تحریر: مہتاب عزیز
پاکستان کی جانب سے کابل سمیت افغانستان کے اندر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں پر کیے گئے محدود فضائی حملوں اور سرحدی جھڑپوں کے بعد بالآخر 48 گھنٹے کی جنگ بندی کو مستقل کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان نے سفارتی سطح پر وہ تمام راستے اختیار کیے جو کسی ہمسایہ ملک سے تنازع کے حل کے لیے ممکن ہوتے ہیں۔
کابل میں پاکستانی سفارتخانے نے 180 سے زیادہ مرتبہ تحریری احتجاجی مراسلے افغان حکومت کے سپرد کیے، دس مرتبہ مشترکہ رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں معاملہ اٹھایا، دو سو سے زیادہ بار آئی ایس آئی کے نمائندوں نے کابل جا کر افغان حکام سے بات چیت کی، آٹھ سو سے زائد بار سفارتی سطح پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، اور تین مرتبہ چین کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے۔ پانچ مرتبہ پاکستانی وزرائے خارجہ کابل جا کر اعلیٰ حکام سے ملے۔
پاکستان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ طالبان رجیم، ٹی ٹی پی کو پاکستان پر دہشتگرد حملوں سے روکے۔ اس کے جواب میں ان کی رٹ ہمیشہ ایک ہی رہی: ‘ہم ان پر قدغن نہیں لگا سکتے، وہ ہمارے کنٹرول میں نہیں۔‘
ان چار برسوں میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر ایک ہزار سے زائد دہشتگرد حملے ہوئے، جن میں 3800 سے زیادہ پاکستانی شہری اور اہلکار شہید ہوئے۔ پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں اور سخت دفاعی اقدامات کے بعد بالآخر طالبان رجیم کو حقیقت کا احساس ہوا۔
اس کے بعد قطر میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان رجیم نے پاکستان کے خلاف دہشتگردی میں ملوث گروہوں کو روکنے کا وعدہ کیا ہے۔ معاہدے میں طے پایا ہے کہ سرحدی علاقوں میں مکمل امن قائم رکھا جائے گا اور دونوں ممالک براہِ راست رابطے کے لیے مشترکہ سرحدی دفتر قائم کریں گے۔ معاہدے کے مطابق چمن، تورخم اور غلام خان جیسے حساس سرحدی علاقوں میں فائرنگ، دراندازی اور اشتعال انگیزی کو فوری طور پر بند کیا جائے گا۔ ایک مشترکہ رابطہ مرکز (Joint Border Coordination Office) دونوں ممالک کے فوجی افسران کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے گا تاکہ کسی بھی واقعے کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔
طالبان رجیم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ایسے گروہ کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی جو پاکستان کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد عناصر کے خلاف پاکستان کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائی کی بھی ہامی بھری ہے۔
ساتھ ہی طالبان رجیم نے پاکستان سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی اور اسلامی اصولوں کے مطابق تعاون جاری رکھے۔ چمن اور تورخم پر تجارت کے لیے علیحدہ امن کاریڈور (Peace Corridor) قائم کیا جائے گا تاکہ عوامی آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں محفوظ رہ سکیں۔ پاکستان عام شہریوں، تاجروں اور مریضوں کے لیے خصوصی پاس نظام متعارف کروائے گا، جس پر پاکستان نے رضامندی ظاہر کی ہے۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے سرکاری ترجمان اور میڈیا ادارے ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں گے، اور اسلامی اخوت و باہمی احترام پر مبنی بیانات کو ترجیح دیں گے۔ اس معاہدے کی میزبانی اور نگرانی ریاستِ قطر کرے گی، جبکہ چین اور ایران بطور ضامن ممالک اس کی حمایت کریں گے۔ ہر تین ماہ بعد ایک جائزہ اجلاس (Review Meeting) دوحہ میں منعقد ہوگا تاکہ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ معاہدہ دستخط کے دن سے نافذ العمل ہوگا اور ابتدائی طور پر دو سال کے لیے قابلِ عمل رہے گا۔
یہ وہی مقصد ہے جس کے لیے پاکستان نے چار برس تک مسلسل کوششیں کیں کہ امن، استحکام اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل ہو جائے۔ لیکن بالخصوص قندھاری گروپ کی ضد، دوغلی پالیسی اور ٹی ٹی پی کو کھلی چھوٹ نے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں سختی اختیار کرے۔
اب دوحہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا مؤقف درست تھا۔ یہ معاہدہ طالبان رجیم کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر انہوں نے اس بار بھی وعدہ خلافی کی، تو پاکستان نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں سمجھتے۔
نوٹ: تحریری معاہدے کے علاوہ قندھاری گروپ نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھارتی انٹیلیجنس آپریٹو کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔











One response to “پاکستان اور طالبان حکومت میں مستقل جنگ بندی معاہدہ، نیا امتحان شروع”
خوب ۔۔