کار میں پیٹرول ڈالا جا رہا ہے

آئی ایم ایف بہانہ، عوام نشانہ: پیٹرول مہنگائی کے پیچھے چھپی اصل کہانی

·


پاکستان کی معاشی تاریخ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں محض ایندھن کے نرخ نہیں رہے، بلکہ یہ اس سماجی ناانصافی اور "ایلیٹ کیپچر” (اشرافیہ کے قبضے) کی علامت بن چکی ہیں جو دہائیوں سے اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ایک طرف عام شہری سے پائی پائی نچوڑی جاتی ہے، تو دوسری طرف طاقتور طبقے کی مراعات کے لیے قومی خزانے کے منہ کھول دیے جاتے ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے ڈھانچے کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صارف کو بین الاقوامی قیمت سے کہیں زیادہ بوجھ صرف حکومتی ٹیکسوں اور مارجنز کی صورت میں اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب سے اپنی ضرورت کا تیل رعایتی نرخوں اور مؤخر ادائیگیوں پر حاصل کرتا ہے، تاہم بی بی سی (BBC) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی منڈی کے حساب سے بھی پاکستان میں پیٹرول کی بنیادی قیمت 245.95 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔

اس پر ملک میں داخل ہوتے وقت 24 روپے کسٹم ڈیوٹی اور 25 پیسے کی ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ لگا کر درآمدی قیمت 271.27 روپے کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد ملک بھر میں ایک ہی قیمت رکھنے کے نام پر مزید 7.52 روپے کا ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM) شامل کیا جاتا ہے۔ پھر اس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا منافع 7.87 روپے اور پیٹرول پمپس کا منافع 8.64 روپے فی لیٹر شامل ہوتا ہے۔

حکومت اس پر مزید 2.50 روپے کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی اس جواز کے ساتھ لگاتی ہے کہ یہ پیٹرول ملک کی فضا کو آلودہ کرتا ہے، اور پھر اس پر 160 روپے فی لیٹر کے حساب سے پیٹرولیم لیوی عائد کی جاتی ہے۔ یوں ایک صارف فی لیٹر پیٹرول کے 458.41 روپے ادا کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ نظرِ ثانی میں ہی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی شرح 105 روپے سے بڑھا کر 160 روپے کر دی ہے۔

پاکستان میں پیٹرول میں ہوش ربا اضافہ، کیا حکومت واقعی مجبور تھی؟

گریٹ ڈپریشن

کان کنوں کی ہڑتال نے کیسے خواتین کی زندگی کو نیا رخ عطا کیا؟

اب اس کا موازنہ ڈیزل کی قیمت سے کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ڈیزل بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگا ہے اور اس کی پاکستان میں قیمت 459.97 روپے بنتی ہے، جس پر حکومت نے 35.73 روپے کسٹم ڈیوٹی لگا کر قیمت 496.97 روپے تک پہنچا دی ہے۔ دیگر تمام مارجنز اور کلائمیٹ لیوی ملا کر یہ قیمت 520.35 روپے فی لیٹر بنتی ہے جس پر ڈیزل عوام کو مہیا کیا جا رہا ہے۔

حکومت نے ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی فی الحال صفر رکھی ہے جبکہ پیٹرول پر اسے 160 روپے کر دیا گیا ہے۔ اگر حکومت ڈیزل کے برابر ہی پیٹرول پر ٹیکس وصول کرے تو آج فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 306 روپے تک ہوتی۔

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کو اپنی آمدنی کا سب سے آسان ذریعہ سمجھتی ہے، جہاں عوام کی جیب سے براہِ راست اربوں روپے نکالے جاتے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کا تعین اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ عوام کتنا بوجھ برداشت کر سکیں گے۔

حکومت ہمیشہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں اضافے کا جواز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مطالبات کو قرار دیتی ہے، لیکن یہاں ایک بڑا تضاد موجود ہے۔ آئی ایم ایف کے وہ مطالبات جو عام آدمی پر بوجھ ڈالتے ہیں (جیسے بجلی، گیس اور پیٹرول مہنگا کرنا) فوراً تسلیم کر لیے جاتے ہیں، لیکن وہ شرائط جو مراعات یافتہ طبقے کی جوابدہی سے متعلق ہیں، انہیں فائلوں کی نذر کر دیا جاتا ہے۔

موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہی حکومت نے درجنوں ایسے اقدامات کیے جو آئی ایم ایف کے نام نہاد "سخت گیر” رویے کے بیانیے پر سوالیہ نشان ہیں۔

موجودہ دورِ حکومت میں آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ہی سینئر بیوروکریسی کے لیے 100 فیصد تک "ایگزیکٹو الاؤنس” کی منظوری دی گئی، جس نے گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی تنخواہوں کو حقیقت میں دوگنا کر دیا۔ ان افسران کو ملنے والی مراعات محض تنخواہ تک محدود نہیں ہیں، بلکہ گریڈ 19 سے 22 کے افسران کو ماہانہ 400 سے 600 لیٹر تک مفت پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، جس کی مالیت موجودہ قیمتوں پر لاکھوں روپے بنتی ہے۔ اس کے علاوہ مفت بجلی، لامحدود یوٹیلٹی الاؤنسز اور سرکاری بنگلوں کی موجودگی میں ہاؤس رینٹ کی مد میں بھاری رقوم کی ادائیگی عوامی ٹیکسوں کا بدترین زیاں ہے۔ ان مراعات میں کمی کے حوالے سے آئی ایم ایف کی کوئی شرط حکومت نے تسلیم نہیں کی ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اور پارلیمنٹیرینز پر اٹھنے والے اخراجات بھی عوامی بوجھ میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک جج بنیادی تنخواہ کے علاوہ کام کرنے کے عوض "جوڈیشل الاؤنس” لیتے ہیں، جو ماہانہ دس لاکھ روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ حال ہی میں ججز کے ہاؤس رینٹ الاؤنس کو ساڑھے تین لاکھ سے بڑھا کر چھ لاکھ روپے ماہانہ تک کر دیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے ایک جج پر تنخواہ، پروٹوکول، سیکیورٹی اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی مراعات کی مد میں عوام کے ٹیکس سے ماہانہ 25 سے 30 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلی کے ہر رکن کو تنخواہ کے علاوہ پارلیمنٹ کے سیشن میں شرکت پر ٹی اے اور ڈی اے الاؤنسز دیے جاتے ہیں۔ اجلاسوں میں شرکت کے لیے آنے جانے کے سفری واؤچرز کے علاوہ علاج معالجے کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے صرف ہوتے ہیں۔

ایک وفاقی یا صوبائی وزیر کا پروٹوکول، دفتر کے اخراجات اور صوابدیدی فنڈز عوامی خزانے پر ماہانہ کئی کروڑ روپے کا بوجھ ڈالتے ہیں، لیکن ان پر آئی ایم ایف کے اعتراضات کو کسی حکومت نے درخورِ اعتنا نہیں سمجھا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پالیسی کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی ہم آہنگی دیکھنے کو ملتی ہے۔ حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو، آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور عوام پر پیٹرولیم بم گرانے میں کسی نے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ سب نے اپنے اپنے دور میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو آئی این ایف کے مطالبہ اور "ناگزیر” قرار دیا۔ اس کے برعکس سبھی نے اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ بڑے جاگیرداروں، ریئل اسٹیٹ ٹائیکونز، بڑے صنعت کاروں اور ریٹیل سیکٹر کے بڑے تاجروں پر ٹیکس لگانے کا جب بھی مطالبہ آیا، تمام حکومتوں نے مصلحت پسندی سے کام لیا۔ دفاعی بجٹ، بیوروکریسی اور پارلیمنٹیرینز کی مراعات میں آئی ایم ایف کے مطالبات کو پس پشت ڈال کر مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت کے پاس ایسے "اندھے پیروکار” موجود ہیں جو اپنی قیادت کی ہر غلط معاشی پالیسی اور عوام دشمن طرزِ عمل کا دھڑلے سے دفاع کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی استحکام کے نام پر صرف غریب اور متوسط طبقے کی قربانی دی جا رہی ہے۔

جب تک آئی ایم ایف کے وہ مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے جن کا تعلق بیوروکریسی کے اخراجات میں کمی، اشرافیہ پر ٹیکس اور نظام میں شفافیت سے ہے، ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ پاکستان کو اس وقت "اشرافیہ بچاؤ” کے مقابلے میں "عوام بچاؤ” تحریک کی ضرورت ہے۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔