اسرائیلی-وزیر-اعظم-بنیامین-نیتن-یاہو-اور-دیگر-وزرا-21-اسرائیلی-فوجیوں-کی-ہلاکت-پر-مغموم

غزہ کی 2سالہ جنگ: اسرائیل کا عسکری، سفارتی اور اخلاقی زوال

·

غزہ کی دو سالہ جنگ اسرائیل کے لیے محض ایک عسکری معرکہ نہیں بلکہ ایک تاریخی بحران ثابت ہوئی ہے۔ یہ جنگ جہاں فلسطینی عوام کے لیے تباہی اور بربادی کا باعث بنی، وہیں اسرائیل کے لیے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی سطح پر ایسی شکست ثابت ہوئی جس کے اثرات آنے والے برسوں میں مزید شدید ہوتے جائیں گے۔ طاقت کے عالمی توازن میں اسرائیل کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے، یورپ اور امریکا میں اس کے حق میں رائے عامہ بکھر گئی ہے، اور اندرونی سیاست میں قیادت پر اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

اس دو سالہ جنگ نے اسرائیل کو پہلی بار عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ یورپی ممالک، جو ماضی میں اسرائیل کے مضبوط اتحادی سمجھے جاتے تھے، اب اس کے خلاف عوامی دباؤ کے زیرِ اثر اپنی پالیسیوں میں واضح تبدیلی لا رہے ہیں۔ لندن، پیرس، برلن اور میڈرڈ کی سڑکوں پر لاکھوں افراد نے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کیے، جنہوں نے نہ صرف یورپی حکومتوں کے رویے کو متاثر کیا بلکہ اسرائیل کے لیے سیاسی اور اخلاقی حمایت کے دروازے بند کر دیے۔ عوامی دباؤ پر کئی یورپی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تجارت محدود کر دی ہے، بعض ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظرثانی شروع کی ہوئی ہے، اور کچھ نے کھلے عام اعلان کیا کہ اب اسرائیل کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔

اقوامِ متحدہ میں بھی منظر نامہ بدل چکا ہے۔ جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیرش نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی عسکری طاقت کی کامیابی نہیں بلکہ سفارت کاری کی فتح ہے۔ یہ بیان دراصل اسرائیلی بیانیے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ تھا، کیونکہ اسرائیل ہمیشہ اپنی عسکری طاقت کو سفارتی برتری کی ضمانت قرار دیتا رہا ہے۔ مگر اب عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہو گیا ہے کہ اسرائیل کی فوجی طاقت نہ تو امن لا سکی، نہ انسانی وقار کا احترام کر سکی، اور نہ ہی اپنے سیاسی مقاصد حاصل کر سکی۔

عرب و مسلم دنیا میں بھی اسرائیل کے لیے فضا مزید تنگ ہو گئی ہے۔ قطر، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک نے ثالثی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کیا، جس سے نہ صرف فلسطینی موقف کو تقویت ملی بلکہ اسرائیل کی کمزوری بھی کھل کر سامنے آئی۔ عرب ممالک، جو گزشتہ برسوں میں ابراہام معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا رہے تھے، اب دباؤ میں ہیں۔ ان کے عوام اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی قربت کو ’غداری‘ کے مترادف سمجھنے لگے ہیں۔ یہ دباؤ اتنا بڑھ چکا ہے کہ خلیجی ریاستیں بھی اب اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔

تاریخی طور پر اسرائیل کی سب سے بڑی پشت پناہی ہمیشہ امریکا رہی ہے، مگر اب یہ حمایت بھی متزلزل ہو چکی ہے۔ اگرچہ امریکی حکومت نے جنگ میں اسرائیل کو مالی، عسکری اور سیاسی مدد فراہم کی، لیکن جیسے جیسے جنگ آگے بڑھی، واشنگٹن پر عوامی اور اخلاقی دباؤ بڑھتا گیا۔

امریکی جامعات میں طلبہ تحریکوں نے اسرائیل کے خلاف ایسی فضا پیدا کی جو گزشتہ دہائیوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ’فری فلسطین‘ کی مہمات یونیورسٹی کیمپسز سے سوشل میڈیا تک پھیل گئیں، اور لاکھوں نوجوانوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ نوجوان نسل، جسے ’جنریشن زی‘ کہا جاتا ہے، اب امریکی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے۔ ان نوجوانوں کے لیے اسرائیل مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست نہیں، بلکہ ایک قابض اور ظالم استعماری طاقت ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو سمارٹ فون، انٹرنیٹ کی دنیا میں پلی بڑھی ہے۔ اسرائیلی بمباری کے مناظر نے ان کے ذہنوں میں اسرائیل کی شبیہ ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دی ہے۔

امریکی کانگریس میں بھی اب اختلافی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔ بعض ارکان نے اسرائیل کو دی جانے والی امداد پر کھلے عام سوال اٹھائے، اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی افواج کے جرائم کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ وہ فضا ہے جو اسرائیل کے لیے کبھی ناقابلِ تصور تھی۔ اب امریکی حمایت غیر مشروط نہیں رہی بلکہ مشروط، متنازع اور محدود ہوتی جا رہی ہے۔

عسکری میدان میں بھی اسرائیل کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی خفت اٹھانی پڑی۔ دو سال کی شدید جنگ، ہزاروں فضائی حملوں اور جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود اسرائیل نہ تو حماس کو ختم کر سکا، نہ ہی اپنے یرغمالیوں کو مکمل طور پر آزاد کرا سکا۔ بالآخر اسے حماس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا جنہیں وہ دہشتگرد قرار دیتا رہا تھا۔

یہ حقیقت کہ حماس آج بھی غزہ میں منظم اور متحرک ہے، اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد اور دفاعی افواج کے لیے ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔ اسرائیلی فوج کے سینئر افسران اب خود اعتراف کرنے لگے ہیں کہ انہیں زمینی حقائق کا غلط اندازہ تھا، اور شہری علاقوں میں طویل جنگ نے اسرائیلی فوجی برتری کو بے اثر کر دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ محاذ آرائی نے بھی اسرائیلی دفاع اور منصوبہ بندی کی کمزوریاں عیاں کر دیا ہے۔ ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کو بار بار امریکی مداخلت کی ضرورت پیش آئی، جو اس کے ’خودمختار دفاعی نظام‘ کے دعوے کی تردید کرتی ہے۔ اسرائیل کی دفاعی پالیسی اب اپنے ہی وزن کے نیچے دبنے لگی ہے۔ ایک ایسی پالیسی جو طاقت کے زعم میں اخلاقی اور انسانی اصولوں سے یکسر خالی ہو چکی ہے۔

اس جنگ نے اسرائیلی معاشرے کو اندر سے چیر کر رکھ دیا ہے۔ وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کی قیادت بداعتمادی کے بھنور میں پھنس چکی ہے۔ عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ ایک ایسی فوج، جو دنیا کی طاقتور ترین افواج میں شمار ہوتی ہے، کیوں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی؟ اسرائیلی میڈیا میں پہلی بار فوجی حکمتِ عملی پر کھلی تنقید ہو رہی ہے، اور حکومت مخالف مظاہرے دوبارہ شدت اختیار کر رہے ہیں۔

نتین یاہو کے سیاسی مخالفین اب انہیں ملک کی بدترین عسکری مہم جوئی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے اسرائیل کو محفوظ کرنے کے بجائے اسے عالمی سطح پر بدنام اور تنہا کر دیا۔ اسرائیلی معاشرہ جس انتہا پسند قوم پرستی کے بیانیے پر متحد تھا، وہ بیانیہ اب اپنی کشش کھو چکا ہے۔

غزہ کی جنگ اسرائیل کے لیے محض ایک عسکری ناکامی نہیں بلکہ ایک وجودی بحران بن چکی ہے۔ اس جنگ نے اسرائیل کی سفارتی ساکھ، اخلاقی جواز، اور عالمی حیثیت تینوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وہ ملک جو کبھی مشرقِ وسطیٰ میں ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا، اب تنہائی، بے یقینی اور داخلی انتشار کا شکار ہے۔

یہ بحران کسی ایک حکومت یا فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں بلکہ اس طرزِ فکر کا انجام ہے جو طاقت کو اخلاق پر، اور جبر کو انصاف پر ترجیح دیتا رہا۔ نتین یاہو اور ان کی انتہا پسند پالیسیوں نے اسرائیل کو وقتی سیاسی فائدہ تو شاید دیا ہو، مگر اب وہی پالیسیاں اسرائیل کے مستقبل کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔

دنیا بدل رہی ہے۔ عوامی رائے، سفارتی ترجیحات، اور اخلاقی پیمانے سب نئے سرے سے متعین ہو رہے ہیں۔ اور اس نئے دور میں اسرائیل کے پاس اپنی ساکھ بچانے کے لیے نہ تو اخلاقی دلیل باقی ہے، نہ سیاسی وزن، اور نہ ہی وہ عالمی ہمدردی جو کبھی اس کے حق میں تھی۔

یہ جنگ بند ہو چکی ہے، مگر اسرائیل کی شکست اب تاریخ میں درج ہو چکی ہے۔ ایک ایسی شکست جو بندوقوں سے نہیں، بلکہ عوامی شعور، سفارتی حکمت اور اخلاقی طاقت سے دی گئی۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

One response to “غزہ کی 2سالہ جنگ: اسرائیل کا عسکری، سفارتی اور اخلاقی زوال”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    بہت مدلل غیر جانبدار اور موثر تحریر ۔ اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں