ہالی ووڈ کے معروف ہسپانوی اداکار جیویر بارڈیم نے اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھا کر توجہ حاصل کرلی۔
بارڈیم اسٹیج پر بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا کے ساتھ بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کا ایوارڈ پیش کرنے آئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے مختصر مگر واضع پیغام دیتے ہوئے کہا :
’جنگ نہیں،فلسطین کو آزاد کرو‘
ان کے اس بیان پر ہال میں موجود حاضرین نے زوردار تالیاں بجا کر خراج تحسین پیش کیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ لمحہ تیزی سے وائرل ہوگیا۔
بارڈیم نے اپنے کوٹ کے لیپل پر دو پن بھی لگا رکھے تھے۔ ایک فلسطین کی حمایت کا پن تھا جبکہ دوسرے پر ہسپانوی زبان میں ’جنگ نہیں‘ لکھا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اداکارہ پینیلوپ کروز بھی غزہ جنگ بندی کے حق میں کھڑی ہوگئیں
حماس کی حمایت پر عرب اسرائیلی اداکارہ مائیسہ عبدل ہادی گرفتار
’ٹائیگر 3‘ پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پابندی کیوں عائد ہوئی؟
اداکار نے بتایا کہ جنگ کے خلاف یہ پیغام نیا نہیں۔ وہ اسے پہلے 2003 میں عراق جنگ کے خلاف احتجاج کے دوران اسپین کے گویا ایوارڈز میں بھی یہی پن پہن چکے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے بارڈیم نے کہا کہ فنکاروں کو اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد کو عالمی سطح پر توجہ کی ضرورت ہے۔
بارڈیم نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ جنگ بندی موثر ثابت نہیں ہوئی اور اس کے نفاذ کے بعد بھی سینکڑوں افراد، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں شہری حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری نقل مکانی جیسے مسائل پر عالمی سطح پر خاطر خواہ بحث نہیں ہو رہی۔
اداکار نے ایران کے حوالے سے جاری مہم کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے جغرافیائی سیاسی اور معاشی محرکات کارفاما ہوسکتے ہیں، جبکہ اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اداکار کا کہنا ہے کہ فنکار بیک وقت فلم انڈسٹری کا حصہ بھی رہ سکتے ہیں اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر سچ بھی بول سکتے ہیں۔
ان کے اس بیان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر فلسطین کے مسئلے اور فنکاروں کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔










