بنیامین نیتن یاہو، اسرائیلی وزیر اعظم

کیا واقعی نیتن یاہو ہلاک ہوگیا؟

·


9 مارچ 2026 کے ایرانی میزائل حملوں کے بعد سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مبینہ ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی قیاس آرائیوں نے جنم لیا ہے۔ کیوں کہ وہ اس حملے کے بعد سے تاحال منظرِ عام پر نہیں آیا ہے۔

ایرانی، عرب، اور امریکی سوشل میڈیا کے بعد تل ابیب میں یہ چہ میگوئیاں اس وقت یقین میں بدلنے لگیں جب نیتن یاہو کی تمام اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔

اس دوران اس کی صرف ایک ویڈیو بریفنگ میڈیا کو جاری کی گئی۔ جس کو ماہرین نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا شاہکار قرار دیا۔ اس ویڈیو میں نیتن یاہو کے ہاتھوں کی غیر معمولی ساخت اور بائیں ہاتھ کی چھٹی انگلی کے واضح نشانات نے ڈیجیٹل فرانزک کے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ صیہونی ریاست اپنے وزیر اعظم کی اصل حالت کو چھپانے کے لیے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہے۔

نیتن یاہو کا بیٹا ’یائر نیتن یاہو‘ سوشل میڈیا پر غیر معمولی طور پر متحرک رہتا تھا، 28 فروری کو ایران پر حملے کے بعد روزانہ اُس کی چالیس سے پچاس کے درمیان ٹویٹس ہو رہی تھیں۔ لیکن 9 مارچ سے اس نے ایک بھی ٹویٹ نہیں کی ہے۔ یہ مکمل خاموشی بھی اس شک کو تقویت دے رہی ہے کہ نیتن یاہو مارا گیا ہے۔

ان شکوک و شبہات کو اس وقت مزید تقویت ملی جب اسرائیلی وزیر اعظم کے آفیشل ٹویٹر (ایکس) ہینڈل سے ایک انتہائی مبہم ٹویٹ جاری کی گئی جس میں اعتراف کیا گیا کہ وزیر اعظم کی صورتحال کے حوالے سے گردش کرنے والی خبریں ’غیر تصدیق شدہ‘ ہیں اور ان سے رابطے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

حیرت انگیز طور پر یہ ٹویٹ پوسٹ ہونے کے چند منٹ بعد ہی ڈیلیٹ کر دی گئی، لیکن اس مختصر دورانیے میں اس کے اسکرین شاٹس عالمی میڈیا پر وائرل ہو گئے، جس نے اس تاثر کو پختہ کر دیا کہ اسرائیلی حکام خود اپنے سربراہ کی خیریت کے حوالے سے لاعلم یا تذبذب کا شکار ہیں۔

غزہ کی 2سالہ جنگ: اسرائیل کا عسکری، سفارتی اور اخلاقی زوال

امریکا اور اسرائیل جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، تجزیہ کار

ایران کس طرح اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے رہا ہے؟

اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کی حالیہ بریفنگ کے موقع پر حکام کی انتہائی مایوس کن باڈی لینگویج اور اُس میں خلاف معمول نیتن یاہو کی عدم موجودگی نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

افواہوں کا یہ سلسلہ صرف نیتن یاہو تک محدود نہیں ہے بلکہ عرب اور امریکی ذرائع ابلاغ کے کچھ غیر سرکاری اکاؤنٹس یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایرانی حملے نے اسرائیل کی فوجی اور انٹیلیجنس قیادت کی کمر توڑ دی ہے۔ ان غیر تصدیق شدہ اطلاعات کے مطابق موساد کے چیف ڈیوڈ بارنیا، اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے سربراہ جنرل ہرزی ہالیوی اور فضائیہ کے چند اہم کمانڈرز بھی اس حملے کی زد میں آئے ہیں۔

یوں بھی ایران کے ساتھ جاری اس جنگ کے دوران، اسرائیل اپنی تاریخ کے سب سے بڑے جانی اور سیاسی نقصان کا سامنا کر رہا ہے جسے وہ فی الوقت تسلیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اگر نتین یاہو سمیت دیگر اعلیٰ قیادت کے مارے جانے کی خبریں درست ثابت ہوتی ہیں، تو یہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے صیہونی ریاست کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔

یہاں یہ بھی خیال رہے کہ حقیقی صورتحال کے سامنے نہ آنے کی بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے نافذ کردہ بدترین میڈیا بلیک آؤٹ اور انٹرنیٹ سنسرشپ ہے۔ اسرائیلی حکومت نے جنگی نقصانات کی تفصیلات کو عوام اور عالمی میڈیا سے چھپانے کے لیے سخت ترین فوجی قوانین نافذ کر رکھے ہیں جن کے تحت کسی بھی فوجی تنصیب یا انسانی نقصان کی تصویر یا ویڈیو شیئر کرنا سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ ٹریفک کو مانیٹر کرنے کے لیے جدید ترین فلٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے اور حساس علاقوں میں سگنلز کی فراہمی معطل ہے تاکہ جانی نقصان کی اصل تصاویر دنیا کے سامنے نہ آ سکیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی کوریج کو بھی مخصوص ‘ملٹری سنسر’ کے حصار میں رکھا گیا ہے جہاں ہر خبر کی اشاعت سے قبل فوجی حکام کی منظوری لازمی ہے۔

اس مربوط بلیک آؤٹ اور معلومات کی دانستہ روک تھام کی وجہ سے میدانِ جنگ کی اصل تصویر دھندلا گئی ہے اور یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنے کے لیے اب عالمی سطح پر قیاس آرائیاں روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں