حارث عبداللہ
ایک زمانہ تھا اور شاید اچھا ہی زمانہ تھا جب سیاست، سیاسی قائدین کے گرد گھومتی تھی۔ وہی ملکی اور قومی امور پر عوام کی رہنمائی کرتے۔ ملکوں کے سیاسی منظرنامے پر بڑے بڑے قد آور قائدین چھائے رہتے، انہی کا فرمایا ہوا مستند سمجھا جاتا اور عوامی رائے کی تشکیل بہت کچھ خوش اسلوبی سے ہو جاتی مگر اب ایسا نہیں رہا۔
سیاست کے بدلتے رجحانات، سماج کے بدلتے رویوں، نئی نسل (GenZ) کے سیاست میں عمل دخل اور تیزی سے رونما ہوتی تبدیلیوں نے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ سیاست کی باگ ڈور قیادت کے ہاتھ سے نکل کر ہجوم کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ باقی دنیا کو چھوڑیے خود اپنے یہاں کی گزشتہ سو سالہ تاریخ پر ہی نگاہ ڈالیں تو صورتحال واضح ہونے لگتی ہے۔
دُور پرانے زمانے کی بات ہے۔ مولانا ابوالکلام نے ترکِ موالات اور ہجرت کو کہا تو 60 ہزار لوگ ہندوستان سے اپنا گھر بار چھوڑ گٹھڑیاں اٹھائے افغانستان چل دیے۔ مولانا جوہر نے پکارا کہ سمندر پار ترکیہ کی خلافت کی بقا، ہماری بقا ہے تو باقی چھوڑیے گاؤں دیہات کی عورتیں اور بچے جان کی بازی تک لگا دینے پر آمادہ ہو گئے۔
سن 46ء میں قائد اعظم نے راست اقدام کا اعلان کیا، ہزار ہا لوگ خون میں نہا گئے مگر اپنے قائد کی بات کا بھرم رکھا۔
آزادی ملی، دلّی میں مسلمانوں کی املاک لوٹ لی گئیں، گاندھی جی اَڑ گئے، ان کی اپیل پر ہزاروں ہندو اور سکھ بلوائیوں نے کروڑوں کی جائیدادیں بے چون و چرا واپس مسلمانوں کے حوالے کر دیں۔ تقسیم کا ہنگامہ بڑھا تو مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر بھارت سے نقل مکانی شروع کر دی۔ مولانا ابوالکلام نے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر اپنی زبانِ بلاغت بیان میں سب کو جھنجوڑا۔۔۔مجمع مبہوت ہو گیا، پھر آنکھیں نم ہوئیں، دل گرما گئے، جوش ابھرا، جذبات امڈے، نعرے بلند ہوئے، آن کی آن میں حالات بدلنے لگے۔ موقعے پر موجود لوگوں نے سر پر رکھی گٹھڑیاں کھول کر ہجرت کا ارادہ ترک کر دیا۔
خیر یہ گئے وقتوں کے بھولے، بِسرے سے قصے ہیں، قریب کی بات کرتے ہیں۔ خود پاکستان کی سیاست میں، سب کے کان نوابزادہ نصر اللہ کے نکلسن روڈ والے گھر سے لگے رہتے کہ کب نوابزادہ حقہ گڑگڑا کر کچھ ارشاد فرمائیں، اُدھر حقے کی نَے چھوٹی، دھواں پھیلا اور نوابزادہ نے کچھ کہا، اِدھر ملکی سیاست کے عقدے حل ہونے لگے، عوام کی رائے بن گئی، سیاسی جماعتوں کا لائحہ عمل واضح ہو گیا۔
سید مودودی رسالہ ترجمان القرآن میں اشارات لکھتے اور کتنے ہی پیچیدہ آئینی امور پر قوم کے اچھے خاصے حصے کی رائے یکسو ہو جاتی۔
فیض یا سجاد ظہیر نے کتنے ہی موقعوں پر کمیونسٹ پارٹی کے سرکلر یا communiqué لکھ کر بائیں بازو کی سمت متعین کی۔ بھٹو اور مجیب کا کہا ان کے اپنے اپنے حلقہ اثر میں حرفِ آخر ہوا کرتا تھا اور عوام اس پر مرنے مارنے کو آمادہ و تیار ہو جاتے۔
اس سلسلے میں قریب ترین زمانے کی موزوں ترین مثال تو 2008 کی ہے، جب بینظیر کی ہلاکت کے بعد ملک میں زبردست انارکی پھیل گئی۔ شہر کے شہر آن کی آن میں بند ہو گئے۔ کراچی آگ اور خون میں نہا گیا۔ سیکڑوں گاڑیاں جلا دی گئیں، املاک لوٹ لی گئیں، اندرون سندھ میں تو ٹرینیں تک محفوظ نہ رہ سکیں۔ واقعتاً ملک کی سالمیت اور یکجہتی خطرے میں تھی ایسے میں جب آصف زرداری نے گرج کر ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا تو سب فساد تھم گیا اور زندگی بتدریج معمول پر آ گئی۔
یہ شاید آخری موقعہ تھا جب قیادت نے اس سطح پر عوام کی رہنمائی کی اور قیادت عوامی جذبات اور رجحانات پر اثرانداز ہوئی؛ بپھرے ہوئے عوامی طوفان کو ایک راستہ دکھایا مگر اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ سیاست بتدریج قیادت کے ہاتھ سے نکل کر masses کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔
بار بار کے سمجھوتوں، ہر بار کے دھوکوں، اور اسٹیبلشمنٹ کی بےجا مداخلت سے قیادت کا اقبال جاتا رہا ہے۔ قائدین کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ قیادت پر عوام کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے قیادت عوام پر اثرانداز نہیں ہوتی بلکہ عوام اور عوامی رجحانات قیادت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سیاست leadership driven ہونے کے بجائے public driven یا گستاخی نہ ہو تو mob driven ہو گئی ہے۔ عوام میں پائے جانے والے انتہائی جذبات کے سامنے قیادتیں مغلوب اور مجبور سی نظر آتی ہیں اور عوام کو گائیڈ کرنے کی ہمت بھی کم کم ہی کوئی قیادت کرتی ہے اکثر تو عوام کے sentiments ہی قیادت کو گائیڈ کرتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا مظہر 9 مئی کا واقعہ ہے۔ شاید پی ٹی آئی کی قیادت اور خود عمران خان بھی نہیں چاہتے تھے کہ ایسا ہو اور وہ بند گلی میں داخل ہو جائیں۔ مگر ان بیچاروں کو تو شاید اندازہ بھی نہیں ہو سکا کہ کیا ہو رہا ہے۔
اعجاز چودھری، محمود الرشید اور یاسمین راشد کو سوشل میڈیا سے اطلاع ملتی رہی کہ یہاں اور وہاں اور وہاں کے بعد پھر یہاں قبضہ ہو گیا ہے۔ جذباتی فضا میں وہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے، اور اگر کیا بھی تو اپنے فیصلے کو عوام سے منوا نہیں سکے اور خود عوامی فیصلے کا شکار ہو گئے۔
بہرحال یہ ایک المیہ ہے۔ قیادتوں کا یوں مجبورِ محض بن کر غیر موثر ہو جانا؛ ملک اور قوم کے لیے، جمہوریت کے لیے، ریاست کے لیے، کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہے۔
ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا چاہیے کہ ابھی وقتی طور پر تو شاید یہ سب ان کے مفاد میں ہو مگر طویل مدت میں ان کے لیے بھی مسائل بڑھ جائیں گے۔ پندرہ، بیس سیاسی زعماء اور قائدین کے بجائے 25 کروڑ کی بے ہنگم آبادی سے معاملہ کرنا اتنا بھی آسان نہ ہو گا جتنا اس وقت معلوم ہوتا ہے۔ اور اُس وقت کی انارکی اپنے پرائے کسی کا لحاظ نہ کر پائے گی۔











One response to “قیادت کے ہاتھ سے نکلتی سیاست”
بہت عمدہ تحریر ، تاریخی حوالوں اور شخصیات کے کردار کے تناظر میں سیاسی عمل کی اہمیت ،اثرات،اور سیاسی پالیسیوں کا مدلل جائزہ ،عہد حاضر میں سیاسی جماعتوں کی بے عملی،بے بسی اور ہوس اقتدار کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی تابع فرمانی۔۔ المیہ