خطۂ مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ، امریکہ کی براہِ راست عسکری مداخلت، خلیجی ممالک کی کشمکش اور عالمی معیشت پر پڑتے دباؤ نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں ہر ملک کو اپنا موقف واضح کرنا پڑ رہا ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں پاکستان ایک منفرد اور نازک کردار ادا کر رہا ہے۔
ایک طرف پاکستان عالمی سطح پر امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے اور تمام متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف اسے شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات(یو اے ای) کی جانب سے دو ارب ڈالر کی واپسی کا مطالبہ، ملک سے کالے دھن کی اڑان اور اندرونی سیاسی انتشار، یہ سب مل کر پاکستان کے سامنے ایک بڑا امتحان پیش کر رہے ہیں۔
یہ رپورٹ انہی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیتی ہے۔
خطے کی جنگ اور سفارتی صورتحال
ٹرمپ کی ڈیڈ لائن اور ایران کی شرائط
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھ اپریل کو جنگ بندی کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ دو اپریل کو انہوں نے ایک اہم تقریر کی اور ساتھ ہی اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں یہ انکشاف کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ بالواسطہ رابطہ جاری ہے اور وہ انہیں سابق ایرانی قیادت کی نسبت زیادہ سمجھ دار قرار دیتے ہیں۔
تاہم ایران نے مذاکرات کے لیے ایک واضح شرط عائد کر دی ہے کہ جب تک امریکہ اور اسرائیل مکمل جنگ بندی نہیں کریں گے، ایران امریکی شرائط کا جواب دینے پر غور بھی نہیں کرے گا۔ ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے، جو خود پاکستان کی سفارتی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔
اس کے باوجود جنگ بندی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی اور اس کی بنیادی وجہ اسرائیل کی ضد ہے۔
میدانِ جنگ کی صورتحال
زمینی حقائق انتہائی تشویشناک ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے اصفہان کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران نے تل ابیب اور حیفہ میں جوابی حملے کر کے بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کویت، قطر، سعودی عرب، بحرین اور عمان میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
اسرائیل کا مقصد واضح ہے۔ وہ اس خطے میں طویل عرصے تک انتشار اور عدم استحکام چاہتا ہے تاکہ ایران کو کمزور کیا جا سکے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے غلبہ قائم کیا جا سکے۔ معاہدہ براہیمی (ابراہم اکارڈ) کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کے باقاعدہ اتحادی ہیں، جس کا اثر براہِ راست پاکستان کے سفارتی توازن پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی مشکل یہ تھی اور یہ ہے کہ وہ ایسے مسلمان ممالک جو اسرائیل کے باقاعدہ اتحادی ہیں، کے ساتھ چلنا مشکل محسوس کررہا ہے بالخصوص جب یہ مسلمان ممالک اسرائیل کی خواہش پر پاکستان سے کے سامنے کچھ مطالبات رکھتے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی
غیر جانبداری کیوں ضروری ہے؟
پاکستان کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ پاکستان اور ایران ہمسایہ ممالک ہیں اور پاکستان میں شیعہ آبادی کی ایک بڑی تعداد ایران کے ساتھ مسلکی و جذباتی تعلق رکھتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
اس کے باوجود پاکستان نے انتہائی مہارت سے ایک واضح اصول اپنایا ہے کہ وہ کسی بھی فریق کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ تمام فریقوں کو جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کرے گا۔ یہ پالیسی نہ صرف قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہے بلکہ پاکستان کے قومی مفاد میں بھی سب سے بہتر راستہ ہے۔
عالمی حمایت اور پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار
پاکستان کی اس پالیسی کو عالمی سطح پر وسیع پذیرائی مل رہی ہے۔ یورپ، شمالی و جنوبی امریکہ، چین، جاپان، اقوامِ متحدہ اور تمام عرب ممالک پاکستان کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ چین کی شمولیت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ایک عالمی طاقت کی موجودگی کسی بھی امن معاہدے کو زیادہ مستحکم اور پائیدار بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
متحدہ عرب امارات : پین اسلام ازم سے اسپارٹن حقیقت پسندی تک، تزویراتی کایا پلٹ کی داستان
اسلام آباد مذاکرات: مشرق وسطیٰ میں نئے 4 ملکی بلاک کا ظہور
اسرائیل کا مشرقِ وسطیٰ میں نئے اتحاد کا اعلان
ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور پاکستان پر مشتمل سفارتی چوکڑی میں چین کا اضافہ اس امن عمل کو ایک نئی قوت دے رہا ہے۔ ایران نے بھی پاکستان کی کوششوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے اور ایران میں عوامی سطح پر پاکستان کے حق میں ریلیاں نکالی گئی ہیں جن میں پاکستانی پرچم اور شکریہ پاکستان کے پوسٹرز اٹھائے گئے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مالی کشمکش
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہے ہیں۔ زیادہ درآمدات، کم برآمدات اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے پاکستان کو بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کا قرض لیا ہوا ہے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں بطور ڈیپازٹ موجود ہے۔
اس قرض کا مقصد تین نکاتی ہے۔
اول یہ کہ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم نظر آئیں۔
دوم یہ کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں میں پاکستان کی معاشی درجہ بندی بہتر رہے۔ سوم یہ کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی شرط کے تحت کم از کم زرمبادلہ ذخائر کی ضرورت پوری ہو سکے۔
سود کی بھاری قیمت
یہ قرض کسی اسلامی بھائی چارے کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالص تجارتی بنیادوں پر دیا گیا ہے۔ پاکستان اس قرض پر چھ اعشاریہ پانچ فیصد سالانہ سود ادا کرتا ہے، جو تجارتی بینکوں کی شرح سے بھی زیادہ ہے۔ موازنے کے طور پر پاکستان نے برطانوی بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ سے چھ سو ملین ڈالر صرف چھ اعشاریہ تین فیصد پر حاصل کیے ہیں۔ یعنی ایک نام نہاد مسلم بھائی ملک، ایک نجی مغربی بینک سے بھی زیادہ شرحِ سود وصول کر رہا ہے۔ اس قرض پر صرف سود کی سالانہ ادائیگی ایک سو تیس ملین ڈالر بنتی ہے، جو کوئی معمولی رقم نہیں۔
رول اوور کی کہانی اور سترہ اپریل کی ڈیڈ لائن
گزشتہ دسمبر میں جب اس قرض کی میعاد ختم ہونے لگی تو متحدہ عرب امارات کے حکمران محمد بن زاید النہیان اسلام آباد کے دورے پر آئے۔ اس دورے کے چند روز بعد متحدہ عرب امارات نے قرض کو صرف دو ماہ کے لیے رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جو بعد میں بڑھ کر تین ماہ ہو گئی۔ اب اپریل کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور سترہ اپریل کو اس قرض کی مدت ختم ہو رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اب دو ارب ڈالر کی مکمل واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پاکستان نے مذاکرات کی کوشش کی اور مزید رول اوور کی درخواست کی، لیکن قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق یہ درخواست منظور نہیں ہوئی۔
اطلاعات ہیں کہ اس معاملے پر پاکستانی حکام اور یو اے ای کے حکام کے مابین کچھ گرمی سردی بھی ہوئی ہے۔ اس کی اصل وجہ یو اے ای کی حکومت کا پاکستان پر غصہ ہے کہ وہ ایران کے خلاف اسرائیل، یو اے ای، بھارت بلاک کا حصہ کیوں نہیں بنتا؟ ایران کے خلاف کارروائی میں شامل کیوں نہیں ہوتا؟ یا کم از کم اس بلاک کی خواہشات پر کیوں نہیں چلتا۔
جب سے جنگِ ایران کا آغاز ہوا ہے، متحدہ عرب امارات کی حکومت امریکا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ ایران کے موجودہ رجیم سے کسی بھی قیمت پر اس کی جان چھڑائے۔ چاہے اس کے لیے ایٹمی حملہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ دوسری طرف پاکستان مسلسل ایسے عزائم کی شدید مخالفت کر رہا ہے۔ وہ اگر ایران کے مسلمان ممالک پر حملوں کی مذمت کرتا ہے تو دوسری طرف امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت بھی کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے بارہا پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے مذمتی بیانات اور قرادادوں میں اسرائیل کا نام شامل نہ کیا کرے تاہم پاکستان نے یو اے ای کی ایسی ہر درخواست کو نظرانداز کیا۔
اس تناظر میں جب متحدہ عرب امارات کی طرف سے قرض کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان نے پورے عزت و وقار سے ایک جرات مندانہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مزید مالی دباؤ کے تلے دبنے کی بجائے یہ رقم واپس کر دے گا، چاہے اس کے مالی نتائج کچھ بھی ہوں۔
یہ فیصلہ کیوں ضروری تھا؟
یہ محض ایک مالی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سفارتی اور سیاسی فیصلہ ہے۔ پاکستان کی قیادت نے یہ بھانپ لیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ مالی دباؤ دراصل اس جیو پولیٹیکل صف بندی کا حصہ ہے جس میں متحدہ عرب امارات ، اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کو اپنی غیر جانبداری کی پالیسی سے ہٹانا چاہتا ہے۔
اگر پاکستان اس دباؤ میں آ جاتا تو اس کی وہ سفارتی ساکھ داؤ پر لگ جاتی جو اس نے انتہائی مشکل حالات میں بڑی محنت سے قائم کی ہے۔ عالمی برادری کا اعتماد، امن کے عمل میں پاکستان کا کردار اور خطے میں اس کی غیر جانبداری، یہ سب ختم ہو جاتے۔ اس لیے مالی نقصان اٹھا کر بھی سفارتی آزادی برقرار رکھنا زیادہ دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
سعودی عرب کا مثبت کردار
اسی صورتحال میں سعودی عرب کا رویہ قابلِ ذکر ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو پانچ ارب ڈالر کا قرض دے رکھا ہے جو اسٹیٹ بینک میں محفوظ ہے۔ اس قرض کی شرحِ سود صرف چار فیصد ہے، جو متحدہ عرب امارات کی شرح سے ڈھائی فیصد کم ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے ابھی تک اس رقم کی واپسی کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا اور وہ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
یہ حقیقت ان حلقوں کے لیے ایک آئینہ ہے جو پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں اور سعودی عرب کو پاکستان کا دشمن باور کراتے ہیں۔
کالے دھن کی اڑان اور معاشی خطرہ
متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں پاکستانیوں کے لیے وہ ویزے دوبارہ کھول دیے ہیں جو دو سال سے بند تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری اور مارچ میں پاکستان سے متحدہ عرب امارات جانے والوں کی تعداد گزشتہ سال کے انہی مہینوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی ہے۔
اس اقدام کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا واضح اقتصادی مفاد ہے۔ جنگ کے باعث دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں کافی گر گئی ہیں اور متحدہ عرب امارات چاہتا ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار وہاں آ کر پراپرٹی خریدیں تاکہ گرتی ہوئی مارکیٹ کو سہارا ملے۔
سرمایے کی خطرناک بیرونی منتقلی
گجرانوالہ سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے لوگ دبئی میں سستی پراپرٹیز خریدنے کے لیے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ سیالکوٹ، فیصل آباد، کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ تک پھیلا ہوا ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ رقم بینکنگ چینلز کے ذریعے نہیں بلکہ ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے باہر جا رہی ہے۔ یعنی ٹیکس چوری کا پیسہ، مزید ٹیکس چوری کے راستے سے ایک ایسی مارکیٹ میں لگایا جا رہا ہے جہاں قیمتیں گری ہوئی ہیں۔ یہ پاکستان کی معیشت کے لیے دوہرا نقصان ہے۔
اس صورتحال میں حکومتِ پاکستان کو کئی اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے سرمایے کی بیرونی منتقلی کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ٹیکس نیٹ سے باہر کاروباری طبقے کو دستاویزی معیشت میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر مراعات دینا بھی اسی قدر ضروری ہے۔ سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹ اور صنعتی شعبے کی طرف راغب کرنا چاہیے، کیونکہ فی الحال زیادہ تر سرمایہ ریئل اسٹیٹ میں جا رہا ہے جو معیشت کے لیے کم مفید ہے۔ پاکستانی ڈائسپورا کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات دینا بھی ضروری ہے۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلے کے دور رس نتائج ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر واپس کرنے کا فیصلہ مالی لحاظ سے بوجھل ہے، لیکن یہ پاکستان کی سفارتی آزادی اور اصولی موقف کی علامت ہے۔
پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ مالی دباؤ کے تلے اپنی خارجہ پالیسی نہیں بیچتا۔ یہ غیر جانبداری اس وقت پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور عالمی برادری کی نظر میں پاکستان کی یہی ساکھ اسے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کرنے کا موقع دے رہی ہے۔
تاہم اندرونی محاذ پر کالے دھن کی اڑان، فرقہ وارانہ انتشار اور سیاسی خود غرضی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کیے بغیر خارجی کامیابیاں ادھوری رہیں گی۔ پاکستان کو بیرونی دشمنوں سے کم اور اندرونی کمزوریوں سے زیادہ خطرہ ہے۔
اگر پاکستان نے اپنی اس پالیسی کو مستقل مزاجی سے جاری رکھا، معیشت کو دستاویزی بنایا، سرمایے کو ملک کے اندر روکا اور فرقہ واریت کے خلاف مؤثر اقدامات کیے تو یہ مشکل وقت پاکستان کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔










