دنیا بھر میں Diabetes Mellitus کے کروڑوں مریضوں کے لیے روزانہ انسولین انجیکشن معمول کا حصہ بن چکا ہے، مگر سائنسی دنیا میں ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جو مستقبل میں اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ماضی کا قصہ بنا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق انسولین کو گولی کی شکل میں فراہم کرنے کی کوششیں اب عملی کامیابی کے قریب پہنچ رہی ہیں۔
انسولین انجیکشن کیوں ضروری ہیں؟
ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم کا لبلبہ انسولین بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے یا مطلوبہ مقدار میں پیدا نہیں کرتا۔ انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں موجود گلوکوز کو خلیات تک پہنچا کر توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔
اگر خون میں شوگر کی سطح مسلسل بلند رہے تو اس کے نتیجے میں سنگین پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں، مثلاً:
گردوں کی خرابی، بینائی کا متاثر ہونا، دل کے امراض اور فالج۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں شوگر اور ہیپاٹائٹس کی مفت سکریننگ، تشخیص اور علاج کا اعلان
شوگر سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پانا آسان ، جرمن ادارے کی رپورٹ
5 چائے جو قدرتی طور پر شوگر کو نارمل کرتی ہیں
اسی لیے مریضوں کو روزانہ انسولین انجیکشن لگانے پڑتے ہیں، جو نہ صرف تکلیف دہ ہوتے ہیں بلکہ معیارِ زندگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
گولی کی صورت میں انسولین: ایک صدی پرانی کوشش
انسولین کو گولی کی شکل میں تیار کرنا گزشتہ 100 برس سے سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسولین ایک پروٹین ہے، جو معدے اور آنتوں میں ہضم ہو کر اپنا اثر کھو دیتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ خون میں شامل ہو سکے۔
جاپان میں اہم پیش رفت
حالیہ تحقیق میں Kumamoto University کے سائنسدانوں نے اس مسئلے کا ممکنہ حل پیش کیا ہے۔ انہوں نے ایک خاص قسم کے cyclic peptide کا استعمال کیا، جو انسولین کو چھوٹی آنت تک محفوظ طریقے سے پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔
تحقیق کے اہم نکات
سائنسدانوں نے دو مختلف طریقہ کار آزمائے۔
پہلے طریقے میں peptide کو زنک کے ذریعے مستحکم انسولین کے ساتھ جوڑا گیا۔
دوسرے طریقے میں peptide کو براہِ راست انسولین سے منسلک کیا گیا۔
یہ دوا جب تجرباتی چوہوں کو منہ کے ذریعے دی گئی تو بلڈ شوگر کی سطح معمول پر آگئی۔ ایک خوراک کا اثر تقریباً 3 دن تک برقرار رہا۔
بڑی رکاوٹ کیسے دور ہوئی؟
ماضی میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ زبانی انسولین کے لیے بہت زیادہ مقدار درکار ہوتی تھی، جس سے اس کا استعمال غیر مؤثر ہو جاتا تھا۔ مگر نئی تحقیق کے مطابق peptide ٹیکنالوجی نے اس رکاوٹ کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
ماہرین کی رائے
محققین کے مطابق ’روزانہ انسولین انجیکشن بہت سے مریضوں کے لیے مشکل اور تکلیف دہ ہوتے ہیں، لیکن یہ نئی پیش رفت دوا کی شکل میں انسولین کی فراہمی کو ممکن بنا سکتی ہے۔‘
ابھی کیا باقی ہے؟
اگرچہ یہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن ابھی انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز ہونا باقی ہیں۔ دوا کی محفوظ اور مؤثر مقدار کا تعین ضروری ہے۔ طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا ہوگا۔
مستقبل کی جھلک
اگر یہ تحقیق کامیاب ثابت ہوتی ہے تو انسولین انجیکشن کی ضرورت کم یا ختم ہوسکتی ہے۔ مریضوں کے لیے علاج آسان اور کم تکلیف دہ ہو جائے گا۔ ذیابیطس کے علاج میں ایک بڑی انقلابی تبدیلی آ سکتی ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف طبی سائنس کے لیے اہم ہے بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن بھی ثابت ہو سکتی ہے۔










