عبدالمالک ہاشمی

ایران امریکا و اسرائیل کشیدگی: سفارتی کوششیں اور عسکری تیاری، ایک مختصر جائزہ

·

حالیہ پیش رفت کے مطابق اسلام آباد میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اہم سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ پاکستان میں موجود ہیں، جہاں وہ کشیدگی میں کمی اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے مشترکہ ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ چاروں ممالک خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب عسکری سطح پر بھی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق USS Tripoli، جس پر تقریباً 3,500 نیوی اہلکار اور میرینز سوار ہیں، مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہے۔

یہ اقدام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ عسکری آپشنز کو بھی کھلا رکھے ہوئے ہے۔

یہ بظاہر تضاد کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف صلح کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف مزید فوجی بھیج رہے ہیں، درحقیقت بین الاقوامی سیاست کی ایک معروف حکمت عملی “coercive diplomacy” (دباؤ کے ساتھ سفارت کاری) کا حصہ ہے۔

اس حکمت عملی کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

مذاکرات میں برتری حاصل کرنا:
عسکری قوت کی موجودگی مخالف فریق (خصوصاً ایران) پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ مذاکرات میں لچک دکھائے۔

حلیف ممالک کو یقین دہانی:
مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ امریکا ان کے دفاع کے لیے سنجیدہ ہے۔

ممکنہ بگاڑ کے لیے تیاری:
اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو جائیں تو فوری ردعمل کے لیے افواج پہلے سے موجود ہوں۔

پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کلیدی ثالث کیوں بنا؟

ایران امریکہ مذاکرات میں پیش رفت متوقع، 48 گھنٹوں میں بڑے بریک تھرو کا امکان

ایران امریکا کے مابین پاکستان ثالثی کا کردار کیسے ادا کرے گا؟

نفسیاتی اثر (Deterrence):
طاقت کا مظاہرہ جنگ کو روکنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، کیونکہ فریقِ مخالف تصادم سے گریز کر سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف شکاگو کے ممتاز ماہرِ بین الاقوامی تعلقات جان میرشیمر کے مطابق اگر امریکا ایران کے کسی جزیرے یا حتیٰ کہ تہران پر جزوی یا کلی زمینی حملہ کرتا ہے تو یہ اقدام خود امریکا کے لیے شدید تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ حکمتِ عملی ایک ایسے “ٹائٹینک” کی مانند ہوگی جو ایک طاقتور “ایرانی گلیشیئر” سے ٹکرا جائے یعنی تصادم کا نتیجہ غیر متوقع اور مہلک ہو سکتا ہے، خصوصاً جب امریکا مکمل طور پر “ڈرائیونگ سیٹ” میں نہ ہو۔

اسی تناظر میں ایرانی امور کے ماہر تریتا پارسی نے ایک مکالمے میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ممالک امریکا کو ایران کے خلاف زیادہ سخت کارروائی پر آمادہ کرتے ہیں اور خود بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ صورتِ حال “ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے” کے مصداق پورے خلیجی خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

ایسی صورت میں ایران کو یہ جواز مل سکتا ہے کہ وہ خلیج میں موجود اہم آبی گزرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر مزید شدت سے حملے کرے، جس کے نتیجے میں نہ صرف توانائی کی عالمی رسد متاثر ہوگی بلکہ علاقائی جنگ ایک وسیع تر تنازع میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں بیک وقت سفارت کاری اور عسکری تیاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ پاکستان میں جاری مذاکرات اگرچہ امید کی کرن ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی طاقتیں کسی بھی ممکنہ منظرنامے کے لیے خود کو تیار رکھ رہی ہیں۔

تاہم، اسٹریٹجک ماہرین کی آراء اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کسی بھی براہِ راست اور وسیع عسکری تصادم کے نتائج نہ صرف غیر یقینی بلکہ پورے خطے خصوصاً خلیج کے لیے انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں