مہتاب عزیز
22 فروری 2026 کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک اہم تزویراتی (Strategic) منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا ’ہم مشرقِ وسطیٰ کے گرد ایک مکمل ‘ہیکساگون’ (Hexagon) یعنی چھ کونوں والا حصار قائم کر رہے ہیں۔ اس اتحاد میں اسرائیل کا خاص دوست اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ‘بھارت’ شامل ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ روم کے ممالک یونان اور قبرص سمیت بعض عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک بھی اس کا حصہ ہیں، جن کے نام ابھی عام نہیں کیے جا رہے۔
یہ ایک ایسا‘محور’ (Axis) ہوگا جو زمینی حقائق، چیلنجز اور اہداف کو ایک ہی نظریے سے دیکھے گا۔ یہ اتحاد ’ریڈیکل شیعہ ایکسس‘(ایران اور اس کی پراکسیز) اور ابھرتے ہوئے ’ریڈیکل سنی ایکسس‘ (پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ممکنہ اتحاد) کا مل کر مقابلہ کرے گا‘۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی عرب کا پیسہ، پاکستان کی ایٹمی طاقت، ترک عسکری مہارت: نیا سکیورٹی بلاک
متحدہ عرب امارات : پین اسلام ازم سے اسپارٹن حقیقت پسندی تک، تزویراتی کایا پلٹ کی داستان
واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بدھ 25 فروری 2026 کو اسرائیل کا اہم ترین دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ سیکیورٹی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے علاوہ اسرائیلی پارلیمنٹ (Knesset) سے خطاب بھی کریں گے اور وزیراعظم نیتن یاہو و دیگر صہیونی قیادت سے تفصیلی ملاقات کریں گے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ، گزشتہ روز سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ (Naftali Bennett) نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ترکیہ کو ’نیا ایران‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعاون کو اسرائیل کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا تھا۔
اسی دوران اسرائیل کے معروف تھنک ٹینک ‘مسگاو انسٹی ٹیوٹ’ (Misgav Institute) نے ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اتحاد میں قطر اور مصر کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جس سے اسرائیلی قیادت کو لازمی پریشان ہونا چاہیے۔‘
یہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جس طرح مغرب کو روس اور چین کے محور (جس میں شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں) کا سامنا ہے۔ ترکیہ اور قطر کے پاس موجود ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور میڈیا پاور، قطر اور سعودیہ کی معاشی طاقت اور پاکستان کی ایٹمی چھتری مل کر اس اتحاد کو خطے میں اسرائیلی بالادستی کے لیے ڈرونی حقیقت بنا سکتے ہیں۔ جس سے خطے میں طاقت کا توازن بالکل الٹ سکتا ہے‘۔
تھنک ٹینک نے زور دیا ہے ’اس خطرے کے مزید سنگین ہونے سے پہلے اس سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے‘۔










