عارف انیس
میں آج ایران امریکا جنگ پر آپ سے اپنے دو دوستوں مشعل حسین اور ولی نصر کا تجزیہ شیئر کرتا ہوں۔ دونوں نامور لوگ ہیں اور اپنی فیلڈ کے ماہرین میں شامل ہیں۔ طرز فکر مغربی ضرور ہے مگر اپنے ضمیر سے سوچنے والے لوگ ہیں۔
بلومبرگ پر مشعل حسین کے شو میں ولی نصر کی گفتگو سنیے تو ایک بات واضح ہوتی ہے۔ ایران ٹوٹ نہیں رہا۔ اور جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بمباری کے بعد عوام سڑکوں پر نکلیں گے، حکومت گرے گی، نیا ایران بنے گا، وہ خواب دیکھ رہے تھے۔ خواب ٹوٹ چکا ہے۔
ولی نصر۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں پروفیسر۔ اوباما انتظامیہ کے سابق مشیر۔ تہران میں پیدا ہوئے۔ انیس سو اناسی کے انقلاب نے خاندان کو جلاوطنی پر مجبور کیا۔ پوری زندگی ایران اور امریکا کے رشتے کا مطالعہ کیا۔ ایران کی گرینڈ اسٹریٹیجی پر کتاب لکھی۔ یہ آدمی نہ حکومت کا وکیل ہے نہ مخالف۔ تجزیہ کار ہے۔ اور اس کا تجزیہ واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔
مشعل حسین پوچھتی ہیں کہ ٹرمپ تو کہہ رہے ہیں جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ ولی نصر کا جواب صاف ہے:
ٹرمپ چاہتا ہے کہ ختم ہو، کمبل سے جان چھوٹے، لیکن ایران کا کمبل’ چھوڑنے کو تیار نہیں۔‘
نصر کہتے ہیں کہ ایران نے امریکا میں دانت گاڑ دیے ہیں اور جب تک حساب برابر نہیں ہوتا، نہیں چھوڑے گا۔ ٹرمپ کا خواب تھا کہ سپریم لیڈر مارو، چند اسٹریٹیجک ٹھکانے بم سے اڑاؤ، نئی قیادت آئے، سب بدل جائے۔ یہ خواب تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ لمبی ہو گئی ہے۔ گندی ہو گئی ہے۔ امریکی اڈوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ توانائی کی منڈیاں ہل رہی ہیں۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے۔
مشعل حسین ایک اہم سوال اٹھاتی ہیں: ایران کتنا برداشت کرنے کو تیار ہے؟ ہزاروں مردے۔ ایندھن کے ذخائر جل رہے ہیں۔ تیل کی سپلائی تباہ۔ حد کہاں ہے؟
ولی نصر کا جواب جنگ کے فلسفے کو بدل دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ گولہ بارود گننے کا کھیل نہیں۔ یہ درد کی دہلیز کا مقابلہ ہے۔ یہ کربلا کے فلسفے سے نکلا ہے کہ میں تمہیں اپنے صبر سے مار دوں گا۔
ایران کا حساب ہے کہ امریکا اور اسرائیل تیز دوڑ سکتے ہیں لیکن لمبی دوڑ نہیں دوڑ سکتے۔ ایران طویل فاصلے کا لڑاکا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ زیادہ دیر برداشت کر سکتا ہے۔ اور جب تک برداشت کرتا رہے گا، امریکا کی بھوک ختم ہوتی رہے گی۔
لیکن ایران اتنا کچھ برداشت کر کے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کیا واپس پرانی صورتحال پر آنا؟
نصر کہتے ہیں: نہیں۔ بالکل نہیں۔ ایران کی سوچ یہ ہے کہ یہ آخری جنگ ہونی چاہیے۔ یا ہم ختم ہوں، یا امریکا اور اسرائیل یہ خیال ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں کہ وہ جب چاہیں ایران میں گھس سکتے ہیں۔ یہ اندر گھس کے مارنے والا تصور، کہ ہر چھ مہینے بعد آ کر مار لو، یہ ختم ہونا چاہیے۔ ایران چاہتا ہے کہ امریکا کو اتنی قیمت چکانی پڑے کہ آنے والا کوئی بھی صدر ایران سے الجھنے کا سوچے بھی نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایران سے جنگ میں امریکا و اسرائیل کو مشکلات کا سامنا
ایران کس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے؟
ایرانی حملوں میں امریکی اڈوں پر 200 اہلکار ہلاک یا زخمی، پاسداران انقلاب کا دعویٰ
اور صرف یہ نہیں۔ نصر بتاتے ہیں کہ ایران کے مطالبات وسیع ہیں: پابندیاں اٹھائی جائیں، لبنان سے اسرائیلی واپسی ہو، اور سب سے اہم، امریکا خطے سے اپنے فوجی اڈے سمیٹے۔
ایران خلیجی ریاستوں کو قائل کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے کہ امریکی اڈے تمھاری حفاظت کے لیے نہیں ہیں، یہ ایران پر حملے کے لیے ہیں اور جنگ تمھاری دہلیز پر لاتے ہیں۔ یہ شاید حد سے زیادہ بڑے مقاصد ہیں۔ نصر خود تسلیم کرتے ہیں کہ شاید سب حاصل نہ ہوں۔ لیکن یہی وہ چیز ہے جو ایران کو چلا رہی ہے۔
پھر مشعل حسین بات مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف لے جاتی ہیں۔ نیا سپریم لیڈر۔ مقتول آیت اللہ کا بیٹا۔
ولی نصر کا تجزیہ یہاں گہرا ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل نے انقلاب کی پہلی نسل کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ سپاہِ پاسداران کے سینئر کمانڈرز، سپریم لیڈر۔ اب ایک نئی نسل سامنے آئی ہے۔ نوجوان کمانڈرز جنھوں نے اپنے فوجی تجربے ایران عراق جنگ میں نہیں بلکہ شام اور عراق میں داعش اور امریکا کے خلاف لڑ کر حاصل کیے۔ ان کا قومی سلامتی کا نظریہ بالکل مختلف ہے۔ اور مجتبیٰ انھی لوگوں کا آدمی ہے۔ پچیس سال سے وہ سپاہِ پاسداران میں ترقیوں کے عمل میں شامل تھا۔ کس کو آگے بڑھانا ہے، کس کو نہیں، یہ فیصلے اسی نے کیے۔
مشعل حسین کہتی ہیں کہ مجتبیٰ کی مذہبی اسناد تو وہ نہیں جو روایتی طور پر اس عہدے کے لیے چاہیے ہوتی ہیں۔ باپ سے بیٹے کو اقتدار منتقل کرنا اسلامی جمہوریہ کی روح کے خلاف ہے۔
نصر کا جواب تاریخی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خود خامنہ ای بھی روایتی معنوں میں بڑے آیت اللہ نہیں تھے۔ یہ عہدہ وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ لیکن مجتبیٰ کے پاس دو چیزیں ہیں جو اس وقت سب سے زیادہ اہم ہیں۔
پہلی: وہ تیس سال سے اپنے باپ کے ساتھ بیٹھا ہے، پہلے دن سے کام سنبھال سکتا ہے، سیکھنے کے لیے دو تین سال درکار نہیں۔
دوسری: اس کے باپ، ماں، بیوی، بیٹے، بہن سب اس حملے میں مارے گئے۔ ایران کی مذہبی اور قومی فضا میں یہ شہادت ایک کرشمہ ہے۔ مجتبیٰ نے یہ عہدہ علم سے نہیں کمایا، مصیبت سے کمایا ہے۔ وہ کربلا کے اماموں، شیعہ اولیاء اور ایرانی اساطیری ہیروز کی علامت بن گیا ہے۔
اور یہاں ولی نصر وہ بات کہتے ہیں جو پورے انٹرویو کا مرکز ہے۔
مشعل حسین پوچھتی ہیں کہ کیا اس جنگ نے ایران کو امریکی منشا کے بالکل الٹ سمت میں بدل دیا ہے؟ جنوری میں لاکھوں لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر تھے۔ اب کیا ہوا؟
نصر کہتے ہیں: ہاں۔ غصہ ابھی بھی ہے۔ کوئی مذہبی حکومت یا معاشی تنہائی میں نہیں رہنا چاہتا۔ لیکن اب ایرانیوں کے سامنے سادہ سیاہ سفید فیصلہ نہیں رہا کہ تم حکومت کے ساتھ ہو یا خلاف۔ اب نیا سوال کھل گیا ہے: تم جنگ کے حق میں ہو یا خلاف؟ تم ملک کی حفاظت چاہتے ہو یا تباہی کا خطرہ مول لینے کو تیار ہو؟
تہران پر تیزابی بارش ہو رہی ہے تیل کے ذخائر جلنے سے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ اور ایسے میں حکومت مخالف ایرانی بھی ریلیوں میں آ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ابھی اندرونی سیاسی لڑائی کا وقت نہیں، ابھی ملک کا ساتھ دینے کا وقت ہے۔
نصر واضح الفاظ میں کہتے ہیں: اگر ٹرمپ ایران میں فوری سیاسی بغاوت کا انتظار کر رہا تھا تو یہ نہیں ہو رہی۔ اور جب تک جنگ کا غبار نہیں بیٹھتا، نہیں ہو گی۔ ایرانی عوام اس وقت جنگ میں ایک فریق نہیں ہیں۔ اور یہ وہی عوام تھے جن پر امریکا اور اسرائیل دونوں نے دارومدار رکھا تھا۔
نصر ایک اور اہم نکتہ اٹھاتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ نے اپنا نظام عرصے سے بکھیر رکھا ہے۔ جون دو ہزار پچیس کی بارہ روزہ جنگ کے بعد، جب اسرائیل نے سپاہِ پاسداران کے تیس کمانڈرز مارے اور باقی سب زیرِ زمین چلے گئے، ایران نے نظام کو مزید بکھرا دیا۔ سپریم لیڈر مارا جائے تو نظام مفلوج نہ ہو۔ فیصلے ایک جگہ سے نہیں، کئی مراکز سے ہوں۔ حکومت میں، بیوروکریسی میں، سپاہ میں، ہر جگہ خودمختار فیصلہ سازی کا ڈھانچہ بنایا گیا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای خود عوام کے سامنے نہیں آ رہا۔ نصر کہتے ہیں کہ اس کی وجوہات ہیں۔ افواہ ہے کہ وہ بمباری میں زخمی ہو گیا تھا۔ اسرائیل اور امریکا نے واضح کیا ہے کہ اسے بھی نشانہ بنائیں گے۔ ایران دوبارہ قیادت کی تبدیلی کے بحران سے بچنا چاہتا ہے۔
اور جب مشعل حسین پوچھتی ہیں کہ یہ جنگ کب تک چلے گی، تو نصر کا جواب مختصر مگر بھاری ہے: ٹرمپ جتنا سوچ رہا ہے اس سے زیادہ لمبی چلے گی۔
یہ انٹرویو سنیے تو ایک بات واضح ہوتی ہے۔ ایران جنگ نہیں جیت رہا۔ ایران صبر جیت رہا ہے۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ طویل جنگوں میں صبر ہمیشہ بموں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر وار اس لیے کیا کہ وہ سمجھتا تھا کہ ایک ضرب میں کام تمام ہو جائے گا۔ پلان بی نہیں تھا۔ آج بھی نہیں ہے۔ اور جب حملہ آور کے پاس پلان بی نہ ہو اور مدافع کے پاس صبر ہو تو نتیجہ پہلے سے طے ہوتا ہے۔
جنگیں وہ نہیں جیتتا جو زیادہ مارتا ہے۔ جنگیں وہ جیتتا ہے جو زیادہ سہتا ہے۔ اور سہنے کا فن ایران نے پینتالیس سال میں سیکھا ہے۔ ٹرمپ نے اسّی سال میں نہیں سیکھا۔










