benjamin netanyahu بنجمن نیتن یاہو، اسرائیلی وزیراعظم

نیتن یاہو کو کس نے مارا؟

·


پندرہ مارچ دو ہزار چھبیس۔ سولہ دن ہو گئے ہیں جب سے ایران جل رہا ہے۔ اور سولہ دن سے ایک سوال انٹرنیٹ پر گھوم رہا ہے: کیا بنیامین نیتن یاہو زندہ ہے؟

ایکس پر پوسٹیں وائرل ہیں کہ ایرانی میزائل نے مار دیا۔ ٹک ٹاک پر ویڈیوز ہیں کہ لاش بنکر میں پڑی ہے۔ سپاہِ پاسداران سے وابستہ تسنیم نیوز نے ’شواہد‘ جمع کیے ہیں: تین دن سے کوئی نئی ویڈیو نہیں، کشنر کا دورہ ملتوی، رہائش گاہ کے گرد سیکیورٹی سخت۔ سکاٹ رِٹر نے روسی میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران نے خفیہ ٹھکانے پر بمباری کی اور بھائی اِڈو مارا گیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں ہاتھ کی چھ انگلیوں کا دعویٰ کیا گیا، یعنی ڈیپ فیک ہے، اصلی مر چکا ہے۔

سنوپس نے تردید کی۔ یروشلم پوسٹ نے تردید کی۔ بارہ مارچ کو لائیو پریس کانفرنس ہوئی۔ بیئر شیبع میں میزائل حملے کی جگہ کا دورہ کیا۔ آج وزیرِ اعظم کے دفتر نے بیان جاری کیا: ’جعلی خبریں ہیں۔ وزیرِ اعظم ٹھیک ہیں۔‘

نیتن یاہو مرا نہیں ہے۔

لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے: اگر مر جائے تو کیا ہو؟ اور اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ آدمی ہے کیا۔

اصل خاندانی نام میلیکوسکی ہے۔ لتھوانیائی یہودی خاندان۔ دادا ربی تھے۔ باپ بنزیون وارسا میں پیدا ہوا، کارنیل یونیورسٹی میں یہودی تاریخ کا پروفیسر بنا، عبرانی انسائیکلوپیڈیا کا پہلا ایڈیٹر تھا، اور زئیو جبوتنسکی کا معاون تھا۔ جبوتنسکی ’ریوژنسٹ صہیونزم‘ کا بانی تھا، وہ دھڑا جو مانتا تھا کہ عرب سے کوئی سمجھوتا ممکن نہیں، صرف طاقت کام آتی ہے۔ یہ نظریہ باپ کے خون میں تھا۔ باپ کے خون سے بیٹے میں آیا۔ اور بیٹے نے اسے حکومتی پالیسی بنا دیا۔

بنیامین انیس سو انچاس میں تل ابیب میں پیدا ہوا۔ بچپن اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بٹا رہا۔ چودہ سال کی عمر میں خاندان فلاڈلفیا منتقل ہوا۔ چیلٹن ہائم ہائی اسکول میں ’بین‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ساتھیوں کے مطابق سختی سے اصولوں پر چلنے والا، قدرے ’نرڈ‘ قسم کا لڑکا۔ لیکن اندر ایک بھوک تھی جو کبھی نہیں مٹی۔

انیس سو سڑسٹھ میں گریجویشن سے چند دن پہلے اسکول چھوڑا اور اسرائیل بھاگا۔ سایرت مٹکل میں بھرتی ہوا۔ اسرائیل کی سب سے خفیہ کمانڈو یونٹ جس کا نام تک بولنا ممنوع تھا۔ تینوں بھائی، یونی، بی بی اور اِڈو، سب اسی یونٹ میں تھے۔

کیا واقعی نیتن یاہو ہلاک ہوگیا؟

’اسرائیل ناکامی کی دلدل میں پھنس چکا، نیتن یاہو کی مکمل فتح کا خواب ایک فریب ہے‘ : حماس

اسرائیل پہلی بار جنگ ہار گیا، ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ

مئی انیس سو انہتّر میں سویز نہر کے اندر ایک آپریشن میں بی بی تقریباً ڈوب کر مر گیا۔ بچ گیا۔ دو بار لڑائی میں زخمی ہوا۔ انیس سو بہتر میں تل ابیب ایئرپورٹ پر اغوا شدہ جہاز چھڑانے والی ٹیم میں شامل تھا۔ یوم کپور جنگ میں لڑنے ایم آئی ٹی سے واپس آیا۔تربیت کے دوران ساتھی اس کی بانہوں میں مرا۔ ٹیم میں شامل ہونے کے دو ماہ بعد دو ساتھی تربیتی حادثے میں مارے گئے۔ ڈیوڈ بن چامو بی بی کی گود میں دم توڑا۔

پھر انیس سو چھہتّر میں اینٹبے آیا۔ فلسطینی اور جرمن اغوا کاروں نے ایئر فرانس کا جہاز یوگنڈا لے گئے۔ بڑے بھائی یونی حملہ آور دستے کا کمانڈر تھا۔ سو سے زائد یرغمالی بچائے گئے۔ یونی آپریشن میں مارا گیا۔ واحد اسرائیلی فوجی ہلاکت۔

بی بی اس وقت ایم آئی ٹی میں تھا۔ بھائی کی موت نے اسے توڑا نہیں۔ سخت کر دیا۔ اور یہ سختی آگے چل کر بے رحمی بن گئی۔

ایم آئی ٹی سے ایم بی اے کیا۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ میں کام کیا۔ واپس آیا تو فرنیچر کمپنی میں سیلزمین بنا۔ سایرت مٹکل کا کمانڈو فرنیچر بیچ رہا تھا۔ یہ بی بی کی کہانی کا وہ حصہ ہے جو بتاتا ہے کہ یہ آدمی ذلت قبول کر لیتا ہے لیکن ہار قبول نہیں کرتا۔ اور جو آدمی ذلت قبول کرے اور ہار نہ مانے، وہ خطرناک ہوتا ہے۔ کیونکہ اسے کچھ کھونے کا ڈر نہیں ہوتا۔ اور جسے کھونے کا ڈر نہ ہو وہ دوسروں کے کھونے کی پرواہ بھی نہیں کرتا۔

چھیانوے میں اسرائیل کا سب سے نوجوان وزیرِ اعظم بنا۔ عوامی ووٹ سے براہِ راست منتخب ہونے والا پہلا وزیرِ اعظم۔ ننانوے میں ہارا۔ واپس آیا۔ دو ہزار نو میں دوبارہ آیا۔ پھر تیرہ، پندرہ، بیس، بائیس۔ ہر بار واپس آیا۔ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے طویل عرصہ حکمرانی کرنے والا رہنما۔

اب اس آدمی کو اسرائیل سے جوڑ کر دیکھیے۔

بی بی کی پوری سیاسی بقا ایک فارمولے پر کھڑی ہے: خوف۔ اسرائیلی عوام کو ڈراؤ۔ کہو دشمن چاروں طرف ہے۔ کہو صرف میں بچا سکتا ہوں۔ کہو امن کا مطلب کمزوری ہے۔ اور پھر جنگ کرو۔ کیونکہ جنگ میں سوالات بند ہو جاتے ہیں۔ عدالتیں پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ احتجاج ختم ہو جاتے ہیں۔ اپوزیشن خاموش ہو جاتی ہے۔ سب ایک ہو جاتے ہیں وزیرِ اعظم کے پیچھے۔

بی بی پر تین فوجداری مقدمات ہیں۔ رشوت۔ دھوکا دہی۔ اعتماد کی خلاف ورزی۔ عدالتی کارروائی جاری تھی۔ 2023 میں لاکھوں اسرائیلی سڑکوں پر نکلے عدالتی اصلاحات کے خلاف۔ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا سول نافرمانی تحریک۔ بی بی کی کرسی ہل رہی تھی۔

پھر سات اکتوبر آیا۔ حماس کا حملہ۔ بارہ سو ہلاکتیں۔ دو سو سے زائد یرغمالی۔ اسرائیلی تاریخ کی بدترین سیکیورٹی ناکامی۔ اور وہ ناکامی کس کے دور میں ہوئی؟ بی بی کے دور میں۔ وہ بی بی جو بیس سال سے اپنے آپ کو ’مسٹر سیکیورٹی‘ بنا کر بیچ رہا تھا۔

کسی بھی اور ملک میں، کسی بھی اور رہنما کے ساتھ، استعفیٰ آتا۔ تحقیقاتی کمیشن بنتا۔ جواب طلب ہوتا۔ بی بی نے جنگ شروع کر دی۔ غزہ ملبے میں بدل دیا۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے ممکنہ نسل کشی کا فیصلہ سنایا۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ غزہ کے چالیس ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے جن میں پندرہ ہزار بچے ہیں۔

اور بی بی رکا نہیں۔ ایران پر حملہ کر دیا۔

سوچیے۔ ایک آدمی جس پر فوجداری مقدمات ہیں۔ جس کی سیکیورٹی ناکامی نے بارہ سو شہری مروائے۔ جس نے اپنے یرغمالیوں کو واپس لانے کی بجائے غزہ تباہ کرنا چنا۔ جس کے خلاف عالمی عدالت نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ اور اس آدمی نے مزید ایک جنگ شروع کر دی۔ خامنہ ای کو مروایا۔ تہران پر بم گرائے۔ اب آبنائے ہرمز بند ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان پر ہیں۔ خلیجی ریاستیں بمباری میں ہیں۔ بحرین، قطر، یو اے ای سب متاثر۔

بی بی نے اسرائیل کو کیا دیا؟

اسرائیل آج بین الاقوامی طور پر تنہا ہے۔ یورپ میں ساکھ ختم۔ نسل کشی کا الزام۔ عالمی عدالت کا وارنٹ۔ ایران سے کھلی جنگ جس کا خاتمہ نظر نہیں آتا۔ خود اسرائیل کے اندر شہری بنکروں میں ہیں۔ تل ابیب پر میزائل گر رہے ہیں۔ بیئر شیبع میں نو شہری مارے گئے۔ ایف ون ریسز بحرین اور سعودی عرب سے منسوخ ہو چکی ہیں۔ معیشت دباؤ میں ہے۔ سیاحت صفر۔ اور یرغمالی؟ ابھی تک واپس نہیں آئے۔

یہ سب ایک آدمی کی بقا کے لیے ہے۔ ایک آدمی جو جانتا ہے کہ جنگ بند ہوتے ہی عدالتیں کھلیں گی۔ سوالات اٹھیں گے۔ سات اکتوبر کی تحقیقات ہو گی۔ اور وہ تحقیقات اسے ختم کر دے گی۔ اسی لیے جنگ بند نہیں ہونی چاہیے۔ اسی لیے نیا محاذ کھولنا ضروری ہے۔ غزہ کے بعد لبنان۔ لبنان کے بعد ایران۔ ایران کے بعد کیا؟ بی بی کو فرق نہیں پڑتا۔ جب تک آگ جل رہی ہے، بی بی محفوظ ہے۔

اس آدمی نے اسرائیل کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اور اسرائیلی عوام کا ایک بڑا حصہ یہ جانتا ہے۔ یرغمالیوں کے خاندان چیخ رہے ہیں۔ سابق فوجی سربراہ کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ اسرائیل کی سلامتی نہیں بلکہ بی بی کی کرسی بچا رہی ہے۔

لیکن جنگ کے وقت رہنما نہیں بدلے جاتے۔ اور بی بی یہ جانتا ہے۔ اسی لیے جنگ جاری ہے۔

اب وہ سوال جو تاریخ بدل سکتا ہے۔

اگر بی بی واقعی اس جنگ میں مارا جائے تو کیا ہو گا؟

اسرائیلی آئین کے مطابق وزیرِ اعظم کی موت پر کابینہ قائم مقام وزیرِ اعظم نامزد کرتی ہے۔ حکومت مستعفی تصور ہوتی ہے۔ صدر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرتا ہے۔ نئی اتحادی حکومت بنتی ہے یا انتخابات ہوتے ہیں۔

لیکن یہ محض آئینی عمل نہیں ہو گا۔ یہ بیانیے کی موت ہو گی۔

بی بی کا پورا سیاسی وجود اس دعوے پر کھڑا ہے کہ ’صرف میں اسرائیل بچا سکتا ہوں۔‘اگر وہ خود نہ بچے تو یہ دعویٰ مر جاتا ہے۔ اور اس دعوے کے مرنے سے کئی چیزیں بدل سکتی ہیں۔

جنگ بندی کا راستہ کھلتا ہے۔ بی بی واحد شخص ہے جو جنگ بندی کی ہر کوشش روک رہا ہے۔ اس کے بغیر اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ، جو پہلے سے جنگ بندی کے حق میں ہے، مذاکرات شروع کر سکتی ہے۔ ایران کا بیانیہ بدلتا ہے۔ اگر نیتن یاہو ختم ہو تو ایران کے لیے جنگ بند کرنے کا جواز بن جاتا ہے۔ ’ہم نے مجرم کو سزا دے دی‘ والا بیانیہ ایران کو عزت سے واپسی کا راستہ دیتا ہے۔ اگر بی بی نہ رہے تو ٹرمپ کہہ سکتا ہے: ’جنگ کا مقصد پورا ہو گیا۔‘ اور واپسی کا اعلان کر سکتا ہے۔

بی بی ایک عجیب مخلوق ہے۔ سویز نہر میں تقریباً ڈوبا اور بچا۔ ساتھی اس کی گود میں مرا۔ بھائی اینٹبے میں مارا گیا اور بی بی نے اس موت کو سیاسی سرمایہ بنا لیا۔ جونتھن انسٹیٹیوٹ بنایا۔ بھائی کا نام استعمال کیا۔ دہشتگردی کے خلاف برانڈ بنایا۔ اور اسی برانڈ سے اقتدار تک پہنچا۔

فرنیچر سیلزمین سے وزیرِ اعظم بنا۔ پانچ بار منتخب ہوا۔ ہر بار ہارا اور واپس آیا۔ لیکن ہر بار واپس آ کر زیادہ خطرناک ہو گیا۔ کیونکہ بی بی نے ایک سبق سیکھا ہے جو اسے اس سیارے کا سب سے خطرناک رہنما بناتا ہے: جب تک بحران ہے، میں محفوظ ہوں۔

اور اس سبق کا نتیجہ یہ ہے کہ بی بی کبھی بحران ختم نہیں ہونے دے گا۔ جب ایک بحران ختم ہونے لگے تو نیا بحران بنائے گا۔ غزہ سے لبنان۔ لبنان سے ایران۔ ایران سے اگلا محاذ۔ جب تک خون بہے گا، بی بی بیٹھے گا۔

یہ آدمی اسرائیل کا محافظ نہیں ہے۔ اسرائیل بی بی کا یرغمالی ہے۔ اور یرغمالی کو اس وقت تک آزادی نہیں ملتی جب تک یرغمال گیر زندہ ہے۔

بی بی کی کہانی میں ایک خوفناک ستم ظریفی ہے۔ اس کے بھائی نے یرغمالیوں کو چھڑاتے ہوئے جان دی۔ اور بی بی نے پوری قوم کو یرغمالی بنا لیا۔

بی بی کی موت اس جنگ کا خاتمہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ جنگ اسرائیل کی نہیں، بی بی کی ہے۔ اور جب بی بی نہ رہے تو جنگ کا جواز بھی نہ رہے۔

لیکن بی بی مرنے سے انکار کرتا ہے۔ سویز نہر میں نہیں مرا۔ سیاسی شکستوں میں نہیں مرا۔ فوجداری مقدمات میں نہیں مرا۔ ایرانی میزائلوں میں نہیں مرا۔

اور یہی اسرائیل کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ کہ ایک آدمی کی بقا پوری قوم کی تباہی بن چکی ہے۔ اور قوم جانتی ہے۔ دنیا جانتی ہے۔ تاریخ جانتی ہے۔

بی بی زندہ ہے۔ افواہیں جھوٹی ہیں۔

لیکن سوال وہی ہے: بی بی کے زندہ رہنے سے اور کتنے مریں گے؟

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔