خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی برادری سے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کو خاطر خواہ حمایت نہ مل سکی۔ مختلف ممالک کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر ریاستیں اس بحران میں براہِ راست عسکری مداخلت سے گریز کر رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے کئی ممالک سے جنگی جہاز بھیجنے کی درخواست کی تھی، تاہم نو اہم ممالک میں سے کسی نے بھی فوری طور پر اس اقدام کے لیے واضح رضامندی ظاہر نہیں کی۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحیرۂ عرب سے ملانے والی اس آبنائے سے روزانہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ عالمی توانائی منڈی کا بڑا حصہ اسی راستے پر انحصار کرتا ہے، اسی لیے یہاں کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے اس علاقے میں بحری جہازوں پر حملوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کے واقعات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جن کا الزام ایران پر عائد کیا جا رہا ہے۔
مختلف ممالک کا ردعمل
امریکہ کی اپیل پر مختلف ممالک نے محتاط ردعمل ظاہر کیا۔
فرانس نے باضابطہ طور پر جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا۔
چین نے کوئی واضح جواب نہیں دیا اور اسے خودمختار ریاستوں کا معاملہ قرار دیا۔
برطانیہ نے کہا کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ آپشنز پر غور کر رہا ہے لیکن کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
جاپان نے خاموشی اختیار کی، حالانکہ اس کی تقریباً 70 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی تیل کی درآمدات اسی آبنائے سے گزرتی ہیں۔
جنوبی کوریانے بھی کوئی واضح تصدیق نہیں کی اور اسے مشکل سفارتی صورتحال قرار دیا۔
جرمنی نے بحری قافلے کی حمایت سے گریز کیا۔
ناروے نے بھی اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
خلیجی ممالک کی تشویش
خلیجی ریاستوں نے بھی اس بحران پر تشویش ظاہر کی ہے۔ قطر نے گیس کی پیداوار روکنے کا اعلان کرتے ہوئے فورس میجر نافذ کر دیا۔ قطر کے وزیر توانائی کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایران سے جنگ میں امریکا و اسرائیل کو مشکلات کا سامنا
ایران کس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے؟
اسی طرح متحدہ عرب امارات کے حکام نے کہا کہ خلیجی ممالک پہلے ہی اس جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے کیونکہ وہ اس کے ممکنہ نتائج سے آگاہ تھے۔
ایران پر الزامات
دوسری جانب ایران پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ بحری جہازوں پر حملے کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے، جس سے عالمی تجارت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ایران ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی طاقتوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عالمی حمایت نہ ملنے کی وجوہات
ماہرین کے مطابق کئی ممالک اس بحران میں براہ راست عسکری مداخلت سے اس لیے گریز کر رہے ہیں کیونکہ انہیں مشرقِ وسطیٰ میں مزید جنگ کے خدشات لاحق ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے عالمی توانائی منڈی پر ممکنہ اثرات مرتب ہوں گے اور بڑی طاقتوں کے درمیان سفارتی توازن بگڑ جائے گا۔
ان عوامل کے باعث بیشتر ممالک نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے فوری عسکری تعاون سے گریز کیا۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود امریکہ کی اپیل کو فوری عالمی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ بیشتر ممالک نے جنگی جہاز بھیجنے کے بجائے سفارتی حل اور صورتحال پر نظر رکھنے کی پالیسی اختیار کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں اس حساس خطے میں براہ راست تصادم سے بچنا چاہتی ہیں۔










