گزشتہ روز ممتاز برطانوی اخبار ’ دی گارڈین‘ میں اس کے ڈپلومیٹک ایڈیٹر پیٹرک وینٹور کا ایک تجزیہ شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے: ’اسلام آباد مذاکرات: مشرق وسطیٰ میں نئے 4 ملکی بلاک کا ظہور‘۔
اس تجزیہ میں وہ مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اتحاد، بلاک کی خبر دے رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ ایک ایسا اتحاد ہے جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ مصنف نے نہایت تفصیل سے بتایا ہے کہ اس نئے اتحاد میں شریک ممالک کیا سوچ رہے ہیں اور وہ اس خطے کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
پیٹرک وینٹور لکھتے ہیں:
اتوار کو اسلام آباد میں مصر، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس نہ صرف ایران میں جنگ بندی کی سب سے روشن امید بن کر ابھرا، بلکہ یہ اجلاس ایک ایسے نئے علاقائی نظام کی بنیاد بھی ثابت ہو سکتا ہے جو جنگ کے بعد اسرائیل اور ایران کے غلبے کو محدود کرنے کے لیے تشکیل پا رہا ہے۔
اگرچہ یہ چاروں ممالک اس سے قبل بھی مشترکہ فورم پر اکٹھے ہو چکے ہیں، تاہم اسلام آباد میں اتوار کو ہونے والا یہ یک روزہ وزارتی اجلاس، ہر لحاظ سے، ایک ایسے سفارتی اقدام کی باضابطہ افتتاحی تقریب تھی جس نے دنیا بھر کے ماہرینِ سفارت کاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
بڑھتے ہوئے پیچیدہ تنازعات کے جال میں اس گروپ کا پہلا ہدف تمام فریقین کو کشیدگی ختم کرنے اور جنگ بندی پر آمادہ کرنا ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں خلیجی امور کی ماہر یاسمین فاروق کے مطابق یہ چار ملکی گروپ آئندہ کہیں زیادہ باقاعدگی سے ملاقاتیں کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ چار ملکی گروپ اس لیے بہت سرگرم ہو گیا ہے کیونکہ یہ واقعی جنگ کا ایک انتہائی خطرناک مرحلہ ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے اندر جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور فوجی دستوں کی ممکنہ تعیناتی کا خدشہ بھی موجود ہے۔ یہی وہ ڈراؤنا خواب ہے جو خلیجی ممالک کو ، جو اب تک جنگ بندی کے خواہاں نہیں تھے — یہ احساس دلا سکتا ہے کہ معاملات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔‘
’کیونکہ اگر آبی تنصیبات اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جائے، اگر خلیج کے پانیوں میں جوہری رساؤ ہو جائے، تو یہ وہ لمحہ ہوگا جب یہ بحران ان ممالک کے اندر ایک قومی آفت کی شکل اختیار کر لے گا۔‘
اسلام آباد میں اتوار کو ہونے والے اجلاس میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی۔ اجلاس کے اختتام پر ایران نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ پاکستانی پرچم تلے چلنے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی، ممکنہ طور پر روزانہ دو جہاز۔ یہ اعتماد سازی کی سمت ایک معمولی مگر علامتی قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سعودی عرب کا پیسہ، پاکستان کی ایٹمی طاقت، ترک عسکری مہارت: نیا سکیورٹی بلاک
اسرائیل کا مشرقِ وسطیٰ میں نئے اتحاد کا اعلان
ایران کس حکمت عملی کے تحت خلیجی ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے؟
یہ بھی طے پایا کہ یہ گروپ ایران کے ساتھ بنیادی ثالث کا کردار ادا کرے گا، اس طرح تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکراتی راستے کھلے رکھے جائیں گے۔
ایران کا موقف ہے کہ یہی واحد قابلِ اعتماد چینل ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی باتیں محض تیل کی قیمتیں گھٹانے کے لیے ایک حربہ ہیں، حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
اتوار کے اجلاس کے فوری بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار بیجنگ روانہ ہو گئے تاکہ چین کو اس بحران کی صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
ایران کے اندر سے یہ آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ کسی بھی معاہدے کی ضمانت میں چین کو شامل کیا جائے۔ ایک ایسی تجویز جسے امریکا ہرگز پسند نہیں کرے گا۔
پہلی نظر میں اس چار ملکی گروپ کی رکنیت کچھ حیران کن معلوم ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب جس کے بارے میں بار بار یہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ وہ متحدہ عرب امارات کی طرح امریکا کو ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی نجی طور پر ترغیب دے رہا ہے، اس گروپ کا سرگرم رکن ہے۔ یہ امر کم از کم اس بات کی نشاندہی ضرور کرتا ہے کہ سعودی عرب اپنے تمام راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے اور کسی ایک موقف پر قطعی طور پر قائم نہیں ہے۔
مسز فاروق نے کہا: ’خلیجی ریاستوں کے لیے تمام راستے کٹھن ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کو ان پر کیے گئے حملوں اور آبنائے ہرمز کو یرغمال بنانے کی قیمت چکانی پڑے۔ دوسری طرف وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا امریکا ‘کام تمام کر کے’ افراتفری پھیلا کر چلتا بنے گا یا نہیں۔ اور یہی وہ صورتحال ہے جو سعودی عرب ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا۔‘
ترکیہ کا زیادہ قدرتی اتحادی سمجھا جانے والا قطر اسلام آباد اجلاس میں شریک نہیں تھا۔ اس غیر حاضری کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قطر اب بھی ایران کی اس کارروائی پر سخت برہم ہے جس میں رأس لفان مائع گیس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ باوجود اس کے کہ یہ سہولت پہلے ہی بند کی جا چکی تھی۔ ایک تجزیہ کار نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا: ’دوحہ، متحدہ عرب امارات کے برعکس، جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، لیکن وہ ایران کی جانب سے سرگرم ثالث کا کردار ادا کرنے کے موڈ میں نہیں۔‘
غالباً اس گروپ کا سب سے پرعزم رکن اور اپنی کامیابی میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ترکیہ ہے۔ انقرہ کا یہ موقف کافی عرصے سے رہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی پراکسی گروپوں کی حمایت سے متعلق مذاکرات پورے خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر ہونے چاہئیں، نہ کہ محض امریکا کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر۔ البتہ ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی پابندیوں کے خاتمے کا معاملہ بڑی حد تک دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی طے پائے گا۔ متحدہ عرب امارات اس تقسیم کی مخالفت کرتا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن نے خلیجی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کے وسیع تر تناظر کو سمجھیں اور ان خطرات کا ادراک کریں جو انہیں اس صورت میں لاحق ہو سکتے ہیں اگر وہ کسی ایسے نتیجے کی حوصلہ افزائی کریں جس میں اسرائیل پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرے۔
قالن نے کہا: ’اس جنگ کے مقاصد میں نہ صرف ایران کی جوہری صلاحیت کا خاتمہ شامل ہے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہدف یہ ہے کہ خطے کی بنیادی اقوام — ترک، کرد، عرب اور فارسی — کے درمیان ایسی کشمکش کی بنیاد رکھی جائے جو کئی دہائیوں تک جاری رہے۔ یہ ایک طویل خانہ جنگی اور خونی چپقلش کا راستہ ہموار کرے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس جنگ کو شروع کرنے والے تباہی، الحاق اور قبضے کی پالیسیوں کے ذریعے لبنان، شام، فلسطینی علاقوں اور دیگر خطوں میں نئی زمینی حقیقتیں مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ قالن نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں، لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس جنگ کا آغاز کس نے کیا۔‘
فیدان نے جمعہ کو اے ہابر ٹی وی کو دیے گئے ایک طویل انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی ممالک آپس میں دست و گریباں ہو جائیں تاکہ وہ ایران مخالف اتحاد کو مزید وسعت دے سکے۔ انہوں نے کہا: ’بدقسمتی سے خطہ قدم بہ قدم اسرائیل کے لکھے ہوئے اسکرپٹ میں کھنچتا چلا جا رہا ہے۔ خلیجی ممالک کو اسرائیل کے اس کھیل کا شکار نہیں بننا چاہیے۔‘
انہوں نے دلیل دی کہ امریکی رائے عامہ جنگ کے خلاف ہو چکی ہے اور ٹرمپ جنگ کے مقاصد واضح کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم امریکی سیاست کی ایک بنیادی خامی یہ ہے کہ وہاں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا کوئی موثر طریقہ کار موجود نہیں۔
فیدان نے مزید کہا: ’اگر امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوئی معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل پر انتہائی سنجیدہ اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ یہاں کون غالب آتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کون کس پر اور کس حد تک حکم چلاتا ہے۔‘










