بڑھنا آسان نہیں۔ خلیجی ریاستوں کے فوجی سازوسامان کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ براہِ راست امریکی کمپنیوں سے آتا ہے، جبکہ باقی بیشتر اسلحہ اور دفاعی سازوسامان بھی امریکہ کے کنٹرول والے نیٹو ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے 2017 میں واشنگٹن کے ساتھ 142 ارب ڈالر کا ایک وسیع دفاعی پیکج طے کیا تھا، جس میں بعد میں مزید اضافہ بھی ہوا۔ یہ معاہدہ سعودی سلامتی کی پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔ صرف 2024 میں سعودی عرب نے 25 ارب ڈالر کے ہتھیار امریکا سے خریدے۔ متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی کے قریب واقع الظفرہ ایئر بیس امریکی جنگی حکمتِ عملی کا اہم مرکز ہے۔ حالیہ برسوں میں امارات نے 200 ارب ڈالر سے زیادہ کے دفاعی اور ٹیکنالوجی معاہدے بھی امریکا سے کیے۔

قطر کے العدید ایئر بیس میں تقریباً دس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، اور یہیں سے افغانستان اور عراق کی جنگوں کو کنٹرول کیا گیا تھا۔ بحرین میں 1991 کے دفاعی تعاون معاہدے کے بعد سے امریکی ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، جو خلیج فارس اور بحیرۂ عرب میں امریکی نیول طاقت کی علامت ہے۔

کویت میں خلیج جنگ کے بعد تیرہ ہزار امریکی فوجی اور کئی فوجی اڈے مستقل موجود ہیں، جبکہ عمان اگرچہ نسبتاً محتاط ہے لیکن اس نے بھی اپنی بندرگاہیں امریکی بحریہ کے لیے کھول رکھی ہیں۔

سول ٹیکنالوجی کے معاملے میں بھی خلیجی ممالک بڑی حد تک امریکا کے مرہونِ منت ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان ممالک نے مجموعی طور پر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا سے 2025 کے دوران چار ٹریلین ڈالر کے معاہدے کیے ہیں۔

معاشی طور پر بھی یہ ریاستیں مکمل طور پر امریکا سے بندھی ہوئی ہیں۔ 1970 کی دہائی میں سعودی عرب اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے معاہدے نے پیٹرو ڈالر نظام کی بنیاد رکھی۔ اس کے مطابق خلیجی تیل صرف امریکی ڈالر میں فروخت کیا جائے گا اور حاصل شدہ آمدنی امریکی بانڈز اور ٹریژریز میں منتقل کی جائے گی۔ اس انتظام نے ڈالر کو عالمی کرنسی بنایا، واشنگٹن کو عالمی معیشت کا محور بنایا، اور خلیجی ریاستوں کو امریکی شکنجے میں جکڑ دیا۔ آج خلیجی ممالک نے امریکی مالیاتی منڈیوں میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

اس کے علاوہ خلیجی حکمران خاندانوں کی ذاتی دولت بھی امریکا سے جڑی ہوئی ہے۔ آل سعود خاندان کی تقریباً ایک اعشاریہ چار ٹریلین ڈالر مالیت کی دولت کا بڑا حصہ امریکا میں رئیل اسٹیٹ اور مالیاتی سرمایہ کاری میں لگا ہوا ہے۔

قطر کے آل ثانی خاندان کی دو سو سے تین سو ارب ڈالر مالیت کی دولت کا بیشتر حصہ امریکی بینکوں اور کمپنیوں میں ہے۔ امارات کے آل نہیان خاندان کی نوّے فیصد دولت نیویارک، کیلیفورنیا اور سلیکون ویلی کے منصوبوں میں لگی ہوئی ہے۔ ایسی ہی صورتحال دیگر خلیجی ممالک کے شاہی خاندانوں کی بھی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ خلیجی ریاستوں کی سلامتی، ٹیکنالوجی اور معیشت کا مکمل انحصار امریکا پر ہے۔ ایسے میں اگر یہ ممالک امریکی اثر سے نکلنے کی سنجیدہ کوشش شروع بھی کریں، تو اس پر عمل درآمد اور اس کے اثرات ظاہر ہونے میں کم از کم پانچ سے دس سال کا وقت لگے گا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

One response to “خلیجی ممالک کو امریکی اثر و رسوخ سے نکلنےمیں کتنا وقت لگے گا؟”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    بہت عمدہ تجزیہ ۔۔ حقیقت حال ۔۔ لیکن اس کی کیا ضمانت ہے کہ خلیجی ممالک امریکہ سے آج آزادی کا سفر شروع کریں تو امریکہ کوئی نئی چال چل کر "عہد غلامی”کی تجدید نہ کر ے۔۔