امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پریشان

کون جائے ٹرمپ کی مدد کو؟

·

اگرچہ میدان جنگ کی صورت حال کو ’دلچسپ‘ نہیں کہنا چاہیے لیکن مجھے خلیجی خطے کی صورت حال کو بیان کرنے کے لیے اس سے بہتر لفظ نہیں مل رہا ہے۔ جب آپ جان لیں گے تو آپ بھی ایسا ہی کہیں گے۔

اب اس میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے مجبور کرنے پر ایران پر حملہ کرنے کی جو حرکت کی، وہ ان دونوں کے گلے پڑ چکی ہے۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اِدھر حملہ ہوگا، سپریم لیڈر خامنہ ای کو ہلاک کیا جائے گا، اُدھر ایران میں انقلابی حکومت کے مخالفین سڑکوں پر نکل آئیں گے، سرکاری عمارتوں پر قابض ہوجائیں گے، اور پھر واشنگٹن، تل ابیب اور تہران ایک ہو جائیں گے۔

تاہم آج دو ہفتوں سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، ایران کی انقلابی حکومت پوری مضبوطی کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ حالانکہ اس کی سیاسی، عسکری قیادت میں سے بہت سے اہم ترین لوگ شہید ہوچکے ہیں۔

اب ٹرمپ کو اپنی حماقت کا احساس ہوچکا ہے، اسے وہ شخص پوری شدت سے، بار بار یاد آرہا ہے جو دریا کنارے کھڑا تھا۔ اس نے دیکھا کہ دریا میں ایک سیاہ رنگ کا بڑی سی چیز آہستہ آہستہ بہے جا رہی ہے۔ اسے خیال گزرا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی بہت قیمتی کمبل ہو۔ چنانچہ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور دریا میں کود پڑا۔ ‘کمبل‘ کے نزدیک پہنچ کے اس نے ’ کمبل‘ کو ہاتھ ڈالا تو ’ کمبل‘ نے اسے قابو کرلیا۔ تب اسے پتہ چلا کہ یہ تو عظیم الجثہ ریچھ ہے۔ اب وہ ریچھ کے قابو سے آزاد ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا لیکن ریچھ کی گرفت ہی بہت مضبوط تھی۔

دریا کنارے اس شخص کے ساتھی اسے پکارنے لگے کہ اگر کمبل ہاتھ نہیں آرہا تو اسے چھوڑو اور واپس آجاؤ۔ وہ شخص چیخا کہ میں تو کمبل کو چھوڑ رہا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ایران بھی ٹرمپ کے لیے ایک ایسا ہی ’کمبل‘ بن چکا ہے۔ ٹرمپ کے ساتھی انہیں کہہ رہے کہ ایران پر حملہ نہ کرو لیکن ٹرمپ نے کسی کی نہ سنی اور آبنائے ہرمز کے خطے میں چھلانگ لگا دی۔ اب وہ ’کمبل‘ سے جان چھڑانا چاہ رہے ہیں لیکن ’ کمبل‘ جان نہیں چھوڑ رہا۔

خبریں ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایران تک جنگ بندی کی کچھ تجاویز مختلف ممالک کے توسط سے پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم ایران نے ان تجاویز کو قبول نہیں کیا بلکہ انھیں مسترد بھی نہیں کیا۔ اسی اثنا میں بعض امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ امریکی نمائندے اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان براہ راست رابطہ قائم ہو گیا ہے، لیکن ایران نے اس خبر کی تردید کر دی ہے۔

 ایسے میں ٹرمپ کی طرف سے ’کمبل‘ سے جان چھڑانے کی کوششیں تیز سے تیز تر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، چین، جنوبی کوریا، جاپان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کو پکارا کہ آؤ! اس کمبل سے جان چھڑاؤ لیکن ہر ایک نے صاف انکار کردیا کہ اب کی بار، نہیں سرکار۔ پہلے ہی افغانستان اور عراق میں مہم جوئی میں ساتھ دیا تھا تو کون سا نفع ملا تھا۔ الٹا اچھا خاصا جانی و مالی نقصان اٹھا کر لوٹ کے اپنے گھر ہی آنا پڑا۔

اب معاملہ یہ ہے کہ خطے کی عرب ریاستوں نے امریکا سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مہم ادھوری چھوڑ کر نہ جائے۔ ایسا ہوا تو ایران انھیں چھوڑے گا نہیں۔ جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ٹھیک ہے، پھر اس جنگ میں میرے ساتھ شامل ہوجاؤ۔ اس پر عرب ممالک جمع تفریق کرنے کے چکر میں پڑ گئے ہیں، کسی کی ہمت نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کودے۔

گزشتہ روز مغربی خبر رساں ادارے’رائٹرز‘  نے بھی ایک رپورٹ شائع کی جس میں مذکورہ بالا صورت حال کی عکاسی کی گئی ہے۔

یہ لیجیے، ’ رائٹرز‘ کی رپورٹ کا مطالعہ کرلیجیے۔

’اب جبکہ آبنائے ہرمز کا بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، خلیجی ممالک امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کو ہمیشہ کے لیے بے اثر (یا کمزور) کر دے۔

خلیجی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ خلیجی عرب ممالک نے امریکہ سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا، لیکن اب ان میں سے بہت سے ممالک امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس مہم کو ادھورا نہ چھوڑے، کیونکہ اگر ایران (اسلامی جمہوریہ) کو اس قابل چھوڑ دیا گیا کہ وہ خلیج کی تیل کی اہم گزرگاہ اور اس پر انحصار کرنے والی معیشتوں کو خطرہ بنا سکے، تو یہ مسئلہ برقرار رہے گا۔

اسی دوران، ان ذرائع اور پانچ مغربی و عرب سفارتکاروں کے مطابق، واشنگٹن خلیجی ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں شامل ہوں۔ ان میں سے تین کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اس مہم کے لیے خطے کی طرف سے حمایت کا مظاہرہ کیا جائے، تاکہ اس کی بین الاقوامی سطح پر قانونی حیثیت مضبوط ہو اور اندرونِ ملک(امریکہ) بھی اس کی حمایت میں اضافہ ہو۔

سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین عبدالعزیز بن صقر، جو حکومتی سوچ سے بھی واقف ہیں، نے کہا کہ خلیج بھر میں یہ مضبوط احساس پایا جاتا ہے کہ ایران نے ہر خلیجی ملک کے ساتھ تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شروع میں ہم نے ایرانیوں کا دفاع کیا اور جنگ کی مخالفت کی، لیکن جب انہوں نے ہم پر حملے کرنا شروع کیے تو وہ ہمارے دشمن قرار پائے۔ اب انہیں کسی اور طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔

تہران پہلے ہی اپنی پہنچ (طاقت) دکھا چکا ہے، جہاں اس نے چھ خلیجی ممالک میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، تیل کی تنصیبات اور تجارتی مراکز پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں بھی خلل ڈالا، جو ایک اہم گزرگاہ ہے جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل گزرتا ہے اور جس پر خلیجی معیشتوں کا انحصار ہے۔

ان حملوں نے خلیجی ممالک کے اس خوف کو مزید سنگین کر دیا ہے کہ اگر ایران کے پاس کوئی قابلِ ذکر جارحانہ ہتھیار یا اسلحہ بنانے کی صلاحیت باقی رہی، تو وہ کشیدگی بڑھنے پر خطے کی توانائی کی اہم گزرگاہ (تیل کی سپلائی) کو یرغمال بنا سکتا ہے۔

جیسے ہی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی، اور امریکہ و اسرائیل کے فضائی حملے تیز ہو گئے جبکہ ایران خلیج بھر میں امریکی اڈوں اور شہری اہداف پر حملے کر رہا تھا۔ ایک خلیجی ذریعے نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں کے مابین عمومی رائے بالکل واضح ہے:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر کمزور (یا تباہ) کر دینا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق دوسرا راستہ یہ ہے کہ مسلسل خطرے کے ماحول میں زندگی گزارنا پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کو سخت نقصان نہیں پہنچایا جاتا، یہ خطے کو پھر بھی یرغمال بناتا رہے گا۔

 ایران کا خلیجی ممالک کے خلاف ردعمل، حملے سے پہلے ٹرمپ کو خبردار کیا گیا تھا، ذرائع کا دعویٰ

ٹرمپ کو اہم ممالک نے ٹھینگا دکھا دیا، آبنائے ہرمز میں جنگی بیڑے بھیجنے سے انکار

ایران سے جنگ میں امریکا و اسرائیل کو مشکلات کا سامنا

شیعہ مسلمانوں کا اکثریتی ملک ایران اکثر اپنے سنی عرب خلیجی ہمسایوں، جو امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اور امریکی فوجی اڈے اپنے ہاں رکھتے ہیں، کو شدید شبہ کی نگاہ سے دیکھتا آیا ہے، حالانکہ اس کے قطر اور عمان کے ساتھ تعلقات عام طور پر کم کشیدہ رہے ہیں۔

گزرے برسوں کے دوران ایران اور اس کے علاقائی حلیفوں پر خلیج میں توانائی کے اہم تنصیبات پر حملوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، خاص طور پر 2019 میں سعودی عرب کی ابقعیق اور خورایس تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے — جن کے لیے ایران نے خود ذمہ داری قبول نہیں کی تھی — جس کی وجہ سے سعودی تیل کی پیداوار نصف ہو گئی اور توانائی کی مارکیٹوں میں ہلچل مچ گئی۔
خلیجی رہنماؤں کے لیے اب بے عملی زیادہ بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

اس ماہ ایران کے حملوں کا اثر صرف مادی نقصان تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ نہ صرف تیل کی ترسیل کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ خلیجی ممالک کی اُس محنت سے قائم کی گئی استحکام اور سیکورٹی کی ساکھ بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، جو ان کے تجارتی اور سیاحتی مواقع بڑھانے اور فوسل ایندھن کی برآمدات پر کم انحصار کرنے کے منصوبوں کی بنیاد رہی ہے۔
ابن صقر نے کہا، ’اگر امریکی اپنا مشن مکمل ہونے سے پہلے واپس نکل گئے، تو ہمیں ایران کا سامنا تن تنہا کرنا پڑے گا۔‘

ان خدشات کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب میں، وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ ایران کی وہ صلاحیت تباہ کر رہا ہے جس سے وہ یہ ہتھیار فائر کر سکتا ہے یا مزید بنا سکتا ہے، اور یہ بھی کہا کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں سے قریبی رابطے میں ہیں۔

خلیج کے تمام ممالک میں صرف متحدہ عرب امارات نے ردعمل ظاہر کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ’تنازعات یا کشیدگی میں ملوث ہونے کی خواہش نہیں رکھتا‘، لیکن ساتھ ہی اس نے اپنے حق کی تصدیق کی کہ وہ ’اپنی خودمختاری، سلامتی اور سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر سکتا ہے‘  اور اپنے رہائشیوں کی حفاظت یقینی بنا سکتا ہے۔

علاقائی ذرائع نے کہا کہ کسی بھی خلیجی ملک کی طرف سے یکطرفہ فوجی کارروائی زیر غور نہیں ہے، کیونکہ صرف اجتماعی مداخلت ہی یہ یقینی بنا سکتی ہے کہ کوئی ایک ملک انتقامی کارروائی کے خطرے میں نہ آئے۔

اس کے علاوہ، اتفاق رائے ابھی تک حاصل نہیں ہوا ہے۔ خلیج تعاون کونسل(GCC) کے چھ رکن ممالک — بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات — نے صرف ایک ہی زوم کال کی ہے، اور کوئی عرب سربراہی اجلاس بھی منعقد نہیں کیا گیا کہ مشترکہ کارروائی پر بات کی جا سکے۔

خلیجی رہنما اب بھی اس بات سے گہرا خوف محسوس کرتے ہیں کہ کوئی بھی قدم وسیع اور ناقابل کنٹرول تنازعہ کو جنم دے سکتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے پچھلے ہفتے کہا کہ خلیجی شراکت دار ’اور زیادہ سرگرم ہو رہے ہیں‘ اور وہ ’حملہ کرنے کے لیے تیار‘ ہیں، جبکہ وہ پہلے ہی واشنگٹن کے ساتھ مشترکہ اور مربوط فضائی دفاع پر کام کر رہے ہیں، اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ مزید کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ان کے ملک نے احتیاط کا دامن تھامنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ ایران نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے خارگ جزیرہ پر حملہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کا استعمال کیا، جو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز کا مقام ہے۔

ابن صقر نے کہا کہ سعودی عرب، جو خطے میں اثر و رسوخ کے لیے ایران کا سب سے بڑا حریف ہے، کو جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے اگر ایران نے سرخ لکیروں کو عبور کیا، خاص طور پر اگر وہ بڑے تیل کے تنصیبات، پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر حملے کرے یا بھاری جانی نقصان پہنچائے:
’ایسی صورت میں سعودی عرب کے پاس مداخلت کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ ریاض پھر بھی اپنی کسی بھی ردعمل کو محتاط انداز میں طے کرے گا تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

خلیجی ممالک اس وقت ایک مشکل صورتحال میں ہیں۔ انہیں دو چیزوں کے درمیان توازن رکھنا ہے:

ایک طرف انھیں ایران کے فوری حملوں کا خطرہ ہے۔ دوسری طرف ایک بڑی جنگ میں الجھ جانے کا خطرہ، جو امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں ہو سکتی ہے۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پالیٹیکل سائنس کے سابق ڈائریکٹر فواز جرجس کہتے ہیں کہ اگر خلیجی ممالک اس جنگ میں شامل ہو جائیں، تو امریکہ کی فوجی طاقت میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا، لیکن ایران کے ردعمل کے خطرے میں بہت اضافہ ہو جائے گا۔

لہٰذا، خلیجی ممالک نے محتاط رویہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ محتاط رویہ کیا ہے:

اپنی خودمختاری اور تحفظ کو برقرار رکھنا، ایران کے لیے واضح کرنا کہ کون سی حدیں عبور نہیں کی جا سکتیں، مگر ایسی جنگ میں شامل نہ ہونا جس کا آغاز انہوں نے نہیں کیا اور جس پر ان کا کنٹرول نہیں ہے۔

فی الحال ایران کی طاقت واضح ہے۔ وہی یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ کون سے جہاز ہرمز کے تنگ راستے سے گزر سکتے ہیں۔ اور یہ (ایران کی حیثیت)کوئی بھی خلیجی ملک قبول نہیں کرتا۔

برنارڈ ہییکل، جو پرنسٹن یونیورسٹی میں مشرق وسطی کے مطالعات کے پروفیسر ہیں، کہتے ہیں:
’اب جب کہ ایران نے دکھا دیا ہے کہ وہ ہرمز کو بند کر سکتا ہے، خلیجی خطہ ایک بالکل مختلف خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر اس کا حل نہ نکالا گیا تو یہ خطرہ طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔‘

اتوار کو ٹرمپ نے، ابتدائی طور پر زیادہ کامیابی کے بغیر، ایک ایسے ممالک کے اتحاد کی اپیل کی جو ہرمز کے راستے کو دوبارہ کھولنے میں مدد کریں۔

ہییکل نے کہا کہ اگرچہ عالمی معیشت خلیج کے تیل اور گیس پر انحصار کرتی ہے، زیادہ تر توانائی چین، جاپان اور دیگر ایشیائی معیشتوں کی طرف جاتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بھی اس مسئلے میں حصہ ڈالنا ہوگا۔

ہییکل کہتے ہیں: ’چین نے پہلے صومالیہ کے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے میں مدد کی تھی؛ ہو سکتا ہے وہ یہاں بھی مداخلت کرنے کے لیے تیار ہو۔‘

یہ تو تھی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ۔

اب آئیے! اس نکتہ پر غور کرتے ہیں کہ عرب ممالک کا کہنا مانتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مہم پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ٹھان لی تو پھر کیا ہوگا؟ عرب ممالک میدان میں کودنے کو تیار نہیں۔ چین، جاپان اور دیگر ایشیائی ممالک بھی ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ یورپی یونین، برطانیہ بھی صاف انکار کرچکے، ایسے میں امریکا اور اسرائیل اکیلے ہی لڑتے رہیں گے، زخم دیتے رہیں گے، زخم کھاتے رہیں گے۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ ایران کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، امریکا کے پاس بہت کچھ ہے۔ وہ سب کچھ جس کے بل بوتے پر وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ اور جنگ تو بڑی سے بڑی معیشت کا بھرکس نکال دیتی ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں