امریکی حکام اور انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ ایران پر حملہ خلیجی اتحادی ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے، تاہم انہوں نے حالیہ بیانات میں اس ردعمل کو ’حیران کن‘ قرار دیا۔
انٹیلی جنس رپورٹس میں ممکنہ ردعمل شامل تھا
ذرائع کے مطابق جنگ سے قبل کی انٹیلی جنس رپورٹوں میں ایران کے ردعمل کو یقینی تو نہیں کہا گیا، مگر اسے ممکنہ نتائج کی فہرست میں ضرور شامل کیا گیا تھا۔
ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ:
’یہ کوئی یقینی بات نہیں تھی، لیکن یہ ممکنہ ردعمل میں شامل ضرور تھا۔‘
ٹرمپ کا دعویٰ: ’ہمیں اس کی توقع نہیں تھی‘
ٹرمپ نے پیر کے روز دو مرتبہ کہا کہ ایران کی جانب سے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت پر حملے ان کے لیے غیر متوقع تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ٹرمپ کو اہم ممالک نے ٹھینگا دکھا دیا، آبنائے ہرمز میں جنگی بیڑے بھیجنے سے انکار
ایران سے جنگ میں امریکا و اسرائیل کو مشکلات کا سامنا
ایران کس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے؟
انہوں نے کینیڈی سنٹر میں ایک اجلاس کے دوران کہا:
’ہمیں امید نہیں تھی کہ ایران مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ ہم حیران رہ گئے۔‘
متنازع دعوے اور جواز
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس سے قبل بھی کئی دعوے کیے گئے، جنہیں امریکی انٹیلی جنس کی مکمل حمایت حاصل نہیں تھی، جیسے:
ایران جلد امریکہ تک مار کرنے والا میزائل تیار کر لے گا۔
ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے۔
یہی دعوے اور خطے میں ’فوری خطرے‘ کو بنیاد بنا کر 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی گئی۔
آبنائے ہرمز بند کرنے کا خدشہ
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کو یہ بھی بریفنگ دی گئی تھی کہ ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
خلیجی ممالک پر حملے اور اثرات
گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کے ڈرونز اور میزائلوں نے خلیجی ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوجی اڈے اور فرانسیسی افواج کے زیر استعمال تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔ ہوٹل، ایئرپورٹس اور توانائی کے مراکز کو بھی نقصان پہنچا۔
عالمی معیشت پر اثر
ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تقریباً تمام بحری آمدورفت روک دی، جس کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔ توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
یاد رہے کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
امریکی سیاست میں ردعمل
امریکی ڈیموکریٹک اراکین نے بریفنگ کے بعد کہا کہ انہیں کوئی ایسا فوری خطرہ نظر نہیں آیا جس کی بنیاد پر جنگ شروع کرنا ضروری ہو
جبکہ وائٹ ہاؤس اور انٹیلی جنس حکام نے اس معاملے پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
خطے میں بڑی جنگ کا خدشہ
ایک امریکی اہلکار کے مطابق ٹرمپ کو پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ ایران پر حملہ ایک وسیع علاقائی جنگ کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر اگر ایران یہ سمجھے کہ خلیجی ممالک امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔










