Iran’s security chief Ali Larijani علی لاریجانی ایران کے سیکیورٹی چیف

علی لاریجانی زندہ رہے گا!

·


اسرائیل کہتا ہے ہم نے عمانویل کانٹ کے فلسفے پر پی ایچ ڈی کرنے والے ایرانی سیکورٹی چیف لاریجانی کو ماردیا۔ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اس کی زندگی طویل تر کردی۔

تین جون انیس سو اٹھاون کو نجف میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ نجف۔ عراق کا وہ شہر جہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مزار ہے اور جہاں صدیوں سے شیعہ علم کی روایت زندہ ہے۔ باپ کا نام مرزا ہاشم آملی تھا، مازندران سے تعلق تھا، بڑا عالم دین تھا، اور پہلوی بادشاہت کے دباؤ سے بچنے کے لیے انیس سو اکتیس میں نجف آ گیا تھا۔ تیس سال نجف میں رہا۔ پھر انیس سو اکسٹھ میں واپس ایران آیا۔ بچے کی عمر تین سال تھی۔

اس بچے کا نام علی اردشیر لاریجانی تھا۔

ٹائم میگزین نے دو ہزار نو میں لاریجانی خاندان کو ’ایران کے کینیڈیز‘ کہا تھا۔ غلط نہیں کہا۔ پانچ بھائی۔ صادق لاریجانی عدلیہ کا سربراہ رہا۔ محمد جواد لاریجانی سفارتکار تھا اور ریاضیاتی منطق کا ماہر جس نے الفریڈ ٹارسکی کے ساتھ پڑھائی کی تھی۔ باقر اور فاضل لاریجانی اپنے اپنے شعبوں میں بلند مقام پر تھے۔ اور علی لاریجانی خود؟ وہ ان سب سے مختلف تھا۔ وہ وہ آدمی تھا جو کمپیوٹر سائنس پڑھنے گیا تھا اور واپس آیا تو کانٹ کا شاگرد بن کر آیا۔

انیس سو اناسی میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے ریاضیات اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کیا۔ اس زمانے میں شریف یونیورسٹی کا نام آریامہر تھا، شاہ کے دور کا نام، اور وہاں سے پڑھنے والے لوگ عام طور پر انجینئر بنتے تھے، پروگرامر بنتے تھے، ٹیکنوکریٹ بنتے تھے۔ لاریجانی بھی یہی راستہ اختیار کرنے والا تھا۔ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کرنا تھا۔

مگر ایک آدمی نے اس کی زندگی بدل دی۔

مرتضیٰ مطہری۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی کے قریب ترین ساتھیوں میں سے ایک۔ فلسفی۔ عالم دین۔ مفکر۔ مطہری نے لاریجانی سے کہا: کمپیوٹر چھوڑو۔ فلسفہ پڑھو۔ مغربی فلسفہ پڑھو۔ اسے سمجھو۔ اسے توڑو۔ اسے جوڑو۔

لاریجانی نے سنا۔ اور یہ فیصلہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ثابت ہوا۔

تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں ماسٹرز کیا۔ پھر پی ایچ ڈی۔ اور پی ایچ ڈی کا موضوع تھا ایمانوئیل کانٹ۔

کانٹ۔ اٹھارہویں صدی کا جرمن فلسفی جس نے مغربی فکر کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔ جس نے پوچھا تھا کہ علم کیا ہے؟ کیا ہم واقعی کچھ جان سکتے ہیں؟ جس نے ’خالص عقل کی تنقید‘ لکھی اور ثابت کیا کہ انسانی ذہن دنیا کو ویسے نہیں دیکھتا جیسی وہ ہے بلکہ اپنے سانچوں میں ڈھال کر دیکھتا ہے۔ اور جس نے وہ اصول دیا جو لاریجانی کی سیاست کی بنیاد بنا: ’صرف وہ کام کرو جس کا اصول تم چاہتے ہو کہ سب کے لیے عالمگیر قانون بن جائے۔‘ کیٹیگوریکل امپیریٹو۔ کانٹ کا اخلاقی حکم۔

لاریجانی نے کانٹ پر تین کتابیں لکھیں۔ یعنی لاریجانی صرف مذہبی سیاستدان نہیں تھا۔ وہ تہران یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کا فیکلٹی ممبر تھا۔ وہ آدمی جو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کاؤنسل کا سربراہ تھا وہی آدمی تھا جو کلاس روم میں کانٹ کی ایپسٹمولوجی پڑھاتا تھا۔ دنیا میں بہت کم سیاسی رہنما ہیں جو فلسفے کے سنجیدہ عالم ہوں۔ لاریجانی ان میں سے ایک تھا۔

اور یہی فلسفیانہ ذہن تھا جس نے اسے مذاکرات کار بنایا۔

دو ہزار پانچ میں خامنہ ای نے لاریجانی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کاؤنسل کا سیکریٹری مقرر کیا۔ یہ وہ عہدہ ہے جو ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی ذمہ داری رکھتا ہے۔ لاریجانی ایران کا چیف نیوکلیئر نیگوشی ایٹر بن گیا۔ یورپی تینوں، برطانیہ، فرانس، جرمنی سے مذاکرات شروع ہوئے۔

مگر احمدی نژاد سے اختلاف ہوا۔ احمدی نژاد شور مچانا چاہتا تھا۔ لاریجانی سوچ کر بولنا چاہتا تھا۔ احمدی نژاد دنیا کو للکارنا چاہتا تھا۔ لاریجانی دنیا سے بات کرنا چاہتا تھا۔ دو ہزار سات میں استعفیٰ دے دیا۔

مگر جوہری فائل سے رشتہ نہیں ٹوٹا۔

دو ہزار آٹھ میں قم سے پارلیمنٹ کی سیٹ جیتی۔ اسپیکر بن گیا۔ بارہ سال تک ایران کی پارلیمنٹ چلائی۔ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار بیس تک۔ تین مسلسل ٹرم۔ اور اسی دوران دو ہزار پندرہ کا جے سی پی او اے، جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن، وہ جوہری معاہدہ جو ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہوا، اس کی پارلیمانی منظوری لاریجانی نے کروائی۔ یہ آسان نہیں تھا۔ ایران کے سخت گیر دھڑے نے معاہدے کی مخالفت کی۔ سپاہ پاسداران کے کمانڈروں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ مگر لاریجانی نے پارلیمنٹ سے منظوری لے لی۔

یہ وہ آدمی تھا جو سمجھتا تھا کہ جنگ سے بچنے کا واحد راستہ بات چیت ہے۔ مگر بات چیت کمزوری سے نہیں، طاقت سے ہوتی ہے۔ کانٹ کا شاگرد جانتا تھا کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ آپ وہ کریں جو عالمگیر اصول بن سکے۔ مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اصول تب ہی لاگو ہوتے ہیں جب آپ کے پاس طاقت ہو۔ بغیر طاقت کے اصول محض خیال ہیں۔

دو ہزار بیس میں پارلیمنٹ چھوڑی۔ دو ہزار اکیس میں صدارتی انتخاب لڑنا چاہا۔ گارڈین کاؤنسل نے نا اہل قرار دے دیا۔ دو ہزار چوبیس میں دوبارہ کوشش کی۔ پھر نا اہل۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دو ہزار اکیس میں ابراہیم رئیسی کے لیے میدان صاف کیا گیا۔ لاریجانی کو ہٹایا گیا تاکہ رئیسی جیتے۔

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی شہید، اسرائیل کا دعویٰ

خامنہ ای جنگ میں کام آگئے تو جانشین علی لاریجانی ہوں گے؟

ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای شہید، ایرانی میڈیا اور پاسداران انقلاب نے تصدیق کردی

مگر لاریجانی ہٹا نہیں۔ ایکسپیڈینسی ڈسرنمنٹ کاؤنسل کا رکن رہا۔ سپریم کلچرل ریولیوشن کاؤنسل کا رکن رہا۔ اور سب سے اہم بات، خامنہ ای کا قریب ترین مشیر رہا۔ جب مارچ دو ہزار پچیس میں ٹرمپ نے ایران کو خط لکھا کہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرو تو خامنہ ای نے لاریجانی سے مشورہ کیا۔ لاریجانی نے عوامی طور پر کہا: ’اگر امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔‘

یہ وہ لمحہ تھا جب فلسفی نے فلسفہ رکھ دیا اور تلوار اٹھا لی۔

اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ پہلے دن خامنہ ای شہید ہوئے۔ سپاہ پاسداران کا کمانڈر محمد پاکپور مارا گیا۔ علی شمخانی مارا گیا۔

اور لاریجانی؟

لاریجانی ایک مارچ کو ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن پر آیا۔ خامنہ ای کے قتل کے چوبیس گھنٹے بعد۔ اور وہ آدمی جو کانٹ پر کتابیں لکھتا تھا، جو مذاکرات کا ماہر تھا، جو ’عقلی راستے‘ کی بات کرتا تھا، اس نے آگ اگلی۔

’امریکہ اور صہیونی حکومت نے ایرانی قوم کا دل جلایا ہے۔ ہم ان کے دل جلائیں گے۔ ہم صہیونی مجرموں اور بے شرم امریکیوں کو ان کے اعمال پر پشیمان کریں گے۔‘

ہارعتس نے لکھا: ’لاریجانی ایران کا سب سے طاقتور آدمی ہے۔‘ آسٹریلین نے لکھا: ’ایران کا عملی جنگی رہنما۔‘ نیویارک ٹائمز نے لکھا: ’لاریجانی جنوری دو ہزار چھبیس سے عملی طور پر ایران چلا رہا ہے۔‘

اور وہ ایران چلاتا رہا۔ سترہ دن تک۔

اکتوبر دو ہزار پچیس میں لاریجانی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے تعاون کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔ فروری دو ہزار چھبیس میں عمان کی ثالثی سے امریکہ سے بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔ لاریجانی نے عوامی طور پر کہا: ’مذاکرات عقلی راستہ ہیں۔ امریکہ نے سمجھ لیا ہے کہ فوجی آپشن ممکن نہیں۔‘ مگر یہ سفارتی دروازہ اٹھائیس فروری کو بم سے اڑا دیا گیا۔

اور اب۔ آج۔ سترہ مارچ دو ہزار چھبیس۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ رات گئے اسرائیلی فضائی حملے میں علی لاریجانی مارا گیا ہے۔ آئی ڈی ایف نے تصدیق کی ہے کہ لاریجانی کو نشانہ بنایا گیا۔ ساتھ ہی بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو بھی مارنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایران نے تصدیق نہیں کی ہے۔

یہ بات اہم ہے۔ کیونکہ اسرائیل نے پہلے بھی ایسے دعوے کیے ہیں جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ مگر ایک بات ہے جو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ ایران نے لاریجانی کی موت کی تردید نہیں کی بلکہ ’لاریجانی کے دفتر‘ سے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا بیان جاری ہوا ہے جو بحریہ کے شہداء کے جنازے کے حوالے سے ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے خود نوٹ کیا ہے کہ ’یہ بیان اسرائیلی دعوے کی تردید نہیں کرتا۔‘

اگر لاریجانی شہید ہوگئے ہیں تو یہ اٹھائیس فروری کے بعد سب سے بڑا نشانہ ہے۔ خامنہ ای کے بعد۔ کیونکہ خامنہ ای روحانی رہنما تھا۔ لاریجانی عملی رہنما تھا۔ وہ آدمی جو فیصلے کرتا تھا۔ جو مذاکرات کرتا تھا۔ جو جنگ چلاتا تھا۔ جو جنوری کے مظاہروں کو کچلتا تھا۔ جو سپاہ پاسداران اور عدلیہ اور پارلیمنٹ اور مذہبی طبقے سب سے رابطہ رکھتا تھا۔

مگر یہاں ایک گہری بات ہے جو اسرائیل نہیں سمجھتا۔

لاریجانی ایران نہیں تھا۔ لاریجانی ایران کے نظام کی ایک پیداوار تھا۔ اور نظام فرد سے نہیں مرتا۔ خامنہ ای گئے تو مجتبیٰ آ گیا۔ قاسم سلیمانی مارا گیا تو اسماعیل قاآنی آ گیا۔ ابراہیم رئیسی ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوئے تو پزشکیان آ گیا۔ اور اگر لاریجانی مارا گیا ہے تو کوئی اور آئے گا۔

اسرائیل سربراہ مار رہا ہے۔ مگر جسم زندہ ہے۔

لاریجانی اگر رخصت ہوئے تو اپنا اصل کام کرگئے۔ وہ اپنا حق ادا کر گئے۔

لاریجانی نے خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کو بکھرنے سے بچایا۔ سپاہ پاسداران اور ریگولر آرمی کے درمیان رابطہ قائم رکھا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو ولی فقیہ کے طور پر بٹھایا۔ آئینی عمل جاری رکھا۔ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا مگر جنگ سے پیچھے نہیں ہٹا۔ جنوری کے مظاہروں کو کچلا، جس پر امریکہ نے پندرہ جنوری کو اس پر پابندیاں لگائیں۔ اور جب جنگ شروع ہوئی تو وہ آدمی جو ’عقلی راستے‘ کی بات کرتا تھا اس نے ’نا فراموش سبق‘ سکھانے کی بات کی۔

لاریجانی نے اپنا کام کر دیا تھا۔

اگر وہ واقعی مارا گیا ہے تو ایران کا نظام اس کے بغیر بھی چلے گا۔ کیونکہ لاریجانی نے وہ ڈھانچہ کھڑا کر دیا تھا جو اب کسی ایک شخص پر منحصر نہیں۔ خامنہ ای نے تین ممکنہ جانشینوں کے نام رکھے تھے۔ مجتبیٰ بیٹھ چکا ہے۔ پزشکیان صدر ہے۔ فوج لڑ رہی ہے۔ میزائل چل رہے ہیں۔ ہرمز بند ہے۔

اور اگر نہیں مارا گیا؟ تو اسرائیل کا ایک اور دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوگا۔ جیسے مجتبیٰ کی موت کا دعویٰ تھا۔

مگر لاریجانی کی کہانی صرف لاریجانی کی نہیں ہے۔ یہ ایران کے نظام کی کہانی ہے۔

وہ نظام جس نے ایک فلسفی کو جنگجو بنایا۔ ایک مذاکرات کار کو جنرل بنایا۔ ایک پروفیسر کو قوم کا محافظ بنایا۔ اور جب وہ محافظ مارا گیا، یا مارا جانے کا دعویٰ ہوا، تو نظام نے ایک اور محافظ کھڑا کر دیا۔

اسرائیل سوچتا ہے کہ سربراہ مار دو تو جسم گر جائے گا۔

کانٹ نے لکھا تھا: ’جرأت کرو اپنی عقل استعمال کرنے کی۔‘سیپیرے آؤدے۔ یہ روشن خیالی کا نعرہ تھا۔

لاریجانی نے اپنی عقل استعمال کی۔ پہلے فلسفہ پڑھا۔ پھر مذاکرات کیے۔ پھر جب مذاکرات کا دروازہ بم سے اڑایا گیا تو جنگ لڑی۔ اور اگر آج رات واقعی اس کی آخری رات تھی تو وہ اس دنیا سے یہ جان کر گیا کہ اس نے اپنا کام کر دیا تھا۔

نظام کھڑا ہے۔ مجتبیٰ کرسی پر ہے۔ فوج لڑ رہی ہے۔ ہرمز بند ہے۔ دنیا نے اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اور اگلا آدمی پرچم اٹھائے کھڑا ہے۔ ایران میں ہمیشہ اگلا آدمی کھڑا ہوتا ہے۔ یہ کسی ایک شخص کا نظام نہیں ہے۔ یہ ایک خیال کا نظام ہے۔ اور خیال گولی سے نہیں مرتا۔

کانٹ کا شاگرد جا سکتا ہے۔ مگر کانٹ کا سبق نہیں جائے گا۔

وہ سبق جو کہتا ہے: صرف وہ کام کرو جسے تم عالمگیر قانون بنانا چاہتے ہو۔

ایران کا عالمگیر قانون ایک ہے: جھکنا نہیں۔

اور یہ قانون کسی ایک آدمی کے مرنے سے نہیں بدلتا۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔