امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ چاروں شانے چت: اب ڈیموکریٹس اپنے اختیارات کیسے استعمال کریں گے؟

·

امریکہ میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ وہ 3 جنوری سے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اس سے پہلے وہ اقلیتی جماعت ہونے کی وجہ سے نہ مؤثر سماعتیں کروا سکتے تھے، نہ حکومتی عہدیداروں کو طلب کر سکتے تھے اور نہ ہی عدالتی حکم کے ذریعے دستاویزات منگوا سکتے تھے۔ اب ان کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی نگرانی اور ان کا احتساب کرنے کے وسیع اختیارات ہوں گے۔

ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان کی 435 میں سے کم از کم 250 نشستیں اور سینیٹ کی 100 میں سے کم از کم 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔ انھیں دونوں ایوانوں میں واضح اکثریت تو مل گئی ہے، لیکن وہ اتنی بڑی تعداد نہیں رکھتے کہ صدر کے ویٹو  کو غیر مؤثر بنا سکیں۔ اس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں دو تہائی اکثریت یعنی 290 اور سینیٹ میں 67 ووٹ درکار ہیں۔ اس لیے بڑے قوانین منظور کروانا مشکل ہوگا۔ البتہ ادویات کی قیمتوں میں کمی جیسے عوامی مقبولیت کے اقدامات پر ٹرمپ سے سمجھوتے ممکن ہیں۔

نومنتخب اسپیکر حکیم جیفریز  کی پہلی ترجیح غریبوں کے لیے صحت کی سہولت میڈیکیڈ  اور اوباما کیئر  کے تحت انفرادی صحت بیمہ لینے والوں کی سرکاری امداد بحال کرنا ہوگی۔ ڈیموکریٹس ایران کی جنگ ختم کرنے اور کینیڈا سمیت مختلف ممالک پر عائد ٹرمپ کے درآمدی محصولات ختم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ ان کا موقف ہے کہ ان محصولات سے امریکی صارفین کے اخراجات بڑھے ہیں۔

حکومت کے اخراجات کی منظوری 11 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ بجٹ میں توسیع نہ ہونے سے وفاقی حکومت کے بعض محکموں کا کام عارضی طور پر رک سکتا ہے اور ملازمین کو بلا معاوضہ چھٹی پر بھیجنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے فروری یا مارچ تک عارضی بجٹ منظور کیے جانے کا امکان ہے۔اس کے بعد پورے مالی سال کا بجٹ طے ہوگا۔ ڈیموکریٹس اس موقع سے فائدہ اٹھا کر صحت کی سہولتوں، درآمدی محصولات اور دیگر معاملات پر ٹرمپ سے رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ڈیموکریٹس ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے سینیٹ میں بعض ری پبلکن ارکان کی حمایت بھی ضروری ہوگی۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ جنگ کے لیے فنڈز جاری کرنے کو اس شرط سے مشروط کریں کہ حکومت فوجی ہلاکتوں، ہتھیاروں کے ذخائر اور جنگ کی صورت حال کی مکمل تفصیلات کانگریس کو فراہم کرے۔

اسرائیل کی 4 ارب ڈالر سالانہ امریکی امداد ختم کرنے کا اعلان، ٹرمپ کی انتخابی شکست نہ ٹال سکا

اسرائیل کی امداد میں چار ارب ڈالر کی کمی، امریکی سیاست میں تاریخی تبدیلی کا اشارہ ہے؟

امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر ڈاکٹرعبدالرحمان محمد السید کون ہیں؟

امریکی تاریخ میں پہلی بار: فلسطینی نژاد عبیر قواس نیویارک سینیٹ کی رکن منتخب

دوسری طرف ڈیموکریٹس کے لیے  ٹرمپ کی غیر قانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری کی مہم کے اخراجات کو  روکنا مشکل ہوگا، کیونکہ ری پبلکن پہلے ہی اس مقصد کے لیے ٹرمپ کی صدارت کی باقی مدت تک فنڈز مختص کر چکے ہیں۔

سینیٹ میں اکثریت کے باعث ڈیموکریٹس ٹرمپ کی کابینہ اور ججوں کی تقرریاں روک سکتے ہیں۔ اگر 2028ء کے صدارتی انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ کے کسی قدامت پسند جج کی جگہ خالی ہوئی تو وہ اس تقرری کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح  سپریم کورٹ کی ماتحت ضلعی وفاقی   عدالتوں(Federal District Courts) میں ججوں کی تقرریاں بھی متاثر ہوں گی۔

حکومتی تحقیقات سے مراد کانگریس کی جانب سے حکومتی عہدیداروں کے فیصلوں، اقدامات اور ممکنہ بدعنوانی یا مفادات کے ٹکراؤ کی چھان بین ہے۔ ڈیموکریٹس سرکاری عہدیداروں کو طلب کرکے ان سے سوالات کریں گے، گواہیاں لیں گے اور متعلقہ دستاویزات حاصل کرنے کے لیے قانونی سمن (Subpoenas) جاری کریں گے۔ خاص توجہ ٹرمپ خاندان کے کاروباری مفادات اور حکومتی فیصلوں سے ممکنہ مالی فائدے پر ہوگی۔ ان میں ٹرمپ جونیئر  سے وابستہ ایک کمپنی کو پینٹاگون سے قرض ملنے اور داماد جیرڈ کشنر  کے نجی سرمایہ کاری فنڈ میں خلیجی ممالک کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری جیسے معاملات شامل ہیں۔ حکومت بعض دستاویزات کو خفیہ قرار دے کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے، اس لیے ڈیموکریٹس وائٹ ہاؤس سے کاروباری معاملات رکھنے والی کمپنیوں اور افراد سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ڈیموکریٹس خود کو شفاف اور بدعنوانی سے پاک حکومت کے حامی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ارکانِ کانگریس کی حصص کی خرید و فروخت پر پابندی کا قانون لانے کی کوشش ہوگی۔ دیگر تجاویز میں معافی دلوانے کے لیے کام کرنے والے دلالوں کی رجسٹریشن، ٹرمپ کو قطر سے ملنے والے طیارے کی واپسی اور سرکاری ٹھیکے داروں کے سربراہوں کی سیاسی چندے دینے پر پابندی شامل ہیں۔

امریکی آئین کے تحت کانگریس صدر یا وفاقی وزرا کے خلاف سنگین الزامات پر مؤاخزے (Impeachment) کی کارروائی کر سکتی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں الزامات منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں مقدمہ چلتا ہے۔ اگر دو تہائی ارکان عہدیدار کو مجرم قرار دیں تو اسے عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے خلاف 2019ء اور 2021ء میں دو مرتبہ مؤاخزے کی کارروائی ہوئی، لیکن دونوں مرتبہ سینیٹ نے انہیں بری کر دیا۔ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت میں ڈیموکریٹ ارکان ان کے خلاف مواخذے کی سات قراردادیں پیش کر چکے ہیں، تاہم پارٹی قیادت تیسرے مواخذے کو بے نتیجہ سمجھتی ہے، کیونکہ سینیٹ میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ڈیموکریٹس کی ترجیح یہ ہے کہ کانگریس کی کمیٹیوں کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں۔ اگر ان تحقیقات میں مواخذے کے قابل شواہد سامنے آئیں تو اس راستے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ عوام کو صحت کی سہولتوں، مہنگائی اور حکومتی بدعنوانی جیسے مسائل پر عملی نتائج دکھا سکیں۔ صرف ٹرمپ کے خلاف تحقیقات اور مؤاخذے کی کوششوں میں الجھے رہنے سے 2028ء کے انتخابات میں ان کی اپنی اکثریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انھیں معتدل حلقوں کے ووٹروں کو بھی ساتھ رکھنا ہوگا۔ دوسری طرف ٹرمپ اور ان کے وفاداروں کی سیاسی مزاحمت بھی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں