مہتاب عزیز
گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
ایران نے اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر یا "شمعون پیریز نیگیو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر” (Shimon Peres Negev Nuclear Research Center) کو ہائپر سونک میزائل سے براہ راست نشانہ بنایا ہے، جس سے اس حساس ترین کمپلیکس کی ایک عمارت زمین بوس ہو گئی۔ وہاں کام کرنے والے متعدد افراد کے مارے جانے اور زخمی ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور خود اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس حملے کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک نئی تاریخ کا دیباچہ ہے۔ ڈیمونا اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں کا وہ قلعہ ہے جسے دہائیوں سے ناقابلِ تسخیر تصور کیا جاتا رہا ہے۔ اس مقام پر کامیاب حملے نے اسرائیل کے اسٹریٹجک ڈیٹرنس (Strategic Deterrence) کے اس افسانے کو پاش پاش کر دیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ برسوں سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بالادستی قائم کیے ہوئے تھا۔
دوسرا اور انتہائی اہم واقعہ بحرِ ہند میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے کلیدی فوجی اڈے "ڈیگو گارشیا” پر ایران کی ہائپر سونک میزائلوں سے یلغار ہے۔ اگرچہ اس حملے میں بیس پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات محدود ہیں، تاہم امریکہ کے لیے اس حملے کے تزویراتی اور تکنیکی مضمرات بے پناہ ہیں۔
ایران کی جانب سے 4 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی رینج اب محض اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ ایرانی میزائل صرف 2 ہزار کلومیٹر تک کی رینج رکھتے ہیں (جو سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تزویراتی پالیسی کا حصہ تھا)۔ اب چار ہزار کلومیٹر دور کامیاب حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای نے میزائلوں پر عائد 2 ہزار کلومیٹر کی حد ختم کر دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پورا براعظم یورپ بشمول برطانیہ، جرمنی اور فرانس ایرانی میزائلوں کی زد میں آ چکا ہے اور ایران جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے والے نیٹو ممالک کو براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی میزائلوں کی چار ہزار کلومیٹر تک پرواز کے ساتھ ہی دفاعی مبصرین نے یہ سوال بھی اٹھانا شروع کر دیا ہے کہ اگر میزائلوں کی رینج پر عائد سابق رہبر کی دہائیوں پرانی پابندی ہٹائی گئی ہے، تو کیا جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر عائد علی خامنہ ای کا ‘فتویٰ’ بھی ماضی کا حصہ بن چکا ہے؟ کیا ایران اب واقعی جوہری ہتھیاروں کی تیاری شروع کر چکا ہے؟
یہ بھی پڑھیے
ٹرمپ صاحب نے امریکا کو کتنا ’عظیم‘ بنا لیا؟
کون جائے ٹرمپ کی مدد کو؟
ایران کا خلیجی ممالک کے خلاف ردعمل، حملے سے پہلے ٹرمپ کو
خبردار کیا گیا تھا، ذرائع کا دعویٰ
ایک اور بڑی پیش رفت فضائی جنگ کے میدان میں امریکی ایف-35 (F-35 Lightning II) جیسے جدید ترین اسٹیلتھ طیارے کی تباہی یا اس پر کامیاب حملہ ہے، جس نے عالمی سطح پر امریکہ کی فضائی برتری کے تصورات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکہ نے ایران کی جانب سے اپنے ایک اور لڑاکا طیارے پر کامیاب حملے کی بھی تصدیق کر دی ہے۔ اب دو طیاروں پر حملوں نے میدانِ جنگ کی دو اہم سچائیوں کی توثیق کر دی ہے؛
اول یہ کہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس "اسٹینڈ آف ویپنز” (Standoff Weapons) یعنی دور سے وار کرنے والے ہتھیاروں کے ذخائر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جس کی وجہ سے امریکی پائلٹوں کو مجبوراً ایرانی فضائی حدود کے اندر جا کر بمباری کرنا پڑ رہی ہے۔
دوم یہ کہ ایران کے پاس اس قدر جدید ریڈار اور ایئر ڈیفنس ٹیکنالوجی آ چکی ہے کہ وہ دنیا کے سب سے مہنگے اور پوشیدہ سمجھے جانے والے "اسٹیلتھ” طیاروں کو نہ صرف ٹریک کر سکتی ہے بلکہ انہیں لاک کر کے مار گرانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
یہ پینٹاگون کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اب ان کی فضائی بالادستی کا طلسم ٹوٹتا نظر آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں ایف-35 طیاروں کے خریداروں کی فہرست میں کمی کے واضح امکانات ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے منظرنامے میں ایک بڑی خبر یہ بھی ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور خلیجی ممالک کا فضائی دفاعی نظام میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید قلت کا شکار ہو چکا ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے خود اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث ان کے "انٹرسیپٹرز” (Interceptors) کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔
اس قلت کا نتیجہ یہ ہے کہ اب دفاعی نظام صرف چند مخصوص اور انتہائی حساس تنصیبات کی حفاظت تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ شہری مراکز اور فوجی اڈے حزب اللہ اور ایران کے میزائلوں کے لیے آسان ہدف بن چکے ہیں۔ خلیجی ممالک کی خاموشی بھی اسی خوف کی عکاس ہے کہ ان کے پاس موجود پیٹریاٹ (Patriot) نظام بھی اب ایرانی یلغار کے سامنے ناکافی ہے۔ یہ صورتحال "جنگِ فرسودگی” (War of Attrition) کی بدترین شکل ہے، جہاں مہنگے دفاعی میزائل سستے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے سامنے ہار مان چکے ہیں۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ جنگ ایک ڈراؤنا خواب بنتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور فراہمی میں تعطل خطے میں امریکی سیکیورٹی گارنٹیز کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔










