عطاء الرحمن چوہان

مقدمہ قومی زبان کا

·

قومی زبان کا سیدھا سادہ مقدمہ یہ ہے کہ اسے پاکستان کی سرکاری اور دفتری زبان نہیں بنایا گیا، حالانکہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا دوٹوک فیصلہ موجود ہے، دستورِ پاکستان کی شق 251 میں اس کی ضمانت دی گئی ہے اور عدالتِ عظمیٰ پاکستان کا واضح فیصلہ بھی موجود ہے۔ جنرل ضیاء الحق، سابق صدر کا صدارتی فرمان بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔

اس مقدمے کے براہِ راست فریق/مجرم 1988 سے آج تک پاکستان کے صدور، وزرائے اعظم اور وفاقی سیکرٹری کابینہ ڈویژن ہیں۔

جبکہ شریکِ مجرمان میں وفاقی کابینہ، وفاقی محکموں کے سربراہان اور حکومتی و ریاستی اداروں کے سربراہان ہیں، جن پر اردو کو بطورِ دفتری زبان اپنے اداروں میں رائج کرنا فرض تھا۔

اس مقدمے میں پاکستان کی جوڈیشری کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے۔ سپریم کورٹ کے سینیئر ججوں نے اس مقدمے کو مختلف اوقات میں جس مہارت سے زیرِ التواء رکھا، وہ اپنی نظیر آپ ہیں۔

قومی زبان اردو کا نفاذ : شق نمبر 251 کے ساتھ ستم ظریفی

اردو۔۔۔۔۔۔ آنے والی نسلوں کو یہ زبان بھی سیکھنے دیں

اردو زبان، ملکی وحدت کی پہچان

پاکستان کی بار کونسلیں، جو خود کو دستور کی محافظ قرار دیتی ہیں، نے کبھی اس پر آواز نہیں اٹھائی۔

پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں، جو قومی زبان پر بڑے بڑے دعوے کرنے کے باوجود ایوان میں خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں۔

ذرائع ابلاغ، جو قومی زبان کے ذریعے کماتے اور کھاتے ہیں، لیکن اس کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے پر کٹنے کے ڈر سے خاموش رہتے ہیں۔ بے لاگ صحافت اور نڈر کہلانے والے کالم نگار بھی اس معاملے میں بھیگی بلی بنے رہے ہیں۔

ٹریڈ یونینز، تاجر تنظیمیں اور اساتذہ تنظیمیں سب کسی نہ کسی درجے میں مجرم ہیں کہ انہوں نے بھی اس بنیادی مسئلے کو اپنی ترجیحات میں کبھی شامل نہیں رکھا۔

رائے عامہ کو متحرک کرنے والے تمام ادارے اور پالیسی سازی اور عمل درآمد کروانے کے سارے ذمہ داران نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔

قانون کی حکمرانی اور نفاذِ قومی زبان اس قوم کا ایسا خواب ہے جو آج تک پورا نہیں ہوسکا۔ ماضی میں بڑی بڑی شخصیات نے حکمرانوں کو متوجہ کیا، سوشل میڈیا کی آمد کے بعد ہر خاص و عام نے یہ مطالبہ دہرایا، لیکن حکمرانوں اور اشرافیہ نے انگریزی کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ ایسی قسم جس کے سامنے دستور بے معنی، سپریم کورٹ کے فیصلے بے کار، عوامی منشاء کھوہ کھاتے اور قائداعظم کے فرامین کوڑا کباڑ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔

قومی زبان کے مقدمے میں عوام بھی اسی مجرمانہ غفلت کے مرتکب رہے ہیں، جو اشرافیہ کرتی رہی۔ وہ آنکھیں بند کرکے تعمیل کرتے رہے۔ آج تک عوام کی طرف سے ان مجرموں کو کبھی نہیں للکارا گیا۔

قومی زبان اب ایک مظلوم سائلہ کی طرح ہر طرف سے مایوس ہو کر زندگی کے دن پورے کرنے پر مجبور ہے۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔