جب دادا جان حج کرنے جارہے تھے تو گھر کے برآمدے میں ان کا بستر بند باندھا جارہا تھا، ٹرنک میں چیزیں رکھی جا رہی تھیں، سبھی گھر والے ارد گرد کھڑے یا بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ منظر مجھے خواب کی طرح یاد ہے۔ میں بڑے ماموں کی گود میں بیٹھی تھی۔
مجھے انہوں نے پوچھا:
’ننھی ! حج کرنے جانا ہے ؟‘ میں ماموں جان کی طرف دیکھتی رہی۔ ماموں جان نے کہا :
’چلو ننھی کو تو ٹرنک میں ڈال کر لے جائیں۔‘
اس بات پہ سب ہنسنے لگے۔
’ مجھے لگا کہ سچ مچ مجھے ٹرنک میں رکھ دیا جائے گا۔‘
حج کے سفر کی تیاری کا یہ دھندلا سا خاکہ اور اماں جی کی دعا ذہن نشین ہے جو وہ قرآن پاک پڑھنے والی لڑکیوں سے سبق کی طرح روزانہ سنتی تھیں اور یہ ہر چھوٹے سے بچے کو بھی رٹ گئی تھی۔
’یا اللہ! اماں جی کو حج پہ بلا لے‘
اس دعا کی تکرار نے اوائل عمر سے ہی حج کی بے تاب تمنا دل میں بٹھا دی تھی۔
ذرا ہوش سنبھالا تو جب بھی کوئی رشتہ دار حج کرنے جاتا تو میری ان سے ایک ہی درخواست ہوتی کہ:
’میری حاضری کی درخواست دے آئیے گا باقی جو کہنا ہے میں خود پہنچ کر کہہ دوں گی۔‘
میں اسکول میں پڑھتی تھی جب نانی اماں جی رحمھا اللہ اپنے بھائی حکیم محمد عبداللہ بن محمد سلیمان ( جو ولی ابن ولی کامل تھے)کی سربراہی میں خاندان کے ایک بڑے قافلے کی شکل میں بذریعہ بحری جہاز حج کے لیے روانہ ہوئی تھیں تو اماں جی نے مجھے کتنی تسلیاں دی تھی کہ:
’ پگلی! تیرے لیے دعا کرنے جا رہی ہوں ‘
قافلے کے تقریباً ہر مسافر کو میں نے انفرادی طور پہ ایسا ہی پیغام دیا۔
ماشاءالله ماموں عبدالحمید ابن محمد عبداللہ، رحمھم اللہ کو ہرسال حج کی سعادت نصیب ہوتی تو ان کو خاص طور پہ جا کر یاد کرواتی۔
چھوٹے ماموں سعیداللہ رحمہ اللہ حج پہ جانے لگے تو ان سے تحریری دستخط سمیت وعدہ لیا کہ یہ دعا کرنی ہے۔
ابی جان کے یارِ غار تایا جی محمد صادق رحمہ اللہ (لالہ صحرائی) حج پہ گئے تو ان کے ہاتھ درخواست روانہ کی، پھر خط کتابت بھی رہی اور انہوں نے مجھے خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر ثبوت کے طور پہ خط لکھا اور میرے لیے جو دعائیں کیں وہ بھی لکھی ہوئی تھیں۔
چچا ڈاکٹر حبیب الرحمان رحمہ اللہ جو نشتر کالج ملتان کے طالب علم تھے اور کبھی چھٹی گزارنے جہانیاں آ جایا کرتے تھے اور ہم سب بچے ان سے بہت مانوس تھے، وہ میرے چچا عبدالوکیل علوی کے برادر نسبتی بنے، چچی ثریا بتول کے بھائی تھے۔
جب ان کی تعیناتی سعودی عرب کے شہر طائف میں ہوئی تو ہم سب بچوں بڑوں سے ان کی خط کتابت تھی، ان کو بھی میں نے خصوصی دعا کے لیے کہا اور وہ اکثر حرم شریف میں بیٹھ کر خط لکھتے اور دعائیں دیتے تھے۔
جب میں فیصل آباد کے اسلامیہ کالج میں پڑھتی تھی تو ایک دن کسی دینی جامعہ میں طالبات کو لے جایا گیا تھا جہاں سعودی عرب سے علماء کا ایک وفد آیا ہوا تھا۔ کوئی تقریب تھی جس میں سعودیہ سے کوئی عالم دین مہمان خصوصی تھے جن کا نام نہیں یاد۔ ان کو حاضرین سوال یا دعاؤں کی درخواست پرچی پہ لکھ کربھیج رہے تھے اور ایک مترجم اردو میں ترجمہ کر رہے تھے۔ خواتین کو بھی پیشکش کی گئی۔
ان دنوں بزرگوں سے آٹو گراف لینے کا شوق طالب علموں میں خصوصاً پایا جاتا تھا۔ طالبات کی طرف سے چند آٹوگراف بکس بھیجی گئیں جس میں میری آٹوگراف بھی تھی۔ اور اس آٹوگراف کے اندر ایک پرچی پہ اللہ تعالی کے گھر کی زیارت کے لیے دعا کی درخواست تھی اور انہوں نے جن احسن الفاظ سے دعا کی تھی وہ عربی زبان کا ہی طرہ امتیاز ہے۔
شاید اسی دعا کی کسر باقی تھی کہ اس کے بعد ہی قبولیت کی راہیں سامنے آ گئی تھیں۔
میرے رب نے کس کی درخواست قبول کی حقیقت میں وہی رب جانتا ہے۔
بہر حال اللہ تعالی جزائے خیر عطا فرمائے ہر اس فرد کو جس نے میرے لیے دعائیں کی تھیں اور جس فرد کے سبب سے اللہ تعالی نے میری آرزو پوری کی اور ان سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے اتنی کہ جس قدر وہ خود اپنے لیے پسند فرمائے، آمین۔
اللہ تعالی نے مجھے جس روز جدہ پہنچایا وہ ایک عجیب قسم کے ملے جلے جذبات و احساسات کا خاص دن تھا۔ جس کی مکمل وضاحت بہت مشکل ہے۔ خوشی تھی کہ منزل تک پہنچنے کا فاصلہ کم رہ گیا ہے، ڈر یہ تھا کہ شادی مرگ نہ ہوجائے۔
ائر پورٹ سے باہر آکر گاڑی میں بیٹھتے ہوئے میاں نے پوچھا:
’کہاں چلیں؟‘
میں سمجھی مکہ یا مدینہ جانے کا پوچھ رہے ہیں تو میں نے کہا
’پہلے عمرہ کر لیتے ہیں۔‘
گاڑی کو پارکنگ سے نکالتے انہوں نے وضاحت کی کہ ابھی تو یہ پوچھ رہا ہوں کہ کس کے گھر جانا ہے؟
مجھے حیرت ہوئی کہ مکہ مدینہ کے علاوہ تو اپنا ہی گھر ہونا چاہیے جہاں جایا جا سکتا ہے۔
’میں تو چھڑوں کے ساتھ رہتا ہوں وہ عید کے بعد گھر چھوڑیں گے تب تک ہم کہاں رہیں؟‘
’مکہ یا مدینہ ‘ میں نے بے ساختہ کہا۔
میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے میاں نے کہا :
’ہم فی الحال ڈاکٹر مقبول کے گھر جا رہے ہیں۔ شیخ عبدالحمید صاحب کے داماد کے گھر۔‘
ڈاکٹر مقبول کی بیگم طاہرہ باجی نے ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔ وہ ملتان میں میری تحریکی ساتھی زاہدہ حمید کی بڑی بہن تھیں۔
دوسرے دن ہم نے عمرہ مبارک کی تیاری کی اور مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔
دل کی دھڑکن یکبارگی تیز ہو جاتی اور کبھی دل جذبات کے سمندر کی تہہ میں جاکر بیٹھ جاتا اور لگتا اتھاہ گہرائیوں میں خاموشی کی چادر لپیٹ کر پرسکون ہوگیا ہے۔
میاں تلبیہ مجھے یاد کرواتے کہ بلاوا آچکا ہے۔ دل مارے خوشی کے اچھل کود کرنے لگتا۔
اسی ہوش و حواس کی حضوری و غیابی میں حدود حرم آگئی۔
’پیارے اللہ جی! کوئی گستاخی ہو جائے تو پہلے ہی معافی مانگ رہی ہوں۔‘ پتہ نہیں کیوں دل میں گدگدی سی ہوئی ۔
’کتاب کھولو‘، میاں نے کہا
’حرم کے مینار نظر آئیں تو یہ کلمہ پڑھنا ہے۔‘
’اچھا جی‘
کلمہ تو یاد ہوگا تمہیں مگر پڑھنا بھول جاؤ گی کیونکہ وہاں جا کر ہوش نہیں رہتا کیا کہنا ہے، کیسے کہنا ہے۔
’یا رب العالمین! میں اپنے نفس کو آپ کے سپرد کرتی ہوں مجھ سے کچھ غلط نہ ہوجائے ‘، میں نے دل ہی دل میں سوہنے رب کو پکارا۔
میں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ کعبہ کو دیکھتے ہی بس یہی عرض کروں گی :
’لک الحمد کلہ ولک الشکر کلہ‘
1977ء اگست کے ابتدائی دن اور 20 شعبان 1397ہجری کی وہ مبارک شام تھی جب ایک بے تاب، پیاسی، امید کے صحرا میں بھٹکتی مسافر نے اپنی منزل آنکھوں کے سامنے دیکھی۔
سارے الفاظ جانے کہاں گم ہوگئے قلب و ذہن پہ سکتہ چھا گیا اور پاوں جامد، سماعت غائب ہوگئی، آنکھیں ہی گویا کہ پورا وجود بن گئیں۔ مجھے لگا ازلوں سے میں یونہی کھڑی ہوں چند سیکنڈ میں جیسے صدیاں گزر گئیں۔
اللہ اکبر ! اللہ اکبر!
مغرب کی اذان نے میرے وجود میں کرنٹ سا دوڑایا اور میری آنکھیں دل کی برسات کو سنبھالنے میں ناکام ہونے لگیں۔
میں اس وقت مطاف کے سامنے مقام مؤذن کے نیچے کھڑی تھی۔
میاں نے مجھے مخاطب کیا :
’میں ادھر ہی نماز ادا کرتا ہوں تم ساتھ والے خواتین کے حصے میں چلی جاؤ نماز کے بعد طواف اور سعی کریں گے۔‘
میں میکانکی انداز میں خواتین کی پہلی صف میں خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئی، نماز شروع ہوئی تو محسوس ہوا میں کسی اور ہی دنیا کی باسی ہوں۔
مطاف، مقام زم زم، خانہ کعبہ، حجر اسود، باب ملتزم، مقام ابراہیم، حطیم کی دیوار اور امام صاحب سب کی زیارت ایک نظر میں ہو رہی تھی۔
کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ! اللہ !











2 responses to “کہاں میں کہاں یہ مقام اللہ ! اللہ !”
اعلیٰ تحریر ۔۔ جزبات سے اراستہ۔ اخلاصِ سے لکھی ہوئی۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا