خاتون بستر پر لیٹ کر اندھیرے میں موبائل استعمال کر رہی ہے

  رات گئے آن لائن رہنے کی عادت ذہنی صحت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟

·

ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا زندگی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔ لوگ دن بھر مختلف پلیٹ فارمز پر خبریں پڑھتے، دوستوں سے رابطہ کرتے اور اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو شیئر کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین صحت اب خبردار کر رہے ہیں کہ خاص طور پر رات کے وقت سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے محققین کی ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وہ افراد جو رات گئے سوشل میڈیا پر پوسٹس کرتے ہیں یا زیادہ سرگرم رہتے ہیں، ان میں ڈپریشن، بے چینی اور نیند کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ یہ تحقیق عالمی سائنسی جریدے ’سائنٹیفک رپورٹس‘ میں شائع ہوئی ہے۔

اس سے قبل ہونے والی زیادہ تر تحقیقات سوشل میڈیا کے استعمال کی مقدار پر مرکوز تھیں، یعنی یہ دیکھا جاتا تھا کہ کوئی شخص دن میں کتنی دیر سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے۔ لیکن اس نئی تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ سوشل میڈیا استعمال کا وقت بھی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے یا نہیں۔

محققین کا خیال تھا کہ رات کے وقت آن لائن سرگرمی نہ صرف نیند کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ یہ ذہنی دباؤ اور جذباتی بے چینی میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

اس مطالعے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویئٹر) پر صارفین کی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محققین نے 310 افراد کو تحقیق میں شامل کیا اور ان کے ٹویٹس کے اوقات، آن لائن سرگرمی اور ذہنی صحت سے متعلق سوالناموں کے جوابات کا تجزیہ کیا۔

مجموعی طور پر جنوری 2008 سے فروری 2023 تک کیے گئے 18,288 ٹویٹس (ری ٹویٹس سمیت) کا مطالعہ کیا گیا۔ اس عرصے میں پلیٹ فارم کا نام ابھی ٹوئٹر تھا۔

محققین نے اس ڈیٹا کا موازنہ ایک طویل المدتی تحقیقی منصوبے Avon Longitudinal Study of Parents and Children سے بھی کیا، جس میں 1990 کی دہائی سے بچوں اور ان کے والدین کی صحت اور طرز زندگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس بڑے تحقیقی منصوبے نے ذہنی صحت کے حوالے سے قیمتی معلومات فراہم کیں۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد رات 11 بجے سے صبح 5 بجے کے درمیان سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں یا زیادہ سرگرم رہتے ہیں، ان کی ذہنی صحت دن کے وقت پوسٹ کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور پائی گئی۔

سوشل میڈیا پر پرائیویسی کیسے محفوظ رکھیں؟ عملی اقدامات اور مکمل گائیڈ
سوشل میڈیا کے” بلیک ہول“ سے بالزاک تک
سوشل میڈیا کے امیر ترین لوگ کسی بھی وقت آپ سے رابطہ کرسکتے ہیں

مطالعے کے مطابق رات کے وقت سوشل میڈیا پر سرگرمی ذہنی صحت کے فرق میں تقریباً 2 فیصد اضافی اثر ڈال سکتی ہے۔ اگرچہ ڈپریشن اور بے چینی کے ساتھ اس کا تعلق دیکھا گیا، لیکن محققین کا کہنا ہے کہ یہ تعلق مکمل طور پر مضبوط نہیں بلکہ محدود نوعیت کا ہے۔

ماہرین کے مطابق رات کے وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے نیند کا قدرتی نظام متاثر ہوتا ہے۔

جب لوگ دیر تک موبائل فون یا سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں تو نیند آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے، نیند کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے، نیند کا معیار متاثر ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ موبائل فون یا اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی دماغ میں میلاٹونن نامی ہارمون کی پیداوار کو کم کر دیتی ہے۔ یہ ہارمون جسم میں نیند اور جاگنے کے نظام کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب اس کی مقدار کم ہو جائے تو انسان کو نیند آنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈینئل جانسن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے اثرات کو صرف اس کے استعمال کی مقدار سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

ان کے مطابق:

’لوگ عام طور پر سوشل میڈیا کو ایک جیسا سمجھتے ہیں، مگر اس کے اثرات اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ صارف اسے کس طرح استعمال کرتا ہے اور اسے استعمال کرتے وقت اس کا تجربہ کیسا ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تحقیق ایک مخصوص رویے کی نشاندہی کرتی ہے جو نقصان دہ ہو سکتا ہے، یعنی رات گئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا۔

ماہرین صحت کے مطابق ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے چند سادہ عادات اپنانا مفید ہو سکتا ہے:

سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون یا سوشل میڈیا استعمال نہ کریں۔

سونے کا ایک باقاعدہ وقت مقرر کریں۔

رات کے وقت اسکرین کی روشنی کم کریں۔

دن میں جسمانی سرگرمی اور ورزش کو معمول بنائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تحقیقی نتائج مستقبل میں حکومتوں، صحت کے اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسی پالیسی بنانے میں مدد دے سکتے ہیں جو صحت مند ڈیجیٹل عادات کو فروغ دیں اور سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات کو کم کریں۔

اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا بذات خود مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، لیکن اس کا غیر متوازن اور غلط وقت پر استعمال ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر رات کے وقت مسلسل آن لائن رہنا نیند اور ذہنی سکون دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر لوگ سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور اپنی نیند کے نظام کا خیال رکھیں تو وہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں